Risk allowance for Chitral police approved

چترال ( جہانزیب) صوبائی حکومت نے باقاعدہ طور پر چترال پولیس کے پندرہ سو سے زائد جوانوں کو رسک الاؤنس کی مد میں 16کروڑ روپے منظور کئے ہیں ۔جب کہ مزید 14کروڑ روپے جاری ہونے کے امکانات ہیں۔ جس کی وجہ سے محکمہ پولیس میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔یاد رہے کہ سابقہ حکومت نے چترال پولیس کو ملاکنڈ ڈویژن کا حصہ ہونے کے باوجود رسک الاؤنس سے محروم کیا تھا۔جس کی وجہ سے چترال پولیس نے انسپکٹر سلطان بیگ کی قیادت میں ایک کورٹ کیس بھی فائل کی تھی۔جب کہ دوسری طرف نو منتخب صوبائی حکومت سے بھی ایم پی اے بی بی فوزیہ اور ضلعی نائب صدر رضیت با اللہ کے زریعے بھی رابطہ کیا گیا جس کی بناء پر چترال پولیس کے کیس کو ایم پی اے بی بی فوزیہ اور ضلعی نائب صدر رضیت با اللہ نے انسپکٹر جنرل پولیس نا صر درانی ،ہوم ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام اور فائنانس ڈیپارٹمنٹ میں کئی اہم ملاقاتیں بھی کیں تھیں۔جس کی وجہ سے بالا آخر طویل عرصے سے کی گئی جہدو جہد کا خوش کن منطقی انجام2009سے پھنسے ہوئے رقم کی ادائیگی کی صورت میں ممکن ہوئی ۔ جس کے تحت کم سے کم تین ہزار اور زیادہ سے زیادہ چھ ہزار روپے فی کس ادایئگیاں ہونگے۔اس موقع پر انسپکٹر سلطان بیگ نے صوبائی حکومت ،انسپکٹر جنرل پولیس ناصر درانی ہوم ڈیپارٹمنٹ ،فائنانس ڈیپارٹمنٹ اور خصوصی طور پر ایم پی اے بی بی فوزیہ اور ضلعی نائب صدر رضیت با اللہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ جن کی انتھک کوششوں کی وجہ سے یہ سب کچھ ممکن ہوا۔
]]>

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest