Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

ماروی ٹریولز کی گاڑیوں کے حادثات

رپورٹ: کریم اللہ 

ماروی ٹریولز کی جانب سے چترالی مسافروں کے ساتھ زیادتی اور ناتجربہ کار ڈرائیوروں کے ذریعے لوگوں کو حادثات سے دوچار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ چھ سات ماہ کے دوران اسی کمپنی کے چترال جانے والی چار گاڑیاں حادثے کا شکار ہو چکی ہے جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ گاڑیاں بھی تباہ ہو چکی ہے۔

چند ماہ قبل مارچ 2023ء کو پشاور سے چترال جانے والے ماروی ٹریولز کا کوسٹر چکدرہ کے مقام پر حادثہ کا شکار ہوگئی جس میں راقم الحروف اپنی فیملی کے ساتھ سوار تھے اس حادثے میں خوش قسمتی سے کسی قسم کا کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا البتہ گاڑی میں سوار مسافروں میں سے اکثریت کو شدید چوٹیں آئیں۔ یہ حادثہ سراسر ڈرائیور کی غفلت، لاپرواہی، تیز رفتاری اور غصے کی وجہ سے پیش آیا۔ جس کی رپورٹ بھی درج کی گئی مگر پولیس، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
آج صبح چترال سے اسلام آباد جانے والی کوسٹر کو برہان انٹرچینج کے قریب موٹر وے میں حادثہ پیش آئی جس میں گاڑی میں سوار متعدد مسافر شدید زخمی ہوگئے۔ اس موقع پر مسافروں نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ حادثے کے بعد متعلقہ کمپنی اور آڈہ مالکان کو اطلاع دی گئی مگر تین چار گھنٹے گزرنے کے باؤجود بھی کسی نے ان سے رابطہ کرنے اور انہیں متبادل گاڑی فراہم کرکے منزل تک پہنچانے کی زحمت گوارہ نہ کی جو اس کمپنی کی غیر ذمہ داری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
چترال سے تعلق رکھنے والے سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماروی ٹریویلز کی جانب سے ایک سال سے کم عرصے کے دوران چترال جانے والی چار گاڑیوں کے حادثات اس امر کا غماز ہے کہ اس کمپنی کی گاڑیاں خستہ حال اور کمپنی کے ڈرائیور اور دیگر عملہ پرلے درجے کے نالائق، غیر ذمہ دار اور ان ٹرین ہے۔ 
انہوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ، محکمہ ایکسائز اور ضلعی انتطامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کمپنی کے مالک کو فی الفور بلا کر ان کی باز پرس کریں کہ وہ اپنی گاڑیوں کی فٹنس کا خیال رکھیں جبکہ ڈرائیوروں سمیت اپنے عملہ کی ذہنی و نفسیاتی اور جسمانی صحت کا معائنہ کریں کہ کہیں ان کے ڈرائیور کسی ذہنی عارضے اور نشے کی لت میں مبتلا تو نہیں جس کی وجہ سے آئے روز اس قسم کے حادثات رونما ہو رہےہیں۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر دوبارہ ایسے واقعات رونما ہو جائے تو اس کمپنی پر چترال سمیت ملک کے کسی بھی حصے کی جانب سروس دینے پر مکمل پابندی عاید کی جائے۔
You might also like

Leave a comment

error: Content is protected!!