بونی ہسپتال کا ایک دل خراش واقعہ

کھلا خط بنام ڈپٹی کمشنر لوئر چترال

جناب ڈپٹی کمشنر صاحب
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
اميد ہے کہ آپ بخير و عافیت ہوں گے۔ اللہ آپ کو خوش و خرم رکھے!
میں اس تحریر کی وساطت سے آنجناب کی توجہ ایک عوامی مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی واحد سڑک چترال ٹو پشاور روڈ پر جغور سے چمرکن تک تین یا چار کلومیٹر کافی عرصے سے آں محترم کی نگاہ عنایت کی منتظر ہے۔ ہماری معلومات کی حد تک  سڑک پر مرمت کا کام کوئی چار مہینے پہلے شروع کیا گیا تھا مگر تا حال کام ناقص، غیر مرتب اور سست روی کا شکار ہے۔ جس کی وجہ سے کوئی اور نہیں بلکہ آپ کے اپنے اہل چترال و دیگر عوام شدید اذیت اور ذہنی کوفت سے دو چار ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر مریض، خواتین، بزرگ شہری اور اسکول کے معصوم طلبہ و طالبات کو سڑک کے اس مخدوش صورتحال کی وجہ سے سخت مصیبت جھیلنی پڑتی ہے۔ 
مکرمی! مرمت کے اس کام میں تاخیر ٹھیکیدار کی غفلت اور مسلسل لا پرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اس پر مستزاد یہ کہ عوام کے ساتھ یہ مزاق ضلعی انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔ ہم اس بے حسی پر آپ ہی بتائیے کس سے شکوہ کناں ہوں؟ اور کس سے منصفی چاہیں؟ 
اس سڑک پر کام کی ابتدا دیکھ کر جو خوش کن امید بندھی تھی اور اب سراب ہوتی جا رہی ہے۔ اگر عوام کو اس روڈ کے بن جانے بعد ملنے والی فرحت بخش عافیت کے  مقابلے میں موجودہ صورت حال کی اذیت زیادہ ملی تو سوچیے کہ اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ 
جناب عالی! آپ جیسے قابل افسران سے ہی  سے اس بات کی امید کی جا سکتی ہے کہ آپ اس سلسلے میں اپنے ہر قسم کے اختیارات کو بروئے کار لا کر اس دیرینہ خواہش کی تکمیل اور اس انتہائی اہم فریضے کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔
مجھے امید ہے کہ آپ میری اس عرضداشت کو قابل اعتناء سمجھ کر عوامی نوعیت کے اس حساس مسئلے کو مکمل  طور پر اور پوری ذمہ داری سے جلد از جلد حل کروانے کیلئے مؤثر اقدامات کریں گے، اور متعلقہ ذمہ داران کو اس شارع عام پر ادھورا کام مکمل کرنے کا پابند بنائیں گے۔
اللہ پاک ہر کار خیر میں آپ کا حامی و ناصر ہو اور ہر شر سے آپ کو محفوظ رکھے۔ آمین! 
والسلام 
فقط آپ کا خیراندیش 
عبدالحی چترالی
18/11/022

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *