خیرالدین شادانی
نیشنل ہائی وے اتھارٹی برسوں سے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں روپے کے فنڈز استعمال کر رہی ہے لیکن ان فنڈز کی شفافیت اور استعمال کے بارے میں عوام کو مکمل آگاہی نہیں دی گئی۔ چترال سمیت ملک کے دور دراز علاقوں میں سڑکوں کے منصوبے اکثر ادھورے رہ جاتے ہیں یا ان پر غیر معیاری کام کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے عوام کی محرومیاں مزید بڑھتی ہیں۔
اصل قیمت سے نیچے بولیاں دے کر معاہدے حاصل کرنے والے ٹھیکیدار اکثر منصوبوں کو ناقص انداز میں مکمل کرتے ہیں جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔ ان تمام بولیوں اور سب کنٹریکٹنگ کے نظام کو ختم کرنا ناگزیر ہے کیونکہ بیچ والے افراد ہی اصل کرپشن کی جڑ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کمیشن اور رشوت کے نظام کو فروغ دیتے ہیں اور ترقیاتی کاموں کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ این ایچ اے کے تمام ٹھیکوں کی اصل لاگت اور ان کی تفصیلات کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے تاکہ شفافیت قائم ہو اور عوام کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔چترال جیسے پسماندہ خطے میں ترقیاتی منصوبے اکثر سیاسی رسہ کشی، بیوروکریٹک رکاوٹوں اور ٹھیکیدار مافیا کے قبضے کی نذر ہو جاتے ہیں۔
اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ این ایچ اے کے تمام ٹھیکے چترالی ٹھیکیداروں کو ترجیحی بنیادوں پر دیے جائیں تاکہ مقامی معیشت کو بھی فائدہ ہو اور ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔پچھلی تحقیقات کی مثال لیں تو 2021 میں خیبر پختونخوا کے مختلف روڈ منصوبوں پر کرپشن کے الزامات سامنے آئے تھے، نیب اور اینٹی کرپشن نے ان منصوبوں کی انکوائری کی لیکن نتائج شفاف انداز میں عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔ یہی وہ خامی ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان تحقیقات کے نتائج بروقت عوام تک پہنچائے جاتے اور ملوث افراد کو سزا ملتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔
شہباز شریف کے دور حکومت میں “شہباز سپیڈ” کے تحت پنجاب میں کئی منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل ہوئے کیونکہ وہاں شفافیت اور سخت مانیٹرنگ کا نظام قائم تھا۔ اسی طرز کی تیز رفتاری اور نگرانی این ایچ اے میں بھی متعارف کرانی چاہیے تاکہ چترال اور دیگر پسماندہ علاقوں کی محرومیاں ختم ہوں۔ایک اور بڑی خرابی یہ ہے کہ این ایچ اے کے فنڈز اکثر صوبائی یا ضلعی سطح پر سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہوتے ہیں، جس کا کوئی منصفانہ میکانزم موجود نہیں۔ ان فنڈز کی تفصیلات نہ صرف عوامی سطح پر جاری کی جانی چاہئیں بلکہ ہر منصوبے کی پیش رفت اور معیار کی باقاعدہ رپورٹنگ آن لائن دستیاب ہونی چاہیے۔
چترال میں گزشتہ برس لواری ٹنل سے کالاش ویلی تک روڈ منصوبے پر مقامی لوگوں نے کئی بار شکایات درج کرائیں کہ سڑک کا معیار ناقص ہے اور کام سست روی کا شکار ہے، مگر کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ اگر اس وقت شفاف آڈٹ اور معاہدہ ختم کرنے کی کارروائی ہوتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔این ایچ اے کے ٹھیکیداروں کا غیر مقامی ہونا بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ وہ مقامی ضروریات اور زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ ٹھیکے دیتے وقت مقامی کمپنیوں کو ترجیح دی جائے اور ان کے ساتھ بیک چینل سب کنٹریکٹنگ پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
ایک پالیسی کے تحت یہ لازمی قرار دیا جانا چاہیے کہ ہر منصوبے کی اصل لاگت، فنڈ ریلیز، ادائیگیوں اور تکمیل کی تاریخ عوامی ویب پورٹل پر موجود ہو تاکہ کوئی بھی شخص ان تفصیلات تک رسائی حاصل کر سکے۔ماضی میں جب موٹروے منصوبوں کی شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا گیا تھا تو کئی بے ضابطگیاں سامنے آئیں اور اس کے نتیجے میں کئی کنٹریکٹر بلیک لسٹ کیے گئے۔
اسی ماڈل کو چترال کے منصوبوں پر بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔ آنے والے اکتوبر سے جب نئی ترقیاتی اسکیموں کا بجٹ جاری ہوگا، ضروری ہے کہ چترال کے عوام متحد ہو کر این ایچ اے کی پالیسیوں پر دباؤ ڈالیں اور مطالبہ کریں کہ ہر ٹھیکہ شفافیت کے ساتھ دیا جائے، کوئی بیچ والا کمیشن نہ کھائے اور منصوبے وقت پر مکمل ہوں۔سی پیک کے تحت گزرنے والے منصوبے بھی اسی کرپشن کی زد میں ہیں، جہاں مقامی کمیونٹیز کو وعدے تو کیے گئے مگر عملی طور پر انہیں شامل نہیں کیا گیا۔ یہی رویہ اگر چترال کے ساتھ جاری رہا تو یہ علاقہ ہمیشہ کے لیے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔اس کے لیے سیاسی قیادت کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ مرکز اور صوبے دونوں سطحوں پر آواز بلند کریں کہ این ایچ اے کے نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں۔ہماری پارٹی ایپلیکیشن جو ہم تیار کر رہے ہیں، اسی جدوجہد کا ایک حصہ ہوگی۔ اس کے ذریعے پارٹی ورکرز کو بروقت معلومات فراہم کی جائیں گی، ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی، عوام کی شکایات درج ہوں گی اور میڈیا مہمات چلائی جائیں گی تاکہ لوگوں کو حقائق معلوم ہوں۔چترال کے لوگ باشعور ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کون ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے اور کون ان کے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔
این ایچ اے کی موجودہ پالیسیوں کے خلاف ایک منظم مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ اصل مسائل سامنے آئیں۔ہمیں چاہیے کہ وزیر اعظم، وفاقی وزیر برائے مواصلات اور چیئرمین این ایچ اے سے باقاعدہ ملاقات کر کے یہ مطالبہ رکھیں کہ تمام پرانے اور نئے ٹھیکوں کا فنانشل اور ٹیکنیکل آڈٹ کرایا جائے۔عوام کو بھی اس مہم میں شامل کرنا ہوگا۔ جب لوگ سوال کریں گے، شفافیت کا مطالبہ کریں گے تو کسی بھی کرپٹ نیٹ ورک کے لیے کام جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔چترال کے نوجوانوں کے لیے اس موقع کو سیاست میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔ وہی نوجوان جو آج ہماری پارٹی ایپ کے ذریعے ممبرشپ کر رہے ہیں، کل اس مہم کے علمبردار ہوں گے۔اگر یہ اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے سالوں میں بھی ترقیاتی منصوبے اسی طرح رکے رہیں گے، فنڈز ضائع ہوں گے اور عوام مایوس ہوتی رہے گی۔
لہذا، یہ وقت ہے کہ این ایچ اے کی سلطنت کو ریاست کے ماتحت لایا جائے، شفافیت کو بنیاد بنایا جائے، اور چترال کو ترقی کے حقیقی راستے پر گامزن کیا جائے۔

