Chitral Today, latest news from Chitral

پانچ کالاش پرائمری سکولوں سے مسلم طلبہ بے دخل

کالاش زبان و کلچر کے تحفظ کیلئے پانچ کالاش پرائمری سکولوں سے مسلم طلبہ کو نکال دیا گیا۔ طلبہ مشکلات کا شکار، اقدام مائنارٹی رائٹس ایمپلمنٹشن کے تحت چیرمین ون مین کمیشن کی در خواست پر ہوا 

چترال (محکم الدین) کالاش کلچر کےتحفظ کیلئے پرائمری سطح پر مسلم اور کالاش بچےجو عرصے سے کالاش پرائمیری سکولوں میں ایک ساتھ پڑھتے تھے عدالت عظمی کے حکم پر محکمہ ایجوکیشن چترال نے مسلم بچوں کو ان سکولوں سے خارج کر دیا ہے۔ جن میں ڈسچارج کئے جانے والے بعض بچوں کیلئے متبادل سکول موجود نہیں ہیں یا بہت دور ہیں۔ جہاں روزانہ اور خاص کر سخت موسمی حالات میں طویل پیدل چل کر پہچنا ان کے اور والدین کیلئے ایک مستقل مسئلہ بن گیا ہے۔

اس اقدام کو مسلم کمیونٹی کے لوگوں اور طلبہ کے والدین نے انتہائی نامناسب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جہان اس سے بچوں کیلئے مسائل پیدا ہو گئے ہیں وہاں اس عمل کے ذریعے صدیوں سے کالاش اور مسلم کمیونٹی کے مابین مثالی بھائی چارہ، اخوت اور باہمی امن و آشتی کے ماحول کو گرد آلود کرنے اور لکیر کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں ایک متاثرہ بچے کے والد اور پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما عبدالجبار نے میڈیا سے بات کرتےہوئےکہا کہ ہرکمیونٹی کو اپنی تہذیب و ثقافت کو محفوظ کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے اور ہم کالاش کلچر کے تحفظ کے اقدام کی مخالفت نہیں کرتے لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ کلچر کے تحفظ کے نام پر مقامی اقلیتی کمیونٹی کے چند افراد کی ایما ل پر جو فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے فوائد کی بجائے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانچ پرائمیری سکولوں کے درجنوں مسلم بچوں کو بیک جنبش قلم سکولوں سے بغیر کسی مشاورت، اطلاع اور متبادل انتظام کے نکال کر تعلیم سے محروم کرنا افسوسناک ہے۔ جبکہ حکومت بچوں کو تعلیمی محرومی سے بچانے کیلئے سالانہ داخلہ مہم چلاتی ہے۔ محکمہ ایجوکیشن کے اس عمل سے متاثر ہونے والے طلبہ اور والدین شدید ذہنی کوفت اور اضطراب کا شکارہیں اور یہ مسلم بچوں کے ساتھ سراسر زیادتی کے مترادف ہے۔ اس حوالے سے ایک کالاش پرائمر سکول کے استاد سے پوچھنے پر کہا  کہ میں ذاتی طور پر اس قسم کے کاموں کاحامی نہیں ہوں لیکن ایک ذمہ دار ٹیچر کی حیثیت سے محکمہ ایجوکیشن کےاحکامات پر عملدر آمد میری ذمہ داری اور مجبوری ہے۔ اس لئے مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے بہت سے باصلاحیت مسلم طلبہ کو سکول سے ڈسچارج کرکے سرٹفیکیٹ ان کے ہاتھوں میں تھمانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے گذشتہ ایک سال سے بات گردش کر رہی تھی لیکن گذشتہ دنوں محکمہ ایجوکیشن کے اجلاس میں فیصلہ کے بعد اس پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔

میں ذاتی طور پر اس اجلاس میں شامل نہیں تھا تاہم ہمارے سکول کے ایک ٹیچرنے اجلاس میں ضرور شرکت کی تھی اور انہوں نے فیصلے سےمتعلق مجھے آگاہ کیا تھا ۔

اس سلسلے میں جب ایس ڈی ای ا و شہزاد ندیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ محکمہ ایجوکیشن کی طرف سے یہ قدم سپریم کورٹ کے حکم پر عملدر آمد کیلئے اٹھایا گیا ہے جس میں کالاش کمیونٹی کے بچوں کی مادری زبان اور کلچرکے تحفظ کیلئے الگ سکول قائم کرنے کے احکامات دیےگئے ہیں۔ چونکہ رمبور، بمبوریت، بریر میں پانچ گورنمنٹ سکولز کئی عرصہ قبل تعمیر کئے جا چکے تھے جس میں مسلم اور کالاش دونوں بچے ایک ساتھ پڑھ رہے تھے۔ اب کالآش کمیونٹی نے بائی فارکیشن کے تحت چیرمین ون مین کمیشن برائے اقلیتی امور شعیب سڈل کے ذریعے سپریم کورٹ میں اپنی مادری زبان و ثقافت کے تحفظ کیلئے الگ پرائمری سکولوں کے قیام کیلئے درخواست کی تھی جس پر کمیشن کی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے سکول الگ کرنے کے احکامات دیےہیں جس پرعملدر آمد کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان سکولوں میں اساتذہ اور طلبہ سب کالاش کمیونٹی کے ہوں گے اور ان میں مسلم اساتذہ تعینات ہوں گے اور نہ مسلم طلبہ داخلہ حاصل کر سکیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ پرائمری سطح پرہے۔ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ہائی کلاسوں کیلئے بھی الگ سکول قائم کئے جائیں۔ اس سلسلے میں معاون خصوصی وزیر اعلی وزیر زادہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مذکورہ گورنمنٹ کالاش پرائمری سکولوں کی تعمیر ہی اسی مقصد کےتحت کئے گئے تھے کہ ان سکولوں میں کالاش طلبا ء و طالبات اپنے مذہب اور تہذیب و ثقافت کے مطابق اپنی زبان میں تعلیم حاصل کر سکیں لیکن کئی عرصے تک یہ ممکن نہ ہو سکا۔

گذشتہ سال سکولوں کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو میں نے آٹھ مہینوں تک ان سکولوں کوہینگ کرکے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کی یہ علیحدگی ماینارٹیز رائٹس ایمپلمنٹیشن کے تحت چیرمین ون مین کمیشن برائے اقلیتی امور شعیب سڈل کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے مطابق انجام پائی ہے۔

اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے میں سماجی و مذہبی ہم آہنگی پر یقین رکھتا ہوں۔ تاہم کالاش کمیونٹی کے لوگ اپنے زبان و ثقافت کے تحفظ کیلئے الگ سکولوں کے قیام کا حق رکھتے ہیں۔

وزیر زادہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بمبوریت کے مقام انیژ، احمد آباد اور کراکاڑ کے بچوں کو اس فیصلے سے یقینی طور پر مسئلہ درپیش ہوا ہے۔ جبکہ برون بمبوریت، بریر اور رمبور میں گورنمنٹ کالاش پرائمری سکول اور گورنمنٹ پرائمری سکول ساتھ ساتھ ہیں۔ تاہم کراکاڑ بمبوریت اور انیژ و احمد آبادکے بچوں کیلئے انتظام کرنے پڑیں گے۔ وزیر زادہ نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ میں ان دو متاثرہ مقاما ت کیلئے پرائمیری سکول تعمیر کروں

One Reply to “پانچ کالاش پرائمری سکولوں سے مسلم طلبہ بے دخل”

Leave a Reply

Your email address will not be published.