کیا ہم اساتذہ کرام ہیں؟

دھڑکنوں کی زبان 

 

محمد جاوید حیات 
سکریٹری ایجوکیشن شاہ صاحب کے نام میرا ایک ارٹیکل روزنامہ آٸین میں شاٸع ہوا تھا اس میں ناچیز نے سکریٹری صاحب کو سرکاری سکولوں کے اندر معیار لانے کے لۓ کچھ مساٸل کی نشاندہی کی تھی اور توقع ظاہر کیا تھا کہ سکریٹری صاحب سرکاری سکولوں میں ضرور تبدیلی لاٸں گے۔
ان کا پہلا اقدام “صفائی مہم“ بہت اچھا لگا تھا ۔۔۔مگر آج ان کے اڈیو پیغام نے رولا دیا۔۔ میں تڑپ اٹھا میرا سر خود بخود شرم سے جھک گیا ۔سکریٹری صاحب شہر کے ایک سرکاری ہائی سکول میں سات بج کر چوالیس منٹ کو پہنچتے ہیں۔سکول کو اٹھ بجے کر پندرہ منٹ کو کھلنا ہے۔۔ آپ سکول میں ادھر ادھر گھومتے رہتے ہیں اٹھ بج کر چودہ منٹ تک دوچار اساتذہ کرام اورچند بچے آتے ہیں گیٹ بھی اٹنڈ نہیں ہوتا سکریٹری صاحب نے اساتذہ کے نام درد بھرا پیغام دیا ہے اپنے پیغام میں بار بار کہتے ہیں کہ سب اساتذہ ایسے نہیں ہوتے سب سکول ایسے نہیں ہوتے۔۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ایک سکول کوبھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ سکول قوم کی نرسری ہوتا ہے جہان گلشن انسانیت کے پھول پرورش پاتے ہیں اس لۓ ان باغوں اور نرسریوں کے مالی بھی کمال کے ہونی چاہیں ان سے کوتاہی اور غفلت سرزد ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا نا چاہیۓ۔ ان کا کام مہا کام ہے ان کے فراٸض قوم کی امانت ہیں ۔وہ معمار ہے راہبر ہے محسن ہے ۔وہ مثال ہے ۔۔۔دنیا میں سب سے خوبصورت کام ان کا ہے ان کا تعلق ان بچوں سے ہوتا ہے جن کو ان کے والدین خوب سجا رچا کے بنا سنوار کے ہزاروں آرزووں کے سنگ سکول بھیجتے ہیں ان کا کریکٹر ان کی تربیت ان کا مستقبل” استاد “نام کے اس بندے کو حوالہ کرتے ہیں اور اعتماد اتنا کہ کبھی پوچھتے بھی نہیں کہ استاد جی آپ کیا سکھاتے ہیں کیا پڑھاتے ہیں۔ اکثر والدین سے یہ شکایتں بھی ہوتی ہیں کہ وہ استاد سے پوچھتے نہیں کہ وہ کیا کرتا ہے جہان والدین کو وہ اعتماد ہو وہ کیا پوچھے۔۔
لیکن استاد کی بدقسمتی ہے کہ اس نے اپنا مقام خود کھودیا ہے ۔وہ بچے کے مستقبل کا ضامن نہیں بن سکتا۔وہ جوہری کا کردار ادا نہٕیں کرسکتا۔وہ خلوص کے جھومر سے خالی ہے وہ بچے کا درد لۓ نہیں پھرتا۔ وہ بچے کے مستقبل کی فکر میں ہلکان نہیں ہوتا۔ اس لۓ اس کی شخصیت اور اس کا کردار سوالیہ نشان ہیں ۔آج کل کے اساتذہ اکثر طلبا کی نافرمانیوں کا تذکرہ کرتے ہیں میں کہتا ہوں تابعدار شاگرد کہیں نہیں گیا استاد کہیں گیا ہوا ہے استاد اپنے خلوص، درد، جفاکشی اور سوز درون کے ساتھ وقت کے چکاچوند میں دفن ہوگیا ہے تعلیم و تربیت بھیجی جا رہی ہے اور استاد دکاندار ہے۔ استاد کسی کا شاگرد نہ کہے بلکہ انتظار کرے کہ اس کا شاگرد اس کو استاد کہے ۔۔اگر کوئی شاگرد استاد سے متاثر ہے تو وہ اپنے استاد کو دیکھ چمک اٹھے گا اور ضرور فخر سے کہے گا کہ میں آپ کا شاگرد ہوں۔۔
سرکاری سکولوں کی مخدوش حالات اور معیار ہم اساتذہ کے ہاتھوں یہاں تک پہنچا ہے اس کے ذمہ دار اولین ہم ہیں پھر جا کے کہیں حکومت معاشرہ اور والدین تک ذمہ داری پہنچتی ہے ۔۔۔ہمیں اپنی ڈیوٹی کا احساس نہیں ۔ہمیں اپنی ذمہ داری کی فکر نہیں ۔۔سکول کے اندر سب کچھ موجود ہے صفائی ستھرائی کے لۓ نوکر ہے کلاس فور ملازمین ہیں فرنیچر ہے عمارت ہے پانی ہے روشنی ہے بچے ہیں اگر نہیں ہے تو وہ اساتذہ کا خلوص ہے ۔استاذ کو چاہیے کہ شوق اور فخر سے حاضری سے تیس منٹ پہلے سکول آجاۓ اپنے فراٸض شوق سے انجام دے۔
اس کو چاہیۓ کہ وہ اپنے سے علاوہ معاشرے کے ان طبقوں کا سوچے جو اپنی ڈیوٹیوں کے لۓ جان کھپاتے ہیں ۔۔ان کے پاس کوئی اوپشن نہیں ہوتا ان کی چھٹیاں نہیں ہوتیں ان کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں وہ مراعات سے محروم ہوتے ہیں اگراستاد یہ نہیں سوچتا تو یہ ناشکری اور بناوٹ ہے ۔۔اگر کوئی اور طبقہ اپنی ڈیوٹی میں کوتاہی کرے تو یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے استاد والا کام پوری قوم کا معاملہ ہے استاد کی کوتاہی سوشل کرپشن ہے ۔آخر نوبت یہاں تک کیوں پہنچی کہ شہر کے سکول جہان سہولیات ہونے کے باوجود بدنظمی کا شکار ہیں ۔۔ہم اساتذہ کو چاہیۓ کہ اپنے آپ کو خود احتسابی کی بھٹی میں ڈالیں اس سے پہلے کہ ہم ناشکری کی وجہ سے اللہ کے عتاب کا شکار ہوجاٸیں اپنے آپ کو سنبھالیں۔ اگر ہم جفاکشی کو شعار بنا کر میدان میں اتریں گے تو پوری قوم ہمارے سامنے جھک جاۓ گی ۔۔ہم کسی سکریٹری کا انتظار کیوں کریں ہم ڈی ای او یا ڈی سی ایم اے کا انتظار کیوں کریں جبکہ ہمارا رب ہمیں دیکھ رہا ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *