Inayatullah Faizi

زبانوں کی اکیڈیمی

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
پا کستان جرنل آف لینگویجز مشکل نام ہے اس کا اردو متبادل بھی آسان نہیں ہوگا جریدہ السنہ ہائے پاکستان لکھا جائے تو انگریزی سے مشکل نظر آئیگا یہ گندھارا ہند کو اکیڈیمی کا جریدہ ہے جو سال میں دوبار شاءع ہوتا ہے اس کو ششماہی یا بائی اینول کا نام دیا جاتا ہے، جریدے کا پہلا شمارہ آیا تو قارئین کو بہت اچھا لگا

ایک جریدے میں ملک کی مختلف زبانوں کو جگہ دینے کی روا یت بہت اچھی ہے اور یہ آج کی با ت نہیں یہ 19نو مبر 2005کی بات ہے جب اکیڈ یمی نہیں بنی تھی گندھارا ہند کو بورڈ نے پبلک لائبریری پشاور کے ہا ل میں پہلی بین الاقوامی ہند کو کانفر نس کے مو قع پر ہال کی دائیں اور با ئیں دیواروں پر 27زبا نوں میں خوش آمدید کے متبادل جملے جیسے ’’جی آیاں نوں‘‘ ’’پہ خیر را غلے‘‘ وغیرہ لکھے ہوئے تھے اور پہلی بار 27زبا نوں کے ادیب، شاعر، دانشور، ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر ادب وثقافت پر گفتگو کر رہے تھے، صدر نشینوں میں ڈاکٹر ظہور احمد اعوان، سر دار خان فنا اور دیگر نامور ادبی ما ہرین کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہوئے نظر آرہے تھے

کانفرنس کی آخری نشست میں قرار داد کے ذریعے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ صو بے کی تمام زبانوں کو ترقی کے یکساں مواقع دینے کے لئے گندھارا ہند کو اکیڈ یمی قائم کی جا ئے بعض لوگوں کو یہ شیخ چلی کا خواب لگ رہا تھا تاہم ڈاکٹر صلا الدین، ڈاکٹر عدنان گل، صابر حسین امداد اور ضیاء الدین کو پکا یقین تھا کہ گندھا را ہند کو اکیڈ یمی ضرور بنے گی گندھا را ہند کو بورڈ نے اپنی کو شش جاری رکھی پشاور میں 10سا لوں کے اندر تین بین لاقوامی کا نفرنسوں کے بعد ڈیرہ اسما عیل خان، ایبٹ اباد، کوہاٹ، سوات، چترال، گلگت، امریکہ اور کینڈا میں لسانیا تی کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا

ان کا نفرنسوں میں مقامی ادبی تنظیموں کے ساتھ رابطے مضبوط ہوئے نیز مقامی ادیبوں اور دا نشوروں کو بڑی تعداد میں آکر شریک ہو نے کا موقع ملا پا کستان سے باہر جو لوگ پشاور اور صوبہ خیبر پختونخوا کی ثقا فت سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کو بھی بڑی تعداد میں ایک جگہ جمع ہونے کا موقع ملا مقامی سطح پر ادب کی ابیاری کے لئے ادبی اکٹھہ اور خا ص موا قع پر ادبی مجا لس کا سلسلہ جا ری رہا اس میں احمد ندیم اعوان اور سکندر حیات سکندر کی کا وشیں لائق تحسین ہیں کانفرنسوں میں ڈاکٹر الٰہی بخش احتر اعوان ، ڈاکٹر امجد حسین، اعجا ز احمد قریشی، اعجاز رحیم اور دیگر قدآ ور شخصیات کی شر کت سے مثبت اثرات مر تب ہوئے

صوبائی حکومت نے کسی پبلک سیکٹر یونیور سٹی میں ہند کو اکیڈیمی کے قیا م سے اتفاق کیا 2014ء میں قو می اسمبلی نے پا کستا نی زبا نوں کے بارے میں ماروی میمن کی قرار داد منظور کی 2015 میں گندھا را ہند کو بورڈ اور صو بائی حکومت نے اشتراک کی بنیاد پر گندھا را ہند کو اکیڈ یمی قائم کی گند ھا را ہند کو اکیڈ یمی کا قیا م ہند آریا ئی زبا نوں کی شنا خت ، حفا ظت اور ترقی کے لئے نیک فال ثا بت ہوا مختصر مدت میں گند ھا را ہند کو اکیڈ یمی نے 300کتا بیں شاءع کیں ان میں قرآن پا ک کا منظوم ہند کو تر جمہ اور ہند کو اردو لغت قابل ذکر ہیں صوبے کی تما م زبانوں میں شاءع ہو نے والی کتا بوں کو جگہ دینے کے لئے جدید لا ئبریری قائم کی اکیڈ یمی کے تحت در جن سے زیا دہ اخبارات و جر ائد شاءع ہو نے لگے ، ہند کو ان ٹیلی وژن چینل آن ائیر گیا بچوں کے لئے کا رٹون کہا نیوں کا دلچسپ سلسلہ شروع ہوا کھوار زبان کا ششما ہی مجلہ کھوار اور ما ہانہ رسالہ کھوار نامہ شاءع ہونے لگا تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ گندھا را ہند کو اکیڈ یمی کے مجلے اور جریدے آن لائن دستیاب کر دئیے گئے ہیں ہر زبان کے پڑھنے والے امریکہ، برطا نیہ، جر منی، روس، چین اور جاپا ن میں بیٹھ کر اپنی زبان کا رسا لہ پڑھتے ہیں

وطن عزیز پا کستان میں گندھا را ہند کو اکیڈ یمی کو یہ اعزاز حا صل ہے کہ مختلف زبانوں کے ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر تی ہے اور گند ھا را ہند کو اکیڈ یمی کا یہ منفرد اعزاز ہے کہ اس کے اندر تما م زبا نوں کو یکساں تر قی کے موا قع دئیے جا تے ہیں اکیڈ یمی کے ساتھ وابستہ احباب اس کا کریڈٹ چیف ایگزیکٹیو ضیاء الدین کو دیتے ہیں جبکہ ضیا ء الدین اپنی کا میا بیوں کو ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *