سلمان ھاشمی
خلاف معمول آج وہ صبح جب اٹھا تو سورج کی شعائیں پہاڑوں سے جھانک رہی تھیں۔ نہ جانے اسے کونسی بے چینی لاحق تھی۔ نیند پوری نہ ہونے کے با وجود بھی پوری ہوگی تھی. لیکن آنکھوں کے گرد ہلکے سے حلقے نمایاں ہونے کے ساتھ جلن بھی محسوس ہو رہی تھی۔ کسی سوچ میں پریشان آنکھیں آسمان کی طرف کیے کبھی خود سے باتیں کرتا کبھی پھر سے نیند پوری کرنے کی ناکام کوشش۔ اسی اثنا اس کی نظر سبز اور سفید رنگ کے کپڑے پر پڑی۔ جس کی خوبصورتی کو کچھ سرخ اور سیاہ رنگ کے داغ بد نما کر رہے تھے۔ ان رنگوں نے امر کو اپنی طرف توجہ مبذول کرنے پر مجبور کیا اور اسے یاد آیا کہ آج اسے یومِ آزادی کی تقریب پر جانا ہے۔
اس کی بے چینی تقریب کی وجہ سے تھی یا آزادی کی تقریب کی وجہ سے، کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ ہاں البتہ فیض، حسرت، جالب اور ان کے ہم خیال شخصیات کے گلے شکوؤں کو ضرور زیرِ لب گنگنا رہا تھا۔ اس نے اپنے خیالات کو ایسے سمو لیا جیسے ایک دماغ چوٹا مرد اپنی جلال لے کر نمودار ہونے پر بے بس بچّے اپنے کھلونے سمیٹتے ہیں۔ کیوں کہ آج آزادی کا دن تھا اور اسے مجبوراً اس تقریب میں شریک ہونا تھا۔
العرض امر اپنی وجود کو لیے ننھوں کے چند ننھے خواہشات اور اپنی ضروریات کا بارِ گراں بائیں کندھے پر لاد کر گھر کی دہلیز پار کر گیا۔ وُہ تھک کر کندھا بدلنے کا خیال کرتا لیکن اس خیال سے ارادہ بدل لیتا کہیں وہ ننھے خواہشات اس کا دل ہی نا نوچ ڈالیں کیونکہ ان کی جڑیں دل سے پیوستہ تھیں۔ راستے میں مختلف مناظر ان کے خیالات کو منتشر کرنے کی کوشش کرتے جن میں اکثر ناکام رہتے لیکن چند اپنا کام کیے بغیر نہ لوٹے ۔ ایک سواری گزری دیکھنے سے ہی دیکھنے کے لائق تھی۔ لیکن پہیوں کے اڑتے دھول اور ظاہری شکل سے اندازہ لگ رہا تھا کہ اس میں بیٹھا ہوا شخص بھی کبھی انسان رہ چکا ہوگا کیوں کہ اب وُہ صرف گوشت کا لوٹھڑا تھا اس کے اندر کے جذبات اور احساسات کو یا تو نظام کی بد نظمی یا پھر خود کی لالچ اور بے حسی نے چھین لیا تھا۔
یہ کسی بڑے ادارے کی بڑے توند والے سرکار کی سواری تھی۔ جس سے اڑنے والی دھول ان معصوم چہروں پر پڑ رہے تھے جو مستقبل میں اس نظام کا حصّہ بننے کی کوشش میں لگے تھے۔ ایک ادھیڑ عمر ریشِ سفید پر پڑے دھول صاف کر رہا تھا جس کے چہرے پر نقاہٹ کے ساتھ مایوسی آشکارہ تھی۔ وُہ بھی اِسی نظام کا حصّہ تھا۔ آخر کار امر تقریب گاہ میں پہنچا۔ کرسیاں بچھی تھی۔ ان میں بھی انسانوں کی طرح مختلف ذات کی کرسیاں تھی۔ کچھ اعلیٰ کچھ متوسط اور کچھ نچھلے پایے کی، جن پر دھیان نہ دینے کی وجہ سے تقریبًا بے کار سے لگ رہے تھے۔ بڑے گاڑیوں والے اعلیٰ معیار والوں کی طرف کھینچے، متوسط خود آتے اور آخر میں رہنے والے دکھیلے جاتے تھے۔ لیکن کسی نے اس منظر کی طرف دھیان دینے کو ضروری نہیں سمجھا اس دفعہ خلافِ فطرت عادت کو فطرت پر غلبہ پاتے دیکھا۔ کیوں کہ یہ معمول کی بات تھی۔
اس تقریب میں بھی سب نے دل کی بھڑاس نکال لی کسی نے عقیدت کا اظہار خوش الہانی سے کیا تو کوئی ببانگ دہل جوشِ بیانی دکھا گۓ۔ لیکن جو متاثر کن تھا۔ وہی دھول اڑانے والے صاحب، جس نے ظاہری مسکراہٹ کے ساتھ حبّ و الوطنی اور بھائی چارے کا درس ایک کاغذ پر دیکھ کر دیا۔ جس کے بعد فضا نعروں اور تالیوں سے گونج اٹھا اور بڑے سرکار اسی شاہانہ انداز سے رخصت ہوۓ ۔ وہی پہیوں سے اڑنے والا دھول آکر ان ننھے ننھے خواہشات پر پڑا اور وُہ سارے اس دھول میں اڑ گۓ۔

