زین الملوک
اقبال الدین سحرؔ محض ایک نام نہیں تھے، ایک عہد تھے: ایسا عہد جس میں آواز، لفظ، لے اور جذبہ ایک دوسرے میں گھل کر کھوار ثقافت کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔ وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے اور سچ تو یہ ہے کہ سحرؔ پر ناز کرنا، ان پر فخر کرنا، ہماری ثقافتی روایت کا حصہ بن چکا ہے۔ کھوار موسیقی ہو یا شاعری، گلوکاری ہو یا ادب، کمپیرنگ ہو یا کھوار میں کھیلوں پر رواں تبصرہ، طنز و مزاح ہو یا سنجیدہ اظہار سحرؔ نے ہر میدان میں ایسے نقوش چھوڑے ہیں جو وقت کی گرد سے کبھی مدھم نہیں ہوں گے۔ آنے والے زمانے ان کا نام احترام سے لیں گے اور کھوار ادب و ثقافت میں ان کی خدمات پر ہمیشہ ناز کیا جاتا رہے گا۔
کھوار کمپیرنگ کو سحرؔ نے محض اسٹیج کی حد تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے ایک زندہ، متحرک اور باوقار فن کی حیثیت دی۔ معین اختر کے انداز سے متاثر ہو کر، مگر اپنی مٹی کی خوش بو اور اپنی زبان کی مٹھاس کے ساتھ، انھوں نے کمپیرنگ کو ایک نئی جہت عطا کی، ایسی جہت جس کی پیروی بعد کے تمام میزبانوں نے کسی نہ کسی صورت میں کی۔
سن 1951 میں چترال کے خوب صورت گاؤں شوغور میں آنکھ کھولنے والے اقبال الدین سحرؔ کی رگوں میں فن وراثت کی صورت بہتا تھا۔ ان کے دادا درویش غازی وادی پھنڈر (غذر) کے سرسبز گاؤں چھاشی سے چترال آئے تو اعلیٰ حضرت شجاع الملک نے انہیں شوغور میں جاگیر عطا کی اور اپنی ریاستی باڈی گارڈ میں ایجوٹینٹ مقرر کیا۔ یہ محض ایک تاریخی حوالہ نہیں، بلکہ اس خانوادے کی وقار آمیز روایت کا آغاز تھا۔ سحرؔ کے والد رحمت الدین اپنے عہد کے نامور ستار نواز اور گلوکار تھے اور یہی وجہ ہے کہ سحرؔ کی ستار نوازی اور گلوکاری میں ہمیں باپ کی آواز اور بیٹے کی روح ایک ساتھ سنائی دیتی ہے …. ہو بہ ہو، مگر نئے ذوق کے ساتھ۔
تعلیم کے سفر میں بھی سحرؔ نے سادگی اور وقار کو اپنائے رکھا۔ گورنمنٹ ہائی اسکول شوغور سے مڈل، گورنمنٹ ہائی اسکول چترال سے میٹرک، اسلامیہ کالج پشاور سے ایف اے اور بی اے، اور پھر پشاور یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ یہ تعلیمی مراحل ان کے فکری افق کو وسیع کرتے چلے گئے اور فن کو شعور کی گہرائی عطا کرتے گئے۔
شاعری سحرؔ کے لیے محض اظہار نہیں، عبادت تھی۔ بچپن ہی سے شعر کہنا شروع کیا۔ ابتدا میں صابرتخلص رکھا، مگر پھر سحرؔ کا انتخاب کیا اور واقعی، اس تخلص کے بعد وہ خود بھی سحر بن گئے اور دوسروں کو بھی اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ ان کی آواز میں محبت، خلوص اور وفا ایسے اترتی تھی جیسے لفظ سانس لیتے ہوں۔ وہ صرف گاتے نہیں تھے، احساس منتقل کرتے تھے۔ ان کی شاعری کی طرح ان کی ترتیب دی ہوئی دھنیں بھی اپنی مثال آپ تھیں: سادہ، مگر دل میں اتر جانے والی۔
ہم میں سے بہت سوں کے لیے سحرؔ کی آواز بچپن کی یادوں کا حصہ ہے۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ان کے گیت، اور پھر گھروں میں بجنے والی کیسٹس جن میں سحرؔ کی آواز دن رات گونجتی رہتی تھی۔ جیسے جیسے ٹیپ ریکارڈر عام ہوئے، ویسے ویسے سحرؔ ہر گھر کا فرد بن گئے۔ کراچی ہو یا اسلام آباد، پشاور ہو یا چترال جہاں بھی اسٹیج سجا، اور جہاں بھی سحرؔ کو دعوت دی گئی، انھوں نے محفل کو کشتِ زعفران بنا دیا۔ آواز کا جادو ایسا کہ محفل لوٹ لی اور دل ہمیشہ کے لیے جیت لیے۔
ان کے کلام میں فلسفہ بھی ہے، خودی کی رمق بھی، عشق و محبت کی لازوال کہانیاں بھی، اور صوفیانہ سرمستی بھی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’آرزوئے سحر‘ منظرِ عام پر آیا تو اہلِ ذوق نے اسے محض کتاب نہیں، ایک فکری تجربہ قرار دیا۔ شاعری کی تمام اصناف میں انھوں نے طبع آزمائی کی، اور ہر صنف کے ساتھ پورا انصاف کیا، کہیں خیال کی بلندی، کہیں لفظوں کی نزاکت، کہیں جذبے کی آنچ۔
شندور اور چترال کے مختلف پولو گراؤنڈز میں ان کا رواں تبصرہ آج بھی لوگوں کے کانوں میں گونجتا ہے۔ وہ کھیل کو محض کھیل نہیں رہنے دیتے تھے، بلکہ اسے داستان بنا دیتے تھے۔ ایسی داستان جس میں جوش بھی ہوتا تھا اور شعور بھی۔
تقریباً پچھتر بہاریں دیکھنے کے بعد، آج وہ خوب صورت آواز پشاور میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ اقبال الدین سحرؔ ہم سے رخصت ہو گئے۔ ان کے انتقال کی خبر نے چترال اور گلگت بلتستان کو سوگوار کر دیا ہے۔ دل بجھ گئے ہیں، آنکھیں نم ہیں اور فضا میں ایک خاموشی اتر آئی ہے۔ ایسی خاموشی جس میں سحرؔ کی آواز اب بھی سنائی دیتی ہے۔
سحرؔ گئے نہیں ہیں۔ وہ اپنی آواز میں، اپنے لفظوں میں، اپنی دھنوں میں اور ہماری اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہی فن کار کی اصل حیات ہے اور یہی اقبال الدین سحرؔ کا ابدی تعارف۔
Related:

