پھندک کا تہوار

شیر ولی خان اسیر
کھو ثقافت کے علمبرداروں میں راقم کا نام بھی شامل رہا ہے۔ گزشتہ ایک لمبے عرصے سے میں بالائی چترال کے دو مشہور تہواروں کے بارے میں لکھتا رہا ہوں اور ان کی احیاء کی ترغیب دلانے کی کوشش کرتا رہا ہوں لیکن اہل چترال نے ان تحریروں پر پسند کی حاضری لگانے کے سوا عملی حرکت نہیں کی۔ جب تک میری انگلیوں میں لکھنے کی سکت باقی رہے گی اپنے ثقافت کے علمبرداروں کو یاد دلاتا رہوں گا کہ خدا را اپنے تہواروں کو پھر سے زندہ کریں۔

ہر سال جون کے مہینے وادی مستوج کے باسی پھندک منایا کرتے تھے۔ تورکھو میں غاریوغ کے نام سے یہ تہوار منایا جاتا تھا۔ 1990 تک مستوج سے لے کر سو یارخون تک پھندک کا تہوار باقاعدگی سے منایا جاتا رہا تھا۔ 1983 تک راقم الحروف بذات خود اس تہوار کے منانے والوں میں شریک رہا ہے کیونکہ پولو کھیلنا میرا بھی پسندیدہ مشغلہ تھا اور پولو کا کھیل پھندک کے کھیل تماشوں میں سر فہرست تھا۔ آخری دفعہ 2013 یا 2014 میں اے کے آر ایس پی اور مقامی امدادی تنظیم پونار کے اشتراک سے یارخون میں یہ تہوار منایا گیا تھا۔ میراگرام نمبر دو کے پولو گراؤنڈ میں تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں سب ڈویژن مستوج کے اس وقت کے اے سی منہاس الدین اور اسرار احمد اے اے سی موڑکھو خاص مہمان کی حیثیت سے شریک ہوئے تھے۔
پھندک در اصل مال مویشیوں سے متعلق تہوار تھا۔ گرمی کے دنوں یعنی جون کے آخری ہفتے اور جولائی کے پہلے ہفتے کے اندر لوگ اپنے مال مویشی سرمائی چراگاہوں (کھوار میں انہیں غاری کہتے ہیں) کی طرف لے جاتے ہیں جسےغارنیسک کہتے ہیں۔ غارنیسک سے چند روز پہلے پھندک منایا جاتا تھا۔ پھندک سے ایک ہفتے پہلے پھندک کی تاریخ کا اعلان ہوتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ خواتین اس تہوار کے لیے دودھ، پنیر اور گھی کا انتظام کریں جسے “چاٹیک” کہتے تھے یعنی دودھ کو دہی بنانے کے لیے زیادہ مقدار میں جمع کیا جاتا تھا۔ پھندک سے ایک دن پہلے “شیتو مودک” یعنی لسی تیار کرنے اور مکھن نکالنے کا اہتمام ہوا کرتا تھا۔ اسی دن شام کو مویشی خانے کی دیوار کے اوپر مختلف پودوں کی ٹہنیوں سے ایک باغیچہ بنایا جاتا تھا نیز بکریوں کے سینگوں پر تیل کی مالش کی جاتی تھی۔
پھندک کی صبح سویرے گھر کی خواتین پھندک کا مخصوص طعام تیار کرنے لگتیں۔ یہ طعام خالص گھی سے تیار ہوتا تھا جسے “سناباچی” کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ کسی گھر میں “چھیر گرینج” یعنی کھیر اور کسی گھر میں ” ݯھیرہ ڑیگانو” بھی پکاتے تھے۔

ݯھیرہ ڑیگانو بھی کھیر جیسا طعام ہوتا ہے البتہ چاول کی جگہہ گندم کے آٹے کی چھوٹی چھوٹی گولیاں یعنی چھرے بناکر دودھ میں پکاتے ہیں جو کھیر سے زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ دونوں میں چینی کی جگہہ حسب ذائقہ نمک ڈالتے ہیں ۔ بڑے برتن میں کھیر یا ݯھیرہ ڑیگانو ڈال کر اس کے اوپر سناباچی ڈالتے ہیں جنہیں ملا کر کھایا جاتا ہے۔ بعض گھروں میں کھیر اور ڑیگانو کی جگہہ پنیر استعمال کرتے ییں۔ یہ خوراک خود بھی کھاتے ہیں اور مہمانوں کو کھلائی جاتی ہے۔
اس مخصوص طعام سے سب سے پہلے چرواہوں کا حصہ الگ کیا جاتا ہے جسے پھن کہتے ہیں۔ پھدک سے مراد پھن دینا ہوتا یے۔ چرواہوں کے اس حصے کے نام سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ تہوار چرواہوں اور مال مویشیوں کے اعزاز میں منایا جاتا تھا۔
پھندک کے روز خواتین جولا جھولتی اور ہوپدک کا کھیل کھیلا کرتیں۔ اس کے بعد دوپہر کے قریب “اوغجاڑ/اوغجان/اوغجنگ” کا کھیل کھیلا کرتیں جس میں ایک دوسرے کے اوپر پانی پھینکنا ہوتا تھا۔ کہیں لڑکے بالے مل جاتے تو ان پر پانی کی بوچھاڑ کرکے ان کے کپڑے گندہ کرنا خواتین اور لڑکیوں کا مرغوب تماشا ہوا کرتا تھا، خاص کرکے پولو کے لیے گراؤنڈ کی طرف جانے والے کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو ہدف بنایا کرتی تھیں جو زرق برق کپڑوں میں ملبوس ہوا کرتے تھے ۔ ہم بھی کئی دفعہ ان خواتین کے اوغجنگ کا شکار بن چکے ہیں۔
لڑکے، جوان اور بزرگ رسہ کشی، کشتی، وزن اٹھانے جیسے کھیل کھیلا کرتے اور دف کی تال کے ساتھ گیت گایا کرتے اور ناچا کرتے تھے۔ سہ پہر کو اپنے سنگیت کے آلات کے ساتھ پولو گراؤنڈ میں جمع ہوا کرتے۔ یہاں دف بجاکر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے اور اناڑی کھلاڑیوں کا مزاق بھی اڑایا کرتے۔ ہنسی مزاق کا ایک سماں باندھ دیا کرتے۔ شام کو گاؤں کے کسی بزرگ کے گھر موسیقی کا پروگرام ہوا کرتا تھا۔ یوں یہ ایک روزہ پھندک کا تہوار اختتام پذیر ہو جاتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.