چترال: مورخہ سترہ جنوری دو ہزار چھبیس چترال میں منعقدہ ایک تعزیتی ریفرنس میں مقررین نے ممتاز شاعر، نثر نگار، اداکار اور گلوکار اقبال الدین سحر کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ اقبال الدین سحر نے کھوار زبان میں ادب کی نئی اصناف متعارف کرائیں، جن میں مزاحیہ تحریر بھی شامل ہے، اور ان کا اچانک انتقال چترال اور گلگت بلتستان کی کھوار بولنے والی وادیوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
یہ تعزیتی ریفرنس چترال پریس کلب کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا جس سے مولانا اسرارالدین الہلال، پروفیسر ظہورالحق دانش، عیدالحسین، شہزادہ تنویرالملک، محکم الدین محکم، خالد ظفر، سریرالدین اور دیگر نے خطاب کیا۔
ریڈیو پاکستان کے اسٹیشن ڈائریکٹر جاوید اقبال کا تحریر کردہ مقالہ ظہیرالدین نے پڑھا جبکہ صلاح الدین صالح کا مقالہ شاہ مراد بیگ نے پیش کیا۔ مرحوم شاعر کو پروفیسر اسرارالدین اور شوکت الدین نے منظوم خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔
مقررین نے کہا کہ اقبال الدین سحر اپنے اعلیٰ اخلاق، خوش مزاجی اور لوگوں سے حسنِ سلوک کے لیے بھی مشہور تھے۔
انہیں کھوار ثقافت کا امین، فن کے افق پر ایک روشن ستارہ، ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، نعت خواں، مزاح نگار اور موسیقار قرار دیا گیا۔ مقررین کے مطابق ان کے الفاظ محض جملے نہیں بلکہ روح کی دھڑکن تھے، وہ بہترین نظامت کار اور کلام کے جادوگر تھے جو لفظوں سے خواب بُنتے تھے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ اقبال الدین سحر اسلامیہ کالج پشاور میں نامور شاعر احمد فراز کے شاگرد رہے۔ انہوں نے پچاس برس سے زائد عرصے تک ریڈیو پاکستان پشاور اور چترال سے وابستگی رکھی اور بطور اسپورٹس کمنٹیٹر چترال اور گلگت کے پولو گراؤنڈز میں شائقین کو مسحور کیے رکھا۔
مقررین نے کہا کہ جب وہ مائیک سنبھالتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے یہ آلہ صرف انہی کے لیے ایجاد کیا گیا ہو۔ ان کی میزبانی اور شاعری کی ترنم آمیز ادائیگی سامعین کو سحر میں مبتلا کر دیتی تھی۔
یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اقبال الدین سحر ملک کے پہلے شاعر تھے جن کی شاعری کی کتاب ’آرزوئے سحر‘ کیو آر کوڈ کے ساتھ شائع ہوئی، جس کے ذریعے قاری نہ صرف شاعری پڑھ سکتا تھا بلکہ شاعر کی اپنی آواز میں اسے سن بھی سکتا تھا۔
—
بشکریہ: روزنامہ ڈان، 19 جنوری 2026
اردو ترجمہ
Related:

