چترال کے مذاحیہ فنکار

چترال کے مذاحیہ فنکار

محکم الدین ایونی 
اپنےغموں کو سینے میں دفن کرکےدوسروں کیلئے ہنسی و خوشی کے مواقع فراہم کرنا سب سے مشکل کام ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کے غموں کو ہلکا کرنے کا گر جانتے ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ فن سے مزین یہ لوگ جہاں حکومت وقت کی نظر سے اوجھل رہے ہیں، یا دانستہ طور پر نظر انداز کر دیے جاتے رہے ہیں وہاں عوامی سطح پر بھی ان کی حیثیت مسخرے سے زیادہ نہیں ہے جبکہ یہی لوگ معاشرے کا وہ چہرہ ہیں جو اپنی صلاحیتوں کوعملی کرداروں کے ذریعے سامنے لاکر لوگوں کو تفریح مہیا کرنےکی ساتھ ساتھ معاشرتی ناہمواریوں پر سوچنے یا مثبت رویوں کی پذیرائی کا درس دیتے ہیں۔
چترال میں مذاحیہ فنکاروں کی شاید لمبی فہرست ہو سکتی ہے لیکن چترال شہر کے معروف مذاحیہ فنکاروں میں افسر علی آباد، منور شاہ رنگین، وسیم خان، ریٹائرڈ صوبیدار توکل خان اور محی الدین سر فہرست ہیں۔ ان کو لوک مذاحیہ فنکار بھی کہا جاسکتا ہے۔
چترال میں فلم اور ڈرامہ سازی کا کوئی پروفیشنل ادارہ نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے تییں بہت سے مذاحیہ خاکے اور ڈرامے بنائے جن میں بیٹیوں کی ضلع سے باہر شادی کے منفی پہلووں سے لے کر چترال کے اندر ثقافتی یلغار کے نتیجے میں کھو معاشرے میں تبدیل ہوتی زبان و لباس اور رسوم و رواج کی بیخ کنی ہوتی ترقی کے حوالے سے خاکے شامل ہیں۔
چترال کے یہ مذاحیہ فنکار چترال کا سرمایہ ہیں۔ ان کی جتنی عوامی سطح پر قدر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے بڑھ کر حکومتی سطح پر سرپرتی کی ضرورت ہے۔ یہی نہیں بلکہ چترال میں فن گائیکی، موسیقی و ستارنوازی سے وابستہ فنکاروں کی بھی حکومت کی طر ف سے کوئی سرپرستی نہیں ہورہی۔ یہ سب لوگ شوقیہ طور پر خود کو زندہ رکھے ہوئےہیں۔
چترال کے مذاحیہ فنکاروں کے مسائل کا حل اور ان کیلئے صوبائی حکومت کی طرف سے گرانٹ کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ ہم توقع رکھیں گے کہ معاون خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا ان کیلئے گرانٹ فراہم کرنے میں خصوصی کردار ادا کریں گے تاکہ چترال کے لوگوں کو اپنی مذاحیہ مکالموں اور کرداروں کے ذریعے ہنسی خوشی کا موقع فراہم کرنے والے فنکاروں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *