ظرف ظرف کی بات

دھڑکنوں کی زبان

 

محمد جاوید حیات

ایک گھر میں بڑے آفیسرز اور متمول شخصیات بیٹھے تھے۔ میزبان بھی دولت کی رنگینیوں میں مست تھا زندگی نام کی ناٹک سے سادگی غاٸب تھی۔ رنگ رنگیلیوں نے سیدھی سادھی زندگی اجیرن بنا دی تھی۔ سب لہک لہک کے باتیں کر رہے تھے۔ موضوع کوٸی ہوتا تو تبصروں اور دلاٸل کی بھر مار ہوتی۔ میں ایک کونے میں خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ کوٸی توجہ نہیں دے رہا تھا۔ موضوعات ایک ایک کرکے زیر بحث آنے لگے۔ آخر کو استاد زیر بحث آگیا۔ خوب اس پر تبصرے ہوۓ۔ کسی نے کنجوس کہا، کسی نے جھاٹ۔ کسی نے گنوار ۔۔کسی نے کہا اپنے مقام کا خیال نہیں رکھتا۔ کسی نے کہا محفلوں کے آداب سے نا آشنا۔ کسی نے کہا وقت کے تقاضوں سے نابلد ۔۔ناچیز کو اپنا آپ بہت چھوٹا نظر آیا ۔لیکن مطمٸن تھا ۔۔کہنے والوں کے پاس علم بہت کم تھا معلومات نہ ہونے کے برابر تھے ۔درمیان میں کسی نے چھیڑا ۔۔۔بھاٸی کیوں خاموش بیٹھے ہوۓ ہو ۔کوٸی بات کرو ۔۔۔میں نے مسکرا کر غالب کو یاد کیا 

بات پر واں زبان کٹتی ہے 

وہ کہے اور سنا کرے کوٸی 

شعر کسی کے پالے نہ پڑا ۔۔پولیس آفیسر نے کہا ۔۔۔شعرإ سارے پاگل ہوتے ہیں ۔ٹھیکہ دار نے کہا ۔۔ان کے پاس فضول وقت ہوتا ہے ۔ہم جیسے مصروف نہیں ۔۔مجھے ہنسی آٸی کہ ہمہ وقت بدعنوانی کے طوفان میں ڈھواں ڈھول بندہ نادان اپنے آپ کو مصروف کہتا ہے ۔۔آخ تف ۔۔۔تیری مصروفیت پر ۔۔وکیل نے کہا معاشرے میں استاد عجیب مخلوق ہے نہ ڈھنگ کے کپڑے نہ کسی مہذب محفل میں موجودگی نہ کسی شخصیت کے ساتھ نشست و برخواست ۔۔۔آخر یہ کیسی مخلوق ہے ۔۔استاد سے اس کی اس کم ماٸگی کی وجہ پوچھی گٸ تو استاد نے کہا ۔۔استاد تمہیں کچھ نہیں سمجھا سکتا ۔۔جس کو استاد تہذیب کہتا ہےوہ تمہارے نزدیک جھاٹ پن گنوار پن ہے ۔استاد جس کو کردار کہتا ہے وہ تمہارے نزدیک جہالت اور نا سمجھی ہے ۔استاد جس کو بڑا پن کہتا ہے وہ تمہارے نزدیک چھچھورا پن ہے ۔لہذامیرا اور آپ کا نہیں بنے گا ۔تم میں ایک خبط ہے ۔انا کا مرض تمہیں لاحق ہے اس معاشرے میں اس کا علاج نہیں ہوسکتا ۔اگر کوٸی مخلوق اپنی فطرت کے خلاف جاۓ تو برباد ہو جاۓ گا ۔۔اگر بکری کہے کہ میں شیر کا شکارکروں گی تو جان سے جاۓ گی ۔اگر انسان پتھر سے سر ٹکراۓ تو سر پھوڑ دے گا ہر مخلوق کا اپنا نیچر ہے۔انسان کی فطرت سادگی یے ۔یہ بے حیثیت مخلوق اگر ”خدا“ بننے کی کوشش کرے تو اپنے انسان بننے کی صلاحیت کھو دے گا ۔تم سب لوگ اس پیرامٹر سے نکل گۓ ہو ۔۔اپنے آپ کو انسان کہنے سے رہے ہو ۔تمہیں لگتا یے یہ دھن دولت ہی سب کچھ ہے دھن آتی جاتی چیز ہے کردار داٸمی ہے تم ” کمپلکس “ کا شکار ہو اپنے آپ کو انسانوں اور انسانیت سے پرے سمجھتے ہو لہذا قابل رحم ہو ۔تم میں ” انسان “ بننے کی جرآت نہیں تم میں حوصلہ نہیں کہ بازار سے اپنا سودا صلف خود اٹھا کے لاٶ ۔تم میں حوصلہ نہیں کہ ایک غریب راہ چلتے سے گرم جوشی سے ہاتھ ملاٶ ۔تم میں ظرف نہیں کہ مجھ جیسا کوٸی تمہاری محفل میں ہو تو اس کے لۓکھڑے ہو جاٶ۔ تم میں سادا لباس پہننے کی جرآت نہیں تم میں کسی بےبس کی دھاٸی پر کان دھرنے کا حوصلہ نہیں ۔تمہیں یہ ڈر ہے کہ تم جیسے احساس کمتری یا برتری کا شکار لوگ تمہیں برا کہیں گے ۔تمہیں یہ احساس نہیں کہ اللہ کے نزدیک تمہارا معیار کیا ہے ۔مقہور و محروم انسان تمہارے بارے میں کیا سوچتا ہے اگرتم میں ظرف ہوتا تو تمہاری دولت کی نمودو نماٸش نہ ہوتی ۔۔تمہاری آفیسر شاہی رغونت کا شاہکار نہ ہوتی ۔ظرف حلم بردباری کردار اور اخلاق کا نام ہے اگر ایسا ہے تو تمہارے پاس کوٸی ظرف نہیں۔کیونکہ تم ان اوصاف سے عاری ہو ۔خلیفہ رسول رض کپڑے کی تھان کندھے پہ ڈالے بازار میں بھیجنے پہ نکلے ان کو احساس نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے یہ ان کی بڑاٸی ہے ۔اگر آپ بڑے آفیسر ہو کر پیدل چلیں گے غریب پرور ہوں گے ۔۔آذان ہوتے ہی مسجد میں پہلی صف میں پہنچیں گے تو آپ کا ظرف بڑے گا ۔۔آپ انسانوں میں تنہا نہ ہوں گے۔لیکن آپ کے پاس ظرف نہیں ۔آپ اسلام کے پیروکار ہوتے ہوۓ مغرب کی مثال دیں گے کہ فلان ملک کا وزیر اعظم ساٸکل پہ دفتر جاتا ہے فلان ملک میں دفتروں میں چپڑاسی نہیں آفیسر خود کام کرتا ہے ۔یہ تو تمہارا کلچر یے ۔اغیار نےتم سے سیکھا ہے ۔تم دلاٸل مت دوبحث نہ کرو الفاظ کے گورکھ دھندے زندہ قوموں کو زیب نہیں دیتیں میری باتیں تمہیں پسند نہیں آٸیں گی۔ ۔۔ظرف ظرف کی بات ہے ۔۔۔ماٸنڈ نہ کرو ۔۔اپنی موشگافیاں دلاٸل اور تبصرے جاری رکھو ۔۔۔مجھے خاموش رہنے دو ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *