پارلیمانی اور صدارتی نظام کا پاکستان کے تناظر میں موازنہ

0
الہی بخش
کچھ سوالات جن کا سیاسیات سے تعلق ہے ہمارے گفتگو کا اکثر حصہ ہوتے ہیں. جیسے کہ پارلیمانی نظام اور صدارتی نظام میں کیا فرق ہے؟ کیوں پارلیمانی نظام پاکستان کے مسائل کے حل میں ناکام ثابت ہوا ہے؟ کیوں یہ اکثر غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں کا کھیل بن جاتا ہے؟ آیا اس نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اگر اسے واقعی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تو اس کا ممکنہ متبادل کیا ہو سکتا ہے؟ اس تحریر کے زریعے ان تمام سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کی  گئی ھے۔ 
 سب سے پہلے آتے ہیں پارلیمانی نظام کی طرف تو اس سے مراد حکومت کی وہ شکل ہے جہاں عاملہ (جو پالیسی بناتا اور اسے نافذ کرتا ہے اور سرکاری محکموں کے انتظامی امور کو چلاتا ہے) مقننہ یا پارلیمنٹ کو اپنی کارکردگی اور اقدامات کے لیے جوابدہ ہوتا ہے۔ اس نظام میں حکومت کا سربراہ جسے چیف ایگزیکٹو کہا جاتا ہے (پاکستان کے معاملے میں وزیر اعظم کے طور پر سمجھا جاتا ہے) کو مقننہ کے ارکان میں سے منتخب کیا جاتا ہے۔ اور وہ اپنے وزیروں  کی تقرری بھی انہی لوگوں میں سے کرنے کا پابند ہے۔ عاملہ کا سربراہ یا چیف ایگزیکٹو اور اس کے وزراء اپنے اپنے عہدوں سے اس وقت تک لطف اندوز ہوتے ہیں جب تک پارلیمنٹ (دو ایوانی مقننہ کی صورت میں صرف ایوان زیریں) میں اکثریت  ان کی حمایت کرتی ہے۔ اگر وہ پارلیمنٹ میں اکثریت کا اعتماد کھو دیتے ہیں تو انہیں اپنے عہدے سے ہٹائے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اکثریت کا اعتماد کھونے کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کی کارکردگی خراب ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ مقتدرہ پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں اتنی تعداد نہیں ہے کہ وہ اس کی پشت پناہی کر سکے۔ یہ اس نظام میں سب سے بڑی خرابی ہے جو اسے صدارتی طرز حکومت کے مقابلے میں غیر جمہوری چالوں کا شکار بناتی ہے۔ اس قسم کا کمزور عاملہ اہم ترقیاتی اور اصلاحی ایجنڈوں پر کام نہیں کر سکتا۔ اتحادیوں اور اپنی پارٹی کے ارکان کے خود سے ٹوٹنے کا خطرہ اسے اپنے اہم کاموں کی انجام دہی کے حوالے سے بے بس کر دیتا ہے۔ وہ عمل جس میں کسی اسمبلی کےممبران اپنی پارٹی وفاداریوں کی تجارت کرتے ہیں اسے عام طور پر ‘ہارس ٹریڈنگ’ کہا جاتا ہے۔ پارلیمانی طرز حکومت کے ساتھ ایک اور مسئلہ، جو کہ تیسری دنیا کی جمہوریتوں میں خاص طور پر پایا جاتا ہے، یہ ہے کہ وزراء جو زیادہ تر تعلیمی اور پیشہ ورانہ طور پر کمزور افراد پر مشتمل ہوتے ہیں، کو اہم سرکاری محکموں کا انتظام سنبھالنے کا کام سونپا جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر ان محکموں کے لیے متبادل بنیادوں پر قابل افراد کی خدمات حاصل نہ کی جائیں تو ایسے محکمے تنزلی اور جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے سرکاری محکمے تخلیقی صلاحیتوں کی کمی کی وجہ سے بدنام ہیں۔ مزید برآں ایک وزیر، جو کہ ایک مخصوص حلقے کا نمائندہ بھی ہوتا ہے، اپنی وزارت سے زیادہ اپنے حلقے کی فکر کرتا ہے۔ دوبارہ منتخب ہونے کے لیے وہ اپنی وزارت کے وسائل اور اثر و رسوخ کو اپنے ووٹروں کو راضی کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ یہ رجحانات ان کی وزارت کے امور کو موثر انداز میں چلانے کی صلاحیتوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ پارلیمانی نظام میں یہ تمام خرابیاں سیاست دانوں اور پارٹی کارکنوں میں دیانتداری اور مناسب سیاسی کلچر کی کمی کی وجہ سے پروان چڑھی ہیں. پارلیمانی نظام سے جڑے مذکورہ بالا خرابیاں داخلی نہیں بلکہ خارجی ہیں۔ ان مسائل کا علاج کیا جا سکتا ہے اگر اس نظام سے وابستہ لوگوں پر مناسب توجہ دی جائے. مثال کے طور پر سیاست میں داخلے کے لیے تعلیمی اور پیشہ ورانہ معیار کو بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ قابل اور دیانتدار لوگ وزارتوں کی طرف آئیں. یا شہریوں کا تعلیمی معیار بلند کیا جا سکتا ہے تاکہ قابل لوگ انتخابات میں حصہ لیں۔ لیکن اس میں کافی وقت لگے گا اور اس طرح کی اصلاحی سوچ کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے ایک مستحکم نظام کی ضرورت ہے، جس کا ہم نے پہلے استدلال کیا ہے کہ ہمارے پارلیمانی نظام میں موجود نہیں ہے۔ مثلاً وزیر کو اپنی وزارتی ذمہ داریوں اور اپنے حلقے کی توقعات کے حوالے سے جس مخمصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے بارے میں آپ کیا کریں گے؟ ہم پارلیمنٹ کی طرف سے وزارتوں کی بار بار برخاستگی اور اس کے نتیجے میں پالیسی سازی میں خلل ڈالنے کے عمل کو کیسے روک سکتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر ہم غیر جمہوری قوتوں کو آزاد ارکان اسمبلی اور چھوٹی پارٹیوں سے ملکر جمہوری حکومتوں کو گرانے کے تسلسل کو کیسے روک سکتے ہیں؟ 
بعض مفکرین صدارتی طرز حکومت کو پارلیمانی نظام حکومت کی برائیوں کا علاج سمجھتے ہیں۔ اس نظام کے حامیوں کے مطابق صدارتی نظام کمزور پارلیمانی نظام کا ایک مستحکم جمہوری متبادل ہے۔ پارلیمانی نظام کے برعکس صدارتی نظام میں حکومت کا سربراہ پارلیمنٹ سے نہیں آتا بلکہ اسے عوام کے ذریعے براہ راست منتخب کیا جاتا ہے۔ ان کی کابینہ کے ارکان بھی پارلیمنٹ سے نہیں لئے جاتے اور نہ ہی اس کے سامنے اپنی کارکردگی کے لئے جوابدہ ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ ان سے ان کی کارکردگی پر سوال نہیں کرسکتی اور نہ ہی انہیں ان کے عہدوں سے برطرف  کر سکتی ہے۔ اس لحاظ سے کابینہ کے یہ ارکان اپنے سربراہ یعنی صدر کے ساتھ ایک مستحکم حکومت بناتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں موثر اور پائیدار پالیسی سازی بھی ہوتی ہے۔ ان کو اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ صدارتی نظام میں وزراء کو اپنے حلقوں کے بارے میں بھی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ منتخب عہدیدار نہیں ہوتے۔ وہ اپنے محکموں کی پالیسیاں پر اعتماد اندار میں بناتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں موثر انتظامیہ بنتا ہے جو اپنی پالیسیوں پر بلا جھجک عمل درآمد کراتا ہے۔ امریکہ ایسے نظام کی ایک مثال ہے کہ کیسے یہ نظام پالیسی سازی، استحکام، خدمات کی فراہمی اور معاشی خوشحالی کے لحاظ سے دوسرے تمام نظاموں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔
تاہم صدارتی نظام خامیوں اور خرابیوں سے پاک بھی نہیں ہے۔ اس نظام کے ناقدین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ عاملہ کو اس کے فرائض کے حوالے سے کامل استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔ تاہم یہ سچ نہیں ہے. امریکہ میں صدر اور اس کی کابینہ کی آمریت یا اختیار کو بے شمار طریقوں سے روکا جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ امریکہ میں عدالتی نظر ثانی کا تصور موجود ہے جس کی رو سے ایگزیکٹو کی کوئی بھی پالیسی یا کوئی بھی اقدام اگر آئین کے بنیادی اصولوں کے مطابق نہیں پایا جاتا تو اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ صدر کا سینیٹ (امریکی کانگریس کے ایوان بالا) کی دو تہائی اکثریت سے مواخذہ کیا جاتا ہے اگر وہ کسی سنگین بدانتظامی کے مرتکب پائے جاتے ہیں، اور جس میں آئین کی خلاف ورزی بھی شامل ہے۔
سوم، اعلیٰ سطح کی تقرریوں، معاہدوں پر دستخط اور سفارتی عہدیداروں کی تقرری سمیت کچھ اہم کام سینیٹ کی توثیق سے مشروط ہیں۔ آخر میں، اس نظام کو اپنانے والے زیادہ تر ممالک میں صدر کے عہدے کی مدت عام طور پر کم رکھی جاتی ہے تاکہ بری کارکردگی کے حامل حکومت سے جلدی چھٹکارا پایا جائے، جیسا کہ امریکہ میں یہ مدت چار سال ہے۔اس طرح کے چیک اینڈ بیلنس کے اصولوں کے نتیجے میں حکومت کا انتظامی ادارہ اپنے آئینی اور جمہوری دائرہ اختیار میں کام کرتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صدارتی طرز حکومت کو آمریت اور مارشلائی حکمرانی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ فوجی آمروں نے اپنے اقتدار کو قانونی تحفظ دینے کے لیے اس نظام کے من گھڑت صورت کا سہارا لیا۔ اس کے نتیجے میں اس نظام پر عوام کا اعتماد ختم ہوگیا۔ حالانکہ صدارتی نظام بھی اتنا ہی جمہوری ہے جتنا پارلیمانی نظام ہے بشرطیکہ اسکی حقیقی روح کو آئینی طریقوں سے نافذ کیا جائے۔
الہی بخش
شعبہ سیاسیات 
گورنمنٹ کالج چترال
Leave A Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!