Rahmat Karim Baig

صحافت کی دنیا کا ایک عجیب رنگ

پروفیسر رحمت کریم بیگ

صحافت کی دنیا کا ایک عجیب رنگ ہے اور اس حلقے میں ہزاروں بندگان خدا اپنی اپنی رزق کمارہے ہیں اور ان بیشمار لوگوں میں اچھے، درمیانے اور پست درجے کے افراد ہیں جن کے اپنے اپنے عمومی اور خصوصی مقاصد ہیں۔ جو اس پیشے سے ذیادہ کمارہے ہیں وہ خوش ہیں اور اسی فن کو مزید آگے بڑھانے میں لگے ہیں اور جو کم کماءو گروپ ہے وہ حسد کی آگ میں جلتا ہے

آج کل اس وسیع میڈیا کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے مافیاز کی بھر مار ہے اور لالچی گروپ کے لوگ اس دلدل میں پھنسے ہوئے ضمیر نام کی چیز سے محروم ہوچکے ہیں کہ وہ کرائے کے سپاہی ہیں اور مادی وسائل اکھٹا کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں جو تھوڑا سا ضمیر کے قیدی ہیں وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں میڈیا ہاوئسز نے ان کو خرید رکھا ہے اور خود میڈیا ہاوئسیز کو سیاسسی پارٹیوں نے خرید رکھا ہے اس خریدو فروخت میں ضمیر نام کی کوئی چیز اس وقت ہمارے ملک میں موجود نہیں۔

یہ سارا ملک مافیاز کے کنٹرول میں ہے، زرد صحافت کے نام سے موسوم یہ لوگ ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہیں جب تک ان کی بیخ کنی نہیں کی جائیگی یہ سلسلہ اس طرح چلتا رہےگا اور ملکی حالات بد سے بد تر ہوجائینگے مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ملک بھی ایک سخت جان ملک ہے اس کے پاس بہت اچھے وسائل ہیں ان کو بروئے کار لانے کے لئے صالح قیادت کی ضرورت ہے اور باکردار لوگ بھی اس معاشرے میں موجود ہیں جو اس ملک کو سنبھال سکتے ہیں۔

موجودہ سیاستدان اس دائرے سے باہر ہیں جو کہ پرانے بد کردار چور ہیں اور چالیس سالہ بد عنوانی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ان کے وجود کو ختم کرنا ہوگا۔ چین، ترکی، ویتنام، چند افریقی ممالک، جنوبی امریکی ممالک وغیرہ ہم جیسے حالات سے گذر چکے ہیں اور پھر انہوں نے خود انحصاری کی پالیسی اپنا کر اپنی اقتضا دیات کو درست کر دیا ہے۔ ہمیں مخلص قیادت کی ضرورت ہے بقول اقبال

مایوس نہیں اقبال اپنی کشت ویران سے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

2 Replies to “صحافت کی دنیا کا ایک عجیب رنگ”

  1. جب تک ملک کی سیاسی قیادت ایمان دار نہیں ہوگی تب تک ہم زرد صحافت سے چھٹکارا نہیں پا سکتے ۔ کرپٹ قیادت سے نجات پانے کے لیے خونی انقلاب کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ نظر ہی نہیں آ رہا اور انقلاب کے لیے ایک خمینی کی ضرورت ہے جو فی الحال ہمارے یہاں ملنا مشکل ہے۔
    صحافت کی گمراہ کن کردار کی وجہ سے میں نے ملکی خبروں اور تبصروں کے لیے ٹی وی دیکھنا اور اخبار پڑھنا بند کیا ہوا ہے کیونکہ جھوٹ کا سننا اور دیکھنا دونوں گناہ ہیں۔

  2. پی ٹی آئی جوائن کرنے کے بعد پروفیسر صاحب کا لہجہ بھی عمران خانی ہوگیا ہے چور ڈاکو کا رٹ الاپ رہے ہیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.