چترال کارنر

0

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
چترال کارنر کو اردو میں ’’گوشہ چترال‘‘ لکھا جائے گا یہ معمولی نام اور عام ترکیب نہیں بلکہ دوبئی کی محمد بن راشد لائبریری میں قائم ہونے والا کتابوں کا خانہ (شیلف) ہے اس خانے میں چترال اور گلگت کے اندرکی علا قے کی زبان اور تاریخ وثقافت پر انگریزی، اردو، شینا، بروشسکی، واخی اور کھوار میں لکھی ہوئی کتابیں رکھی جارہی ہیں

علم وادب کے حوالے سے چترال، گلگت بلتستان اور ملحقہ اضلا ع میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ بہت بڑا کام ہے اس کی جتنی تعریف کی جائے بہت کم ہوگی محمد بن راشد لائبریری کا شمار دنیا کی بڑی لائبریریوں میں ہوتا ہے لائبریری آف کا نگریس واشنگٹن اور برٹش لائبریری لندن سمیت دنیا کی 5000بڑی لائبریریوں کے ساتھ آن لائن منسلک ہے پوری دنیا کے لوگ اس لائبریری میں موجود وسائل سے براہ راست یا بالواسطہ استفادہ کرتے ہیں اب نیو یارک، ٹو کیو، برلن یا بیجنگ میں بیٹھا ہوا چترالی یا گلگتی چترال کار نر میں رکھی ہوئی کتاب تک پہنچ سکتا ہے اس کو چترال یا گلگت آنا نہیں پڑے گا دو بئی کی اتنی عظیم لائبریری میں چترال کارنر یا گوشہ چترال کیسے قائم ہوا

اس کی دلچسپ کہانی ہے اور اس کہانی کے چار بڑے کردار ہیں چترال کے شہرت یافتہ شاعر حسین نادر جا ن دوبئی، ابوظہبی اور دیگر خلیجی ریاستوں کی پاکستانی برادری میں بڑا نام اور مقام رکھتے ہیں بڑے بڑے مشاعروں میں ان کو بلا یا جاتا ہے ذراءع ابلاغ میں ان کا نام آتا ہے اور دوبئی کی اعلیٰ سوسائیٹی کے مشا ہیر کے ساتھ ان کی نشست و برخاست ہوتی ہے

صدر الدین ہاشوانی کی نامور صاحبزادی سارہ ہاشوانی بھی ان مشاہیر میں شامل ہیں چترال کارنر کے خواب کو حقیقت تک لانے میں سارہ ہا شوانی نے حسین نادر جان کا بھر پور ساتھ دیا یاسین سے تعلق رکھنے والے ہماری بھائی سجاد احمد نے دست تعاون بڑھا یافنی اور تکنیکی پرا پوزل پیش کیا گیا، پرا پوزل کی منظوری دی گئی ابتدائی طور پر سات کتابوں سے چترال کارنر کا آغاز ہوا محمد بن راشد لائبریر ی کی ویب سائیٹ پر اس کا اعلا ن ہوا چترال کارنر میں رکھی ہوئی کتابوں کے کٹیلاگ نمبر بھی ویب سائیٹ پر اپلوڈ کئے گئے اس نمبر کے ذریعے کتابوں تک رسائی ملے گی

حسین نا در جان صاحب کہتے ہیں کہ ابتدائی طور پر جو کتابیں لائبریری کو دی گئیں ان کتابوں کے لئے ہم چترال کے نامور فنکار اور ثقافتی شخصیت منصورعلی شباب کے شکر گذار ہیں جنہوں نے 2022 میں دوبئی کے دورے پر آتے وقت ہمارے لئے چند کتابوں کا تحفہ لایا تھا، ہم یہ تحاءف اپنے صندوقوں میں رکھ کر تالہ لگانے کے بجائے ان کو محمد بن راشد لائبریری میں رکھ کر دنیا بھر کے محبان چترال و گلگت کے ساتھ شیرکیا، ہمارا اگلا منصوبہ یہ ہے کہ کھوار میں قاضی سید بزرگ شاہ الازہری کا کھوار ترجمہ قرآن مجید اور کھوار میں سیرت رسول ﷺ پر شہزادہ صمصام الملک کی کتاب کے ساتھ کھوار اردو لغت، کھوار انگریزی لغت اور کھوار ڈیجیٹل لغت سمیت 200کتابوں کی فہرست میں سے ایک ایک کتاب اپنے دوستوں کے ذریعے منگوا کر چترال کارنر کی زینت بنائینگے

اس لائبریری میں چترال کارنر کا قیام مشکل تھا اب اس کارنر کے لئے کتابوں کی فراہمی زیا دہ مشکل نہیں محمد بن راشد لائبریری میں چترال کارنر کا قیام علا قے کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے ساتھ ساتھ عوام و خواص کے لئے بھی باعث فخر ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!