اسلحہ کی دوڑ

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
موجودہ زمانے کی خطرناک اورتشویشناک دوڑ اسلحہ کی دوڑ ہے اس دوڑ میں قو میں اور قومی حکومتیں ایک دوسرے کامقابلہ کرتی ہیں۔ سویڈن کے شہر سٹاک ہوم سے ایک سروے رپورٹ آگئی ہے کہ فوجی اخراجات اور اسلحہ کی خریداری میں دنیاکے192ممالک میں بھارت کا تیسرا نمبرہے۔ امریکہ پہلے نمبر پر ہے جبکہ چین دوسرے نمبر پر ہے روس اور برطانیہ اس دوڑ میں بھارت سے پیچھے ہیں۔

امریکہ نے2021ء میں 801ارب ڈالر فوجی اخراجات پرلگایاعوامی جمہوریہ چین نے293ارب ڈالر خرچ کئے اس کے بعد بھارت کا نام آتا ہے بھارت نے76ارب ڈالر فوجی اخراجات میں جھونک دیے بھارت کا المیہ جہت قابل رحم ہے اس ملک میں 46فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذار رہی ہے10فیصد آبادی کے سروں پرچھت نہیں دن بھر مزدوری کرنے یا بھیک مانگنے کے بعد رات کسی فٹ پاتھ پریاکسی دکان کے تھڑے پر اینٹ یاپتھر کوسرہانہ بناکر سوتی ہے۔ حکومت کو غربت کی لکیر سے نیچے جانے والی آبادی یا فٹ پاتھوں پر رات گذارنے والی آبادی کی پرواہ نہیں حکومت کو اگر کوئی فکر ہے تو یہ ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش،نیپال،سری لنکا اور مالدیپ میں دہشت گردی یا پڑوسی ملکوں پر فوجی حملوں کے لئے کس طرح اسلحہ جمع کیا جائے اس لئے سال بہ سال فوجی اخراجات کا گراف بڑھٹا رہتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں انسانی وسائل کی ترقی، اپنی آبادی کے سماجی تحفظ اور عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور عوامی فلاح وبہبود کا گراف سال بہ سال گرتا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے جنرل اسمبلی کو ہرسال جو رپورٹ پیش کی جاتی ہے اس رپورٹ میں ہرسال اس امر پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے کہ امن،جمہوریت اورجدیدیت کاراگ الاپنے کے باوجود ترقی یافتہ اقوام اسلحہ جمع کرنے اور جنگی سازوسامان اکھٹا کرنے پروسائل خرچ کرتے ہیں اور آپس میں فوجی طاقت کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ اس رجحان کی وجہ سے ہرسال جنگ کا خطرہ بڑھتا جاتا ہے اور دنیا کو انسانی آبادی کے لئے پرسکون جگہ بنانے کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔ اگر اس مسئلے کا پس منظر دیکھا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد جنگ کے خطرے کو روکنے کےلئے مجلس اقوام یعنی لیگ آف نیشنز بنائی گئی،1919سے لےکر1939تک20سال بمشکل گذرے تھے کہ مجلس اقوام کے ہوتے ہوئے دوسرے جنگ عظیم چھیڑدی گئی۔ جس میں جنگی جہازوں اورنت نئے بموں کا استعمال ہوا ۔ ہیروشیما اور ناگاسا کی جیسے صنعتی شہروں پربمباری سے بڑے پیمانے پرتباہی اوربربادