ڈسپنسری بغیر ڈسپنسر کے

فرمان عجب اپر چترال

آج سے تقریباً بارہ سال پہلے محکمہ صحت خیبر پختونخواہ کی جانب سے چرون اویر اپر چترال میں باقاعدہ ڈسپنسر ی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی عوام کی چیک اپ اور مفت ادویات کی فراہمی کا عمل بھی شروغ کیا گیا۔ اس طرح ۲۰۱۰ سے۲۰۲۰ کے پہلے سہ ماہی تک یہ ڈسپنسری یہاں کے عوام کو صحت کے بنیادی سہولت فراہم کرتی رہی جسے علاقے کی عوام کافی حدتک مطمیئن تھیں اور آپنے فرسٹ ایڈز یہاں سے لیتے تھے اور پیچیدہ امراض کی علاج کے واسطے ڈسپنسرز حضرات کی مشاورت سےدوسرے ہسپتالوں کا رح کرتے تھے جسے ان کی اخراجات کم پڑتے تھے

رفتہ رفتہ اس طبی مرکز کی فعالیت نان لوکل ڈسپنسرز کے آئے دن ٹرانسفر کے باعث کمی ہوتی گئی یہاں تک کہ گذشتہ ڈھائی سال سے ڈسپنسیری ھذا بغیر ڈسپنسیر کے عوامی خدمات سے عاری ہے اس کا ضلعی سطح پر کوئی پرسان حال ہے نہ صوبائی سطح پراسکی کوئی وارث ہے بس عوام کی ٹیکس سے عمارت کھڑی ہےاور پانچوں عملے صبح سے چھٹی کے وقت تک بیٹھے صرف دیہاڑی لگا کرمہینہ پورا ہونے پراپنے تنخواہ وصول کرتے رہتے ہیں وقتی طور پراس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں لیکن ستم طریفی یہ ہے کہ ہمارے ڈسٹرکٹ ہیلتھ انتظامیہ او رمانیٹرنگ ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے افراد ڈھائی سال کے دوران کئی بار اس ڈسپنسری کا وزٹ کر چکے ہونگے اورر اس تناظر میں حکومتی ریسورس کا استعمال کیے ہونگے اور اپنے لیے ٹی اے ڈی اے کا تقاضا بھی کرچکے ہونگے اس بارے میں وہ خود بتا سکتے ہیں۔ پھر بھی ان کی اں وزٹز کی ضامن میں چند سوالات ذہنوں میں گردش کر رہی ہیں جو ان حضرات کی گوش گزار کی جاتی ہیں کہ کیا آ پ لوگوں کی زمہ داری صرف کلاس فورز اور عمارات کی منیٹیرنگ تک محدود ہیں کیا ڈسپنسرسے آپ کا کوئی تعلق نہیں کیا ڈسپنسر کے بغیر ڈسپنسری کیا مغی رکھتاہے کیا جس مقصد کے لّے یہ ڈسپنسری بنی تھی کیا وہ مقاصد بغیر ڈسپنسر کے حاصل ہو پا رہےہیں اگر یہ درست ہیں تو پھر آپ صاحباں کی یہ وزٹز بچوں کے کھیل کے متراف نہیں جو کسی نتیجے کے بغیر اختیتام پذیر ہوتے رہتے ہیں۔

جب بھی ہم اس ڈسپنسری کی صورت حال پر غور کرتے ہیں تو فی الحال یہاں پانچ ملاز میں کی تنخواہ، بجلی کی بل، پانی کا بل، مرمت اور دیگر اخراجات کی مد میں خطیر رقم خرچ ہونے کے باوجود بھی علاقے کے عوام اب بھی علاج معالجے کے بابت دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ ڈسپنسر کی عدم موجودگی میں اسے ڈسپنسری کا نام دینا بھی ذیادتی ہے۔ اں اخراجات کے باوجود بھی اس ڈسپنسری میں ڈسپنسرکی عدم تعناتی سمجھ سے باہر ہے ۔ یہاں فرضی ڈسپنسری کے ہوتے ہوئے بھی علاقے کے عوام بلڈ پریشر کی چیک آپ کی غرض سے تحصیل ہید کواٹر ہسپتال بونی جانے پر مجبور ہیں اور روزانہ چار سو روپے گاڑی کی شخصی کرایے کی مد میں فی کس خرچ کر رہے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ۲۰۰۶ سے ۲۰۱۰ کے اوائل تک بیار لوکل سپورٹ ارگناًزیشن بونی اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام چترال کی اشتراک سے اس علاقے میں ایک کمیونٹی بسیڈ ہیلتھ سنٹرکا قیام عمل میں لایا گیا تھا جسے یہاں عوام مستفید ہورہی تھی موجودہ ڈسپنسری کی منظوری کے بعداسے ختم کیا گیاجس کی تمام انتظامی امور کمیونٹی خود انجام دی رہی تھی اور بحثیت سیکریرٹری ہیلتھ سنٹر مجھے یاد پڑتا ہےکہ اس سنٹر میں روزانہ اوسط پشنٹ فلوپانج تھی۔

