Site icon Chitral Today

ہمیں ریاستی سکولوں پر رحم کرنا چاھئے

ریاستی سکول

درحقیقت

ڈاکٹر محمد حکیم

مجھےفخر ہےکہ میں نے گورنمنٹ ہائی سکول چترال سے اپنی سیکنڈری تعلیم حاصل کی ہے۔اور اس زمانے کے انتہائی مشفق مدرسین کے شاگرد ہونے کا شرف حاصل کیا۔میرے محترم اساتذہ کرام میں سب اپنے زمانے کے اعلٰی درجے کے ہستیاں تھیں۔ان کے دل میں استادی کا روحانی رشتہ بہت ہی قوی ہوا کرتا تھا۔میرے کئی اساتذہ کرام وفات پاچکے ہیں۔اور کئی ان میں سے بقید حیات ہیں۔اللّٰہ پاک مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلٰی درجہ مرحمت فرمائیں۔اور بقید حیات اساتذہ کرام کو بہترین صحت اور ایمان کا اعلٰی درجہ عطاء کریں۔آمین۔
میری زندگی کا سفربھی اس سکول سے شروع ہوکر گورنمنٹ ڈگری کالج چترال اور پھر شہر کاشغر سے ہوتے ہوئے کہیں کشتیوں پر تو کہیں ریل اور جہازوں پر ہزاروں کلومیٹر طے کرکے دنیا کے جدید ترین سائنسی ترقی سے مزین اور دنیاء کے نقشے میں ہر لمحہ ابھرتے ہوئے ملک چائنہ میں ساڑھے چھ سال گزار کر اب بھی پورا نہیں ہوا۔ یہ پورا سفر اب بھی جانب منزل جاری و ساری ہے۔علم کی پیاس اب بھی باقی ہے۔اگر چہ زندگی نام ہی مہد سے لحد تک علم حاصل کرنے کا ہے۔تو ہم نے ارادہ بھی اسطرح کیا تھا۔کہ ساری زندگی طالبعلم رہیں گے۔
شاعر بھی کیا خوب میرے ارادے کی ترجمانی کچھ یوں کرتا ہے۔کہ۔
مکتب عشق کا دستور نرالہ دیکھا۔
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا۔
ہوا کچھ یوں کہ آج مجھے میری بیٹی کسوٰی حکیم نے خوشخبری دی کہ اس نے اپنے تین اور ساتھیوں کے ساتھ سارے ضلع چترال کے تمام سکولوں جن میں چترال کے اعلٰی ترین سکول شامل ہیں کے طلبات کو شکست دیکر کوئز کی ضلعی کمپیٹیشن میں اول آئے ہیں۔اس نے مجھے اور چترال کے باسیوں کو یہ احساس دلوائی کہ اداروں کے پایہ داری ،مہنگے سکولوں اور بھاری فیسوں کے ادا کرنے سے ہی مستقبل روشن نہیں ہوتا۔بلکہ انسان محنت کرے تو پھر وہ مٹی کے اینٹوں سے بننے ھوئے سکول میں بھی اعلٰی مقام اور روشن مستقبل حاَصل کر سکتا ہے۔
آج میں نے جب اپنی بیٹی کو کال کیا۔تو اس نے مجھے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ بابا جان ہمارا مقابلہ دروش کے آرمی پبلک سکول کے طلبات کے ساتھ تھا۔جب انہوں نے ہمارے بارے میں پوچھا کہ آپ کس سکول کے طلبات ہیں۔تو ہم نے اپنے سکول گورنمنٹ گرلز سنٹینئل ہائی سکول دنین کا نام لیکر کہا ہم اس کے طلبات ہیں۔ ایف پی ایس کےطلبات نے ہمیں کمزور سمجھااور یہ محسوس کیا کہ ہم تو آسانی سے ان کو ہرائیں گے اور یہ تو سرکاری سکول کے طلبات ہیں۔
چنانچہ میری پیاری بیٹی کسوٰی حکیم کہتی ہے۔کہ میں اور میرے ساتھیوں نے جب ان کو شکست دی۔تو پھر وہ ششدر رہ گئے کہ خدایا یہ کس طرح سرکاری سکول کے طلبات نے انکو آسانی سے شکست دی۔
مجھے کسوٰی حکیم کے سکول کے ماہر اساتذہ کرام پر فخر ہے۔کیونکہ انہوں نے ہی میری بیٹی کو ایسی تربیت دی۔کہ ان کی کمال تربیت میری بیٹی کو اس قابل بنائی کہ اس نے اپنے ساتھیوں سمیت تمام سکولوں کے طلبات کو ضلعی سطح پر شکست دیکر کوائذ کمپیٹیشن اپنے سکول کے نام کرلی۔
اس مقابلہ کے نتائج سے یہ احساس ہوتا ہے کہ گورنمنٹ سکول بھی ،ان کے اساتذہ کرام بھی،اور ان کے طلباو طلبات بھی کسی اور ادارے سے کم نہیں ہیں۔کیونکہ ہماری تھوڑی سی توجہ اور حوصلہ افزائی سے تمام سرکاری ادارے اور ان کے طلباء و طلبات تمام پرائویٹ اداروں پر حاوی ہوسکتے ہیں۔البتہ ہمیں چاھئے کہ وقتًا فوقتًا کچھ وقت نکال کر اداروں کے ترقی اور کامیابی کے لئے حوصلہ افزائی کریں۔اور مختلف اخبار اور رسالوں پر انکے حقوق کے بارے میں کچھ تحریر کریں اور اگر معاشرہ کے لوگ سرکاری سکولوں کو اہمیت دیں گے۔تو یقینا ملکی ادارے سارے برابر ھوجائیں گے۔اور نظام تعلیم میں یگانگنت اور ہم اھنگی پیدا ہوجائے گی۔اسی طرح معاشرے میں سرکاری ادارے بھی بحال رھیں گے۔ورنہ ہم لوگ ہمیشہ غریب غریب تر اور امیر امیر تر بنتے جائیں گے۔ پھر معاشرہ میں نا انصافی کا بول بالا ھوگا۔
Exit mobile version