Site icon Chitral Today

غریب خواتین کی بے توقیری کیوں؟

Women unable to get BISP stipend in Yazrkhun

This is a file photo.

تقریبا ایک دہائی سے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام سے خیراتی پیسے ملک میں غریب خاندانوں کو بانٹے جا رہے ہیں۔ غریبوں کی مالی مدد یقیناً ایک اچھا عمل ہے مگر ان پیسوں کو بانٹنے کے لیے مستحق خواتین کو ذاتی طور پر دور دراز علاقوں سے شہروں اور قصبوں میں مراکز میں بلایا جاتا ہے۔

زمانہ جدید ہو گیا ہے خاص طور پر مال کے لین دین اور خرید و فروخت میں پیسے کی منتقلی کے لیے ایک تکمے پر انگلی رکھنے سے لاکھوں روپے ایک ذخیرے کی جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس جدید دور میں ملک کی ماؤں اور بہنوں بیٹیوں کو شہروں اور قصبوں کی گلیوں میں اس خیراتی پیسے کے لیے بار بار بلا کر ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے بلکہ جن ملازمین سے ان کا پالا پڑتا ہے ان کی من مانیوں کو بھی سننا پڑتا ہے۔ نتیجتاً پردہ پوش خواتین ذلیل ہو کر بازاروں اور گلیوں میں پھرتی رہتی ہیں۔ اگر خیرات ہی دینا ہے تو عزت سے ان کے دروازے پر دے دو۔ حکومتی اداروں اور انسانی حقوق کے اداروں سے استدعا ہے کہ اس مقصد کیلئے کوئی مناسب لائحہ عمل طے کیا جائے۔

ہمارا نظام اتنا ناقص کیوں ہے کہ ان لوگوں کو بے پردگی، اذیت اور تکلیف کا سامنا رہتا ہے؟

 

محمد الیاس احمد

گولدور، چترال

Exit mobile version