چترال کا روایتی کھیل پولو

چترال کا روایتی کھیل پولو

پولو چترال کا قومی کھیل ہے۔ مختلف سرکاری محکمے اس کے لئے پیشہ ور ٹیمیں رکھتی ہیں اور صرف کھیل کے لئے کھلاڑیوں کو تنخواہ دیتے ہیں۔ یہ محکمے سرکاری خرچ پر باہر سے قیمتی گھوڑے اور سامان لاتے ہیں۔ 

ان محکموں کے پاس اللہ کا دیا پیسہ ہوتا ہے۔ اس کھیل کے لئے یہ لوگ لوگ عرب انگریزی مخلوط نسل تھارو بریڈ اور انگریزی ہندی ہاف بریڈ نسل کے گھوڑے لاکھوں روپے قیمت پر باہر سے منگواتے ہیں جسکا عام چترالی کھلاڑی متحمل نہیں ہو سکتا. چترالی قدیم زمانے سے چار نسل کے گھوڑے استعمال کرتے ہیں جن میں بدخشی، پنجابی گلگتی اور مغول گھوڑے شامل ہیں۔ باہر سے منگوائے ہوئے بڑے قد کے مضبوط گھوڑے لے کر سرکاری کھلاڑی مقامی کھلاڑیوں کو گیند سے پرے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں اس کھیل کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے اور خاندانی طور پر پولو کھیل سے وابستہ لوگ معدوم ہوتے جا رہے ہیں جبکہ مختلف محکمے سرکاری نام کی ٹکڑیاں لے کر علاقائی کھیلوں پر غالب ہوتے جا رہے ہیں جنکی دلچسپی صرف دکھاوے اور جیت کے انعام کی حد تک ہے۔ 

اس پر مزید یہ کہ انہوں نے چترال کے پولو کا نام وحشی پولو، جنگلی پولو یا آزاد پولو رکھا ہوا ہے جو نہایت نامناسب نام ہے۔ قدرتی طور پر پولو کھیلنے کا یہی صدیوں پرانا طریقہ تھا جس کے اپنے باقاعدہ قوانین مرتب ہیں۔ انگریزوں نے یہاں سے سیکھ کر یہ کھیل دنیا میں پھیلایا ہے اور اس کے اپنی طرف سے قوانین مرتب کئے ہیں ۔

جو محکمے پیشہ ور ٹیمیں رکھتی ہیں ان کے اپنے الگ مقابلے ہونے چاہئیں کیونکہ چترال کے روایتی کھیل کے طور پر اب اس علاقے کے اپنے لوگوں کا یہ روایتی کھیل ثانوی حیثیت حاصل کرتا جا رہا ہے اور یہ مختلف محکموں کا ہی کھیل بنتا جارہا ہے۔

محمد الیاس احمد

محلہ گولدور

گورنر کاٹج روڈ، چترال

2 Replies to “چترال کا روایتی کھیل پولو”

  1. بادشاہوں کا کھیل ۔۔۔اپنے بلبوتے پر زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔۔ داد کے مستحق ہیں ۔۔

  2. یہ ہمارا روایتی کھیل ضرور ہے لیکن آج کل یہ انتہائی مہنگا کھیل بن گیا ہے۔ جو کھلاڑی گھوڑے پالنے اور کھیلنے کا شوق رکھتے ہیں وہ مالی لحاظ سے بہت بھاری خسارہ اٹھا رہے ہیں اور یہ کہتے ہوئے کہ ” شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا” جانتے بوجھتے ہوئے مالی نقصان برداشت کر رہے ہیں اور ان کی گھریلو معیشت تباہ ہو رہی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.