Inayatullah Faizi

پرنس آف ویلز

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

یہ خبر پوری دنیا میں دلچسپی کے ساتھ سنی اور دیکھی گئی کہ انجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی رحلت کے بعد ان کے ولی عہد پرنس آف ویلز پرنس چارلس کو کنگ چارلس سوم کے نام سے بر طانیہ کا باد شا ہ بنایا گیا اور ان کے بیٹے ولیم کو ولی عہد کی حیثیت سے پرنس آف ویلز کا خطاب دیا گیا

یہ بات پا کستان میں اکثر لوگوں کو عجیب لگتی ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں انگریزی زبان کا راج ہے لیکن ویلز میں انگریزی کی جگہ مقامی زبان ویلش راءج ہے جس نے انگریزی کی جگہ لی ہے بر طانیہ کا ولی عہد ہو یا باد شاہ کوئی بھی ویلش کی جگہ انگریزی راءج نہیں کر سکتا، ویلش کو یہ درجہ 1707کے معا ہدہ الحاق کی وجہ سے ملا ہے اس معا ہدے کی رو سے ویلز، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئیر لینڈ نے انگلینڈ کے ساتھ مل کر یونا ٹیڈ کنگڈم ( یو کے ) بنانے کا اعلا ن کیا اوراپنے لئے اندرونی خود مختاری کی سند حاصل کی اس سند کی رو سے پرنس آف ویلز کو یہ حق نہیں کہ وہ شا ہی حکم کے ذریعے وہاں ویلش کی جگہ انگریزی راءج کر سکے

اقوام و قبا ئل کی زند گی میں ایسے موڑ اور ایسے مقا مات آتے ہیں جب ان کو حا لات کے مطا بق سمجھو تہ کرنا پڑ تا ہے کسی دوسری قوم کے ساتھ اتحاد کی ضرورت پیش آتی ہے یا کسی بڑے مقصد کو حا صل کرنے کے لئے وقتی طورپر جھکنا پڑتا ہے لیکن غیور اور خود دار قوم یا قبیلہ ایسے موڑ پر اپنی شنا خت، اپنی پہچان اور اپنے نا م یا ننگ و نا مو س کو بر قرار رکھتا ہے، اپنی زبان ، اپنے لباس ، اپنے رسم و رواج کو سینے سے لگا کر رکھتا ہے ویلز کے دار الحکومت کا رڈیف میں کر کٹ میچوں کی بڑی شہرت ہے کا رڈیف کے اندر گھومنے پھر نے والے سیاح جا نتے ہیں کہ پورے شہر میں سائن بورڈ ویلش زبان میں لکھے ہو تے ہیں، سکولوں میں ویلش پڑ ھا ئی جا تی ہے، دفتری زبان بھی ویلش ہے ویلز کے لو گوں کو انگریزی سے کدورت نہیں، انگریزی بھی انگلینڈ والوں کی طرح بولتے ہیں اور لکھتے ہیں مگر انہوں نے انگریزی کو مقا می زبان پر فو قیت اور تر جیح نہیں دی، انگلینڈ کے ساتھ اتحا د اور الحاق کر لیا لیکن اپنی شناخت، اپنی زبان اور اپنی ثقا فت کا سودا نہیں کیا

یہ اُس وقت کی بات ہے جب اقوام متحدہ جیسی عالمی تنظیم کا وجود نہیں تھا، عالمی قوانین اور کنو نشن نہیں تھے، مقا می لو گوں کو ایبو ری جینزیا انڈی جے نس کا در جہ نہیں دیا گیا تھا، اس کے باوجود یہ لوگ جا نتے تھے کہ اپنی زبان اور ثقا فت کا تحفظ ہمارا پیدائشی حق ہے، انگلینڈ کی محبت میں ہم اپنے حق سے دست بردار نہیں ہو سکتے اور دنیا کی کوئی قوم ہ میں اپنی شناخت سے دست بردار نہیں کر سکتی ، امریکہ کے ایمش اور کینڈا کے مینو ناءٹ بھی ایسے لو گ ہیں جو سمندر میں رہتے ہوئے قطرے کی انفرا دیت کو سینے سے لگا ئے بیٹھے ہیں ان کے مقا بلے میں دولت مشترکہ یا کامن ویلتھ میں شامل ممالک کا حال بہت پتلا ہے ان مما لک کو یہ پٹی پڑ ھا ئی گئی ہے کہ تم سو سال تک بر طا نیہ کے غلا م تھے، غلا می کے دور میں ہم نے تم کو اپنا لبا س دیا، اپنی زبان دی، اپنا کلچر دیا اب تم غلام نہیں رہے مگر زبان اور ثقا فت میں رہن سہن میں ہماری پیروی کرو ہم نے دولت مشترکہ کا پلیٹ فارم اس لئے بنایا ہے کہ تمہیں تمہا ری غلا می کا زما نہ یا د دلا تے رہیں پس تم انگریز ی پڑھو، انگریزی بولو، ہمارا لباس پہنو، ہمارا کلچر اپناءو تا کہ غلا می کا وہ زما نہ تمہیں یا د رہے اور تمہا ری نسلوں کو بھی یا د رہے بر طا نیہ کے ولی عہد شہزادے کو پرنس آف ویلز کہا جاتا ہے مگر ویلز میں ان کی زبان نہیں، ان کا لباس نہیں چلتا، ویلز کے لو گوں نے اپنی زبان کو اپنی آزادی اور خود مختاری کا وسیلہ، ذریعہ اور واضح نشا ن بنایا ہوا ہے علا مہ اقبال نے کہا

غیرت ہے بڑی چیز جہان تک و دو میں
پہنا تی ہے درویش کو تا ج سر دارا

One Reply to “پرنس آف ویلز”

Leave a Reply

Your email address will not be published.