داد بیداد
ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
امن کے نوبل انعام کی دوڑ میں سب سے آگے ہونے والے لیڈر نے بیک وقت وینزویلا، گرین لینڈ اور ایران کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے، فوجوں کو محاذ پر بھیج دیا ہے اور جہازوں کو چوکس کر دیا ہے۔
عالمی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے تین گروہ اس موضوع پر الگ الگ خیال رکھتے ہیں۔ پہلے گروپ کا خیال ہے کہ قدرتی وسائل پر قبضے کے لیے جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ وینزویلا اور گرین لینڈ میں کمیونسٹوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے، ایران میں مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ لڑی جا رہی ہے۔
تیسرے گروہ کا تجزیہ ذرا مختلف ہے۔ اس گروہ کی رائے یہ ہے کہ اس وقت کوئی مقامی لڑائی نہیں ہو رہی، یہ عالمی چودہراہٹ کی آخری لڑائی ہے۔ امریکہ پوری دنیا پر اپنی آمریت یا ڈکٹیٹر شپ قائم کرنے کے لیے سرپیر مار رہا ہے۔ واشنگٹن جب بھی جنگ کا بازار گرم کرتا ہے، وہ میدان جنگ کے لیے 8 ہزار کلومیٹر یا 10 ہزار کلومیٹر دور کسی آبادی کا انتخاب کرتا ہے۔ ایسے میدان میں جنگ ہوتی ہے تو امریکہ کا نقصان نہیں ہوتا۔ ایک بھی امریکی شہری نہیں مرتا، امریکہ کا کوئی پل تباہ نہیں ہوتا، اس کی کوئی سڑک بر باد نہیں ہوتی، کوئی کارخانہ، کوئی تعلیمی ادارہ یا کوئی ہسپتال بمباری کی زد میں نہیں آتا۔
غزہ، شام، عراق، افغانستان وغیرہ کی مثالیں دیکھیں، امریکہ نے ان جنگوں سے کھربوں ڈالر کمائے، جبکہ ہزاروں کلومیٹر دور پار کے ملکوں میں تباہی اور بربادی آئی۔ تازہ ترین جنگ میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ اس وقت عالمی منظرنامے پر چار طاقتیں ہیں جو عالمی چودہراہٹ کی دوڑ میں شریک ہیں۔ پہلے نمبر پر عوامی جمہوریہ چین ہے، دوسرے نمبر پر روس ہے، تیسرے نمبر پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے، جبکہ چوتھے نمبر پر بھارت، برازیل، ترکی اور آسٹریلیا سمیت 19 ممالک کا غیرجانبدار گروپ ہے۔ اس گروپ کے پاس صنعتی اور معاشی طاقت بھی ہے، فوجی طاقت بھی ہے، پرعزم قیادت بھی ہے۔ یہ گروپ چاہے تو جنگ کا پانسہ پلٹ دے گا۔
واشنگٹن کا ڈکٹیٹر جب اعلان کرتا ہے کہ میں وینزویلا، گرین لینڈ اور ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا، تو مجھے جرمن فلاسفر، سیاستدان اور چانسلر بسمارک کا قول یاد آتا ہے۔ انہوں نے 1873 میں دنیا کو خبردار کیا تھا کہ “ایک قوم اُٹھے گی جس کی کوئی تاریخ نہیں ہو گی، تہذیب نہیں ہوگی، اس کے سماجی اقدار یا نہیں ہوں گے، اگر ایسی قوم دنیا پر مسلط ہو گئی تو دنیا تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔”
دوسری جنگ عظیم کے بعد 80 سالوں میں امریکہ نے جاپان اور کوریا سے لے کر ویتنام، افغانستان اور شام تک 38 ممالک پر حملے کیے۔ ان جنگوں میں سات کروڑ بے گناہ لوگ مارے گئے اور بسمارک کی پیش گوئی حرف بحرف درست ثابت ہو گئی۔ امریکہ کی موجودہ جنگ ایران تک محدود نہیں ہو گی، بلکہ پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ 1980 میں مشہور مورخ ڈاکٹر چوسوڈوسکی نے عظیم تر اسرائیل کا جو نقشہ شائع کیا ہے، اس نقشے میں اسرائیل کی مشرقی سرحد واہگہ پر بھارت کی سرحد سے ملتی ہے اور نوبل امن انعام کی دوڑ میں جو سب سے آگے ہے، وہ عظیم تر اسرائیل کے ذریعے عالمی چودہراہٹ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے۔

