MoU is not acceptable to people of Laspur

چترال(بشیر حسین آزاد)ممتاز سیاسی رہنما اور ڈسٹرکٹ کونسل کے سابق ممبر امیر اﷲ خان یفتالی نے ان خبروں پر افسوس کا اظہار کیا ہے جن میں شندور کے حوالے سے سابقہ حالت کو بدلنے اور انتشار پیدا کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایک اخباری بیان نے انہوں نے کہا ہے کہ جب بھی غذر اور لاسپور کے درمیان تنازعہ ہوا وہ کوکش لنگر پر ہو ا ہے ۔ شندور پر کبھی تنازعہ نہیں ہوا ۔شندور کا علاقہ لینڈ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخواہ کی زمین ہے اور 1929 سے اب تک شندور پولو فیسٹول کی میز بانی ہمیشہ چترال کی انتظامیہ نے کی ہے ۔ موجودہ حالات میں پشاور کے ایک ہوٹل میں بیٹھ کر صوبائی حکومت نے گلگت والوں کے ساتھ مفاہمت کی خفیہ یاد داشت پر دستخط کر کے خیبر پختونخواہ اور لاسپور کی زمین غیروں کو دینے کی نا پاک جسارت کی ہے۔ اس قسم کی کوئی یادداشت لاسپور کے عوام کو قبول نہیں ہوگی ۔امیر اﷲ خان یفتالی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کہ مذکورہ یاد داشت میں آٹھ نکات ہیں ۔ان میں سے کوئی بھی نکتہ خیبر پختونخواہ اور چترال کے حق میں نہیں ہے۔

لاسپور ایریا ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ہوتے ہوئے ہم کسی دوسرے علاقے سے آنے والی تنظیم کو قبول نہیں کریں گے اور نہ باہر کا کوئی نمائندہ ہمارے لئے قابل قبول ہوگا ۔ اگر چترال کا کوئی نمائندہ مذکورہ یاد داشت کی سازش میں ملوس پا یا گیا تو وہ لاسپور کی سر زمین پر قدم نہیں رکھ سکے گا ۔ڈسٹرکٹ کونسل کے سابق ممبر نے کہا ہے کہ میں لاسپور کے پولو ٹیم کے کپتان کے حیثیت سے بھی شندور پولو فیسٹول کے انتظامات میں شکیل درانی اور لطیف حسن چیئر مین کے زمانے سے اب تک شریک رہا ہوں غذر اور گلگت کے لوگوں نے 2009 سے پہلے چترال انتظامیہ کی میز بانی پر کبھی اعتراض نہیں کیا ۔2009 میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے ان کے اعترا ض کو سختی سے مسترد کیا اور چترال کے عوامی نمائندوں کا ساتھ دیا ۔

اپنے بیان میں امیر اﷲ خان یفتالی نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ یاد داشت کو فوراََ منسوخ کیا جائے اور شندور کی سابقہ حیثیت کو بحال رکھا جائے ۔

\"\"
]]>

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest