انٹرنیشنل کلچرل کانفرنس اختتام پذیر، متفقہ قراردادوں کی منظوری

انٹرنیشنل کلچرل کانفرنس اختتام پذیر، متفقہ قراردادوں کی منظوری

چترال: انجمن ترقی کھوار چترال اور ایف ایل آئی اسلام آباد کے اشتراک سے پبلک لائبریری چترال میں منعقدہ ہونے والی تین روز انٹرنیشنل کلچرل کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ آخری نشست کی صدارت ڈپٹی کمشنر چترال انوار الحق نے کی۔

کانفرنس میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، ڈنمارک، جاپان اور پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں سے200 مندوبین نے شرکت کی۔
اختتامی نشست میں انجمن ترقی کھوار چترال کے صدر شہزادہ تنویر الملک نے کانفرنس کی سفارشات اور قرارداد یں پیش کیں جنکی متفقہ منظوری دی گئی۔
ایک قرارداد میں سفارش کی گئی کہ ہندوکش کے پہاڑی علاقوں میں بسنے والی اقوام اور قبائل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور ایکوساک میں انڈی جی نس کے طورپر تسلیم اور رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔ قدرتی وسائل، زمین اور پانی پرمقامی لوگوں کا حق تسلیم کیا جائے اور مقامی معدنیات ودیگر وسائل سے محروم نہ کیاجائے۔
ایک اور قرارداد میں حکومت کی توجہ موسمیاتی تبدیلی کی طرف دلاتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ گلیشئیر پگھلنے اور جنگلات اُجڑنے سے آنے والے سیلابوں کی تباہی اور بربادی سے پہاڑی وادیوں میں بسنے والے ہندوکش کے قبائل کو تحفظ دینے کے لیے سائنسی اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ ایک اور قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ہندوکش کے پہاڑی اضلاع میں بسنے والی اقوام وقبائل کی تہذیب، ثقافت اور زبانوں کو تحفظ دینے کے لئے لوکل گورنمنٹ کی ہرتحصیل میں عجائب گھروں کا قیام عمل میں لایا جائے۔
کانفرنس میں سفارش کی گئی کہ ہندوکش کی منفرد ثقافت اور 27مقامی زبانوں کو تحفظ دینے کے لئے پہاڑی اضلاع میں آرٹس کونسل اور کلچرل کمپلیکس قائم کئے جائیں، کانفرنس کے شرکاء نے اس بات کوسراہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے اسمبلی میں قانون پاس کرکے ہندوکش اور گندھارا کی6زبانوں کو اول سے بارہ جماعتوں تک سکول اور کالجوں میں پڑھانے کے نصاب سازی کا عمل مکمل کیا ہے۔
کانفرنس میں سفارش کی گئی کہ آگلے مالی سال سے مادری زبانوں کو سکول اورکالجوں میں پڑھانے کے لیے اساتذہ کی تربیت، تقرری اورکتابوں کی اشاعت کے بعد ان زبانوں میں پڑھانے کے لئے بجٹ میں وسائل مختص کیے جائے۔ کانفرنس کے مندوبین نے ایف ایل آئی کی طرف سے مادری زبانوں میں تعلیم اور کثیر السانی تعلیم کے لئے ہندوکش ریجن میں کیے گئے اقدامات کوسراہا اور حکومت کو سفارش کی کہ کثیر السانی تعلیم کے ساتھ مادری زبانوں میں تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
ایک اور قرارداد کے ذریعے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ہندوکش کی وادیوں میں جگہوں کے قدیمی نام تبدیل کرکے علم وتحقیق کے ذرائع محدود کیے جارہے ہیں، مقامات کے قدیمی ناموں کو یونیسکو کے قوانین کے تحت مکمل تحفظ دے کر بحال کیا جائے۔ کانفرنس کی بتیس نشستوں میں چارہالو ں کے اندر پچانوے مقالے پڑھے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.