اگر اسی زمانے کے اسی پشنٹ فلو کوہی مدنطر رکھ کرآج کل کی عوام کی اخراجات کا تحمینہ لگایا جائے تو پانچ افراد کی یومیہ شخصی کرایہ آنے جانے کا دو ہزارروپے بنتی ہے ۔ بونی جاکر ایک وقت کا کھانا کھانا پڑتا ہے اس طرح پانچ افراد کی ایک وقت کی کھانے کی اخراجات ایک ہزار روپے سے ذیادہ ہوگی ۔ اگر مریض یا مریضہہکمزور ہے تو اس کے ساتھ اٹینڈینٹ کا بھی ساتھ ہونا ضروری ہے اور اس کے لیے اسپیشل گاڑی بک کرانا پرتی گاڑی کی بکنگ دو ہزار روپے ہے۔ اگر روزانہ ایک ہی اٹینڈینٹ بھجیا جائے تو اس کی ایک دن کی کمائی کم از کم ایک ہزار روپے ہو گی ان سب کو ملا کر پانچ افراد کی روزانہ کم ازکم اخراجات چار سےپانچ ہزرارروپے تک پہنچتی ہے مہینے میں ۱۳۵۰۰۰ روپے جبکہ ایک سال میں یہ اخراجات سولہ لاکھ بیس ہزار روپے بنتے ہیں ۔ اس تخمینے کے مطابق یہاں کے عوام اب تک چالیس لاکھ روپے خرچ کر چکے ہیں اور ڈسپنسر کے تعناتی طول پکڑنے کی صورت میں یہ اخراجات مزید بڑھ سکتی ہیں جو کہ اس علاقے کے عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہو گی جسے یہاں مکین کبھی معاف نہیں کریں گے

ایک طرف گورنمنٹ کی جانب سے اس ڈ سپنسری پر ماہوار خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے تو دوسری جانب علاقے کے عوام اپنی جمع پونچی اپنے اور اپنے عزیزواقارب کی صرف بلڈ پریشر کی چیک آپ کے واسطے دور دور کی ہسپتالوں کی چکر لگاتے ہوًے خرچ کر رہے ہیں۔ اس طرح دونوں جانب سے قومی دولت خرچ ہو رہی ہے۔ اس کا کسی کو احساس ہے اور نہ کسی کی ضمیر مذمت کرتا ہے۔ ڈ سپنسر کی عدم موجودگی کو علاقے کے عوام باربار دسٹرکٹ ہیلتھ کے زمہ دار افراد کے نوٹس میں لا چکے ہیں انھوں نے ہر بار ڈسپنسر کی اسامیوں کی کمی کابہانہ بناکر اس ڈ سپنسری کو ڈ سپنسر دینے سے گریزان ہیں ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جہاں گورنمنٹ کی جانب سے کوئی محکمہ قائم کی جاتی ہے سب سے پہلے فنانس ڈپارنمنٹ سے مطلوبہ اسامیاں منطور کرائی جاتی ہیں اور پھراس کے مطابق ملازمین کی تقرری عمل مےں لائی جاتی ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری ڈسٹرکٹ ہیلتھ انتیظامیہ کے پاس پہلے سے منظور شدہ ڈسپنسری کے لیے ڈسپنسرکی اسامی دو سالوں سے خالی ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ ایک طرف محکہ صحت کے حکام کی اس بے حسی کو دیکھ کردل خون کے انسو رو رہا ہے تو دوسری طرف ریاستی اداروں کی صحت سے متعلق بلندوبالا دعویٰ اور حب الوطنی پر سوال اٹھتا ہے کہ عوام کو بیرونی اور اندرونی خطرات جن میں بیماریاں بھی شامل ہیں سے حفاظت دلوانےکا حلف اٹھائے ہوئے لوگ اپنے حلف کی پاسداری کیوں نہیں کر رہے طکیا وہ اس امر کوبھلا بیٹھے ہیں کہ قیامت کے دن عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *