Site icon Chitral Today

تیرے نام کی شہرت

Chitral Today articles

گل عدن چترال

ساحر لدھیانوی صاحب نے کیا خوب لکھا ہے کہ ‘تو بھی کچھ پریشان ہے، تو بھی سوچتی ہوگی، تیرے نام کی شہرت تیرے کام کیا آئی میں بھی کچھ پشیماں ہوں،میں بھی غور کرتا ہوں میرے کام کی عظمت میرے کام کیا آئی اس دنیا میں گنتی کے چند لوگ ہوں گے جو ستائش شہرت کی تمنا سے بے نیاز گمنامی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور اس پر مطمئن بھی رہتے ہیں لیکن اکثریت کی زندگی نام کمانے میں، تعریف سمیٹنے کی جدوجہد میں صرف ہورہی ہے۔ کچھ لوگوں کو شہرت کی خواہش نہیں بلکہ بھوک ہوتی ہے۔تعریف کی خواہش یا شہرت کی تمنا ہونا ایک نارمل بات ہے ہر انسان میں پائی جاتی ہےلیکن شہرت کا جنون انسان کو نارمل رہنے نہیں دیتا۔

آج سے کچھ سال پہلے جب ٹیکنالوجی عام نہیں تھی تو شہرت کا جنون بھی کریز بھی اتنا زیادہ نہیں تھا لیکن اب سوشل میڈیا نے اس جنون کو کہیں گنا بڑھادیا ہے اور اس مصنوعی زندگی کا بنیادی جزو”فوٹو گرافی” ہے۔ الماری میں رکھے تصویروں کے البم جو ماضی میں کھبی خزانہ کی حثیت رکھتے تھے۔ جو سال میں کھبی کھبار کسی خاص مواقع میں بڑی مشکل سے بنانا نصیب ہوتا تھا۔ ان تصویروں میں بھی حقیقت کی خوبصورتی جھلکتی تھی جو خوشگوار یادوں کو تازہ کرکے بیک وقت آپکو خوشی اور اداسی کی کیفیت میں مبتلا کردیتی تھیں۔ مگر آج اپنے اسمارٹ فون سے دن میں سینکڑوں کی تعداد میں بنائی جانے والی تصاویر نہ تو خوشیوں کو قید کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں نہ ہی یادوں کو محفوظ کرنے کی خاطر بنائی جاتی ہیں بلکہ ان تصاویر کا صرف ایک مقصد ہے کہ انہیں سوشل میڈیا کی زینت بنادی جائے اور لوگوں کو دکھایا جائے کے ہم کتنے خوش ہیں۔کتنے مزے میں ہیں یا کتنے مصروف ہیں اور زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔خود کو زندگی سے بھرپور دکھانے کا ایک مقابلہ چل رہا ہے انٹرنیٹ پر اور ہم اس مقابلے میں دوڑ رہے ہیں۔ چند لائکس چند تعریف جملے چند رشک بھری آہیں اور کہیں کچھ جلنے کی بدبو ہماری زندگیوں کا اہم مقصد بن چکی ہیں۔ اعتراض اس دوڑ میں شامل ہونے پر نہیں ہے دکھ اس بات کا ہے کہ ہم حقیقی زندگی میں نہ تو خوش ہیں نہ خوش مزاج۔۔۔اور یہی چیز ہمیں ڈپریشن کام ریض بنارہی ہے۔

حالانکہ ہم جتنی محنت سوشل میڈیا یا دوسروں کو دکھانے کے لئے کر رہے ہیں اگر اس ایک فیصد کوشش بھی حقیقت میں خوش رہنے کی کریں تو زندگی واقعی خوبصورت ہوسکتی ہے لیکن ہم نے موبائل میں پناہ ڈھونڈ لیا ہے۔ ہم اسوقت دو کشتیوں میں سوار ہیں۔زندگی ایک ہی ہے مگر ہم دو طرح سے گزار رہے ہیں۔ہماری ایک کشتی سوشل میڈیا ہےاور دوسری کشتی ہماری حقیقی دنیا۔

سوشل میڈیا پر ہماری زندگیاں یعنی ہمارے دکھاوے کی زندگی بڑی پرفیکٹ ہیں بلکل ویسے جیسے ہم چاہتے ہیں۔خوش باش،بے فکر۔سوشل میڈیا پر ہم ناصرف نیک ہیں بلکہ عظیم شخصیات ہیں ۔انسان دوست، ہمدرد ،ایک دوسرے کا دکھ بانٹنے والے، حساس اتنے کہ جانور کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے اور سمجھدار اتنے کہ بڑے سے بڑے واقعات پر بھی مثبت رائے اور مثبت کردار نبھانے والے۔حد تو یہ ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام پر دو دن کی زندگی کو بھر پور طریقے سے خوشی خوشی جینے والے لوگ بھی ہم ہی ہیں۔ زندگی کے قدر دان۔ایک فیک زندگی کے قدر دان لیکن جونہی ہم موبائل فون سائیڈ پر رکھ کر اپنی حقیقی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تھوڑی دیر کے لئے ہی تو سب سے پہلی چیز جو ہمارے چہرے (بلکہ ہماری زندگی سے) سے غائب ہوتی ہے وہ ہے ہمارے چہرے کی مسکراہٹ ہے ۔۔۔جس زندگی کا حقیقتا حق ہے کہ اسے مسکرا کر گزارا جائے وہی زندگی ہماری مسکراہٹ کو ترس رہی ہے۔دوسری چیز شکرگزاری۔

سوشل میڈیا پر ہروقت الحمداللہ کا ورد کرنے والے ہم شکرگزار لوگ جونہی موبائل چارجنگ پر لگاتے ہیں ہمیں ہر چیز میں خامی نظر آنا شروع ہوجاتی ہے۔ہر چیز میں کمی، نقص، خامی۔کھانے پینے میں ۔ کپڑوں میں، کمرے میں، گھر میں، ماں باپ میں، بہن بھائیوں میں،رشتہ داروں میں اور رشتوں میں ہر چیز میں کمی اور یہ محرومیاں ہمیں مسکرانے ہی نہیں دیتیں۔ یہ محرومیاں ہمیں جینے بھی نہیں دیتیں۔ اس لئے ہم اپنا زیادہ تر وقت اپنی موبائل کی دنیا میں غرق ہوکر گزارتے ہیں۔ اس سے ہماری زندگی میں کوئی تبدیلی تو نہیں آتی مگر حقیقت سے فرار کا ایک راستہ مل جاتا ہے اور وقت گزر جاتا ہے اور ہمیں لگتاہے کہ سوشل میڈیا پر ہم نے جو نام بنالیا ہے بڑی محنت سے وہ کافی ہے۔لیکن سوچنے کی بات ہے کہ جسطرح ہم وقت گزار رہے ہیں کیا اسوقت کو یونہی گزرنا تھا؟کیا وقت اپنی بے وقعتی کا ہم سے حساب نہیں مانگے گا؟کیا ہماری زندگی خود کو دھوکہ دینے میں گزر جائیگی؟؟

ضروری نہیں کہ دکھاوے کی زندگی صرف سوشل میڈیا پر ہی ہو ۔جو لوگ فیس بک پر نہیں ہوتے وہ بھی گھر سے باہر چاہنے والوں،سراہنے والوں کا مجمع رکھتے ہیں لیکن افسوس گھر کے اندر ایک شخص بھی انکی اخلاق سے متاثر نہیں ملتا۔یہ منافقت کی زندگی ہم نے کب اور کہاں سے شروع کی میں نہیں جانتی لیکن نام کی خواہش جہاں سے شروع ہوتی ہے وہ ہماری والدین کی گود ہے اور ہمارے اساتذہ کرام کے رویے ہیں ۔(میرے قارئین کو مجھ سے اختلاف کا حق حاصل ہے۔)

آپ نے کھبی غور کیا ہے کہ والدین کتنی آسانی سے اپنے بچوں کو اچھےبچوں ‘اور ‘برے بچوں’ میں بانٹ دیتے ہیں۔یہ سوچے بنا کہ اولاد کی تربیت انکی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔یہ سوچے بغیر کہ اولاد پر سب سے زیادہ اثر انکے والدین کا ہوتا ہے انکی محبت کا انکے غصہ کا۔سب سے منفی اثر جو اولاد پر والدین کا ہوتا ہے وہ ہے اولاد میں تفریق کرنا۔

بچپن سے اولاد میں فرق کرنے والے والدین بڑھاپے میں اپنی تمام اولادوں سے ایک جیسی عزت ،تابعداری اور محبت چاہتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ انکی کی ہوئی تقسیم ساری زندگی ان بد بخت اولادوں کا پیچھا کرتی ہے۔ والدین کا بنایا ہوا اچھا بچہ معاشرے میں تاحیات “اچھا بچہ” بنا رہتا ہے اور والدین کا بنایا ہوا “برا بچہ” ساری زندگی کہیں اچھائیوں کے باوجود معاشرے میں “برے بچہ” کے طور پہ جانا اور مانا جاتا ہے اور ماں باپ کے بنائے ہوئے اچھے بچے ان برے بچوں کو کھبی بھی “اچھا” بننے نہیں دیتے۔ یوں والدین کی یہ ظالم تقسیم قبر تک ان بچوں کا پیچھا کرتی ہے۔

دوسری طرف سکول میں روحانی والدین بھی یہی ظلم کرتے ہیں۔معصوم بچوں کو “لائق اور نالائق” بچوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔اسی لئے کلاس میں پہلی جماعت میں جو لائق بچے ہوتے ہیں وہ تعلیم مکمل کرنے تک لائق رہتے ہیں۔اور ساری زندگی یہ لائق بچے ہر اونچے مقام کو ہر ایوارڈ کو ہر کامیابی کو صرف اپنا حق سمجھتے ہیں کلاس میں انکی تعداد 6 یا 8 یا 9،10 کے لگ بھگ ہوتے ہیں باقی 60 70 بچے خود کو گھسیٹ کر تعلیم یا مکمل کر پاتے ہیں یا نامکمل چھوڑ دیتے ہیں۔انکی تعلیم کی طرح انکی شخصیت،انکی خوشیاں انکے خواب خواہشیں سب کچھ ادھوری رہ جاتی ہیں۔

میرا ایسے والدین سے صرف ایک سوال ہے کہ کیا اللہ تعالی اپنے بندوں کو آپکی اولاد کی حثیت میں اس لیے پیدا کرتاہے کہ آپ انہیں اچھے اور برے بچے میں تقسیم کردیں؟؟؟ میرا اساتذہ کرام سے بھی ایک ہی سوال ہے کے کیا یہ والدین اپنے بچوں کو اس مقصد کے لئے سکول بیچتے ہیں تاکہ آپ انہیں لائق اور نالائق بچوں میں تقسیم کر سکیں؟؟؟

یہ جو سوشل میڈیا پر یا گھر گھر میں،خاندان میں،محلے میں جنگیں چل رہی ہیں نام بنانے کی یہ انہی لائق اور نالائق بچوں کے درمیان کی جنگ ہے ۔یہ محبت ستائش تعریف نیک نامی اور چاہے جانے کی بھوک کی جنگ ہے۔یہ حسد نفرت دشمنیاں یونہی وجود میں نہیں آئیں ۔یہ روز روز خودکشیاں یہ قتل و غارت یہ جھگڑے فساد انہی “اچھے اور برے بچوں” کی جنگ ہیں۔جو اس وقت تک چلیں گے جب تک والدین اس “تقسیم” سے باز نہیں آئیں گے۔جس دن جس لمحے والدین اور اساتذہ نے تسلیم کرلیا کہ بچے اچھے یا برے نہیں ہوتے بلکہ محض بچے ہوتے ہیں انہیں اچھے اور برے بنانے والے ہم ہوتے ہیں اس دن یہ جنگ یہ جنون یہ دھوکہ اور منافقت کی زندگیاں ختم ہوں گی۔اور لوگ سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ حقیقت میں جینا شروع کریں گے۔

ساحر لدھیانوی کے الفاظ کے ساتھ اس تحریر کا اختتام کرتی ہوں جو میرے دل کی آواز ہیں 

تیرا قبر تیری فن 

میرا قبر میرا فن 

تیری میری غفلت کو

زندگی سزا دے گی 

تو بھی کچھ پریشان ہے 

تو بھی سوچتی ہو گی 

تیرے نام کی شہرت 

تیرے کام کیا آئی۔

Exit mobile version