مہتر چترال لٹکوہ روڈ پر سیاست نہ کریں

خیر الدین شادانی

یہ دستاویز جس کا حوالہ دیا جا رہا ہے، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے خیبر پختونخوا رورل روڈ ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کی ایک فہرست ہے جس میں شغور تا گرم چشمہ 21.9 کلومیٹر روڈ کو فلڈ افیکٹڈ روڈ کے طور پر شامل دکھایا گیا ہے۔

کسی بھی سڑک کا اس نوعیت کی فہرست میں شامل ہونا محض ایک پلاننگ اور اہلیت کا مرحلہ ہوتا ہے، جس کا عملی طور پر نہ فوری فنڈ ریلیز سے تعلق ہوتا ہے، نہ ٹینڈر مکمل ہونے سے اور نہ ہی آن گراؤنڈ تعمیر کے آغاز سے۔حقیقت یہ ہے کہ گرم چشمہ اور لوٹکوہ روڈ کی عملی مرمت، اسفالٹ اور کارپیٹنگ کے لیے 25 کروڑ روپے یعنی 250 ملین کی جو براہِ راست فنڈنگ، ٹینڈرنگ اور کنٹریکٹر کی موبلائزیشن کنفرم ہوئی ہے، وہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے وفاقی سطح پر ممکن ہوئی ہے۔

این ایچ اے کے افسران اس روڈ کی ایمرجنسی مرمت اور ضروری کارپیٹنگ کے لیے برسوں سے فائلیں آگے بڑھاتے رہے، تاہم فنڈز جاری نہیں ہو پا رہے تھے۔اب یہ پیش رفت وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی توجہ، پرائم منسٹر انسپیکشن کمیشن کی مسلسل فالو اپ، این ایچ اے کے چیئرمین اور ممبران، چترال میں این ایچ اے کی ٹیم اور بالخصوص گرم چشمہ روڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر این ایچ اے امیر زیب کی انتھک محنت سے ممکن ہوئی ہے۔

اسی کے نتیجے میں ٹینڈر مکمل ہو چکا ہے، ٹھیکیدار سائٹ سنبھال رہا ہے، سردیوں میں واٹر باؤنڈ اور دیگر ابتدائی کام ہوں گے اور موسمِ بہار میں مکمل اسفالٹ اور کارپیٹنگ کی جائے گی۔

لہٰذا یہ فرق واضح رہنا چاہیے کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی لسٹ میں شمولیت ایک پالیسی سطح کا مرحلہ تھا، جبکہ موجودہ 25 کروڑ روپے کی فنڈ ریلیز، ٹینڈرنگ اور عملی کام کا آغاز ایک ٹھوس اور آن گراؤنڈ پیش رفت ہے، جس کا براہِ راست فائدہ اب گرم چشمہ اور لوٹکوہ کے عوام کو ملنے جا رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest