کھوژ اور دیوانگول کے متاثرین حکومتی امداد کے منتظر

کھوژ اور دیوانگول کے سیلاب متاثرین حکومتی امداد کے منتظر

کھوژ اور دیوانگول کے ہزاروں لوگ بے یارو مدد گار۔ ایک طرف سلائڈنگ ائریا دوسری طرف سے پورا روڈ ہی بہہ گیا۔ ہزروں لوگ قید۔

 ان علاقوں کو تحصیل ہیڈ کواٹر مستوج اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے زمینی طور پر ملانے والا روڈ جو کہ پہلے بھی دریا کی کٹائی سے بند ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں نے علاقے کی پسماندگی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ذاتی اور اباد زمینوں سے روڈ کھولا تھا اج وہ روڈ بھی بہہ گیا۔

ضلعی انتظامیہ منتخب نمائندہ گاں اور متعلقہ تمام ادارے اگر پہلے کوشش کرتے تو روڈ بھی بچ سکتا تھا اور لوگوں کی زمینین بھی۔۔ دریا کی کٹائی سے متاثر لوگ مدد کے انتظار میں تھے۔ ہالیہ بارشوں سے سیلاب نے علاقے میں تباہی مچا دی۔ کئی لوگ بے گھر ہو گئے ہیں لیکن بدقسمتی سے ابھی تک نہ کوئی منتخب نمائندے اس طرف ائےہیں نہ انتظامیہ کے لوگ نہ ہی متعلقہ ادارے۔۔

اس وقت علاقے میں سنگین صورت حال ہے۔ کئی بیمار کئی مغزور لوگ پھس چکے ہیں۔ روذ بند ہونے کی وجہ سے دوکانوں میں اشیائے خوردونوش کی قلت ہے۔ میڈیکل اسٹوز میں دوائیان ختم ہوچکے ہیں۔

دو دن کے اندر ضلعی انظامیہ اور متعلقہ تمام لوگ منتخب نمائندگاں علاقے کا دورہ کرکے ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کے مسائل حل کریں۔ ورنہ ہزاروں لوگ خواتین بچوں سمت بروغل پاس روڈ میں اکر روڈ بلاک کر کے درنا دینگے۔ 

ہم بھی اس مملکت کے شہری ہیں۔ ہمارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا پاکستان کے دوسرے شہریوں کا ہے۔ ہم کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے ہیں ہمیں ہمارے حقوق دئیے جائے۔ پرامن اور مہذب لوگوں کی صبر کا مذید امتحان نہ لیا جائے ۔

چترال کے اندر تمام متعلقہ لوگوں کو ہم کئی دفعہ اگاہ کر چکے ہیں۔ فوراً یہاں روڈ کا مسلہ حل کیا جائے اور متاثریں کی بحالی کے لئے جامع پلان بنایا جائے ورنہ عوامی ردعمل کے لئے تیار رہیں۔۔

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے تمام فلاحی تنظموں اور اداروں ںسے بھی درخواست ہے کہ ان علاقوں پر توجہ دیں۔ یہاں بنیادی انسانی حقوق مکمل پامال ہے ۔۔ انسانیت کے ساتھ نا انصافی اب کسی صورت برداشت نہیں۔۔ انسانیت کو بچانے کی ضرورت ہے۔

کرم علی سعدی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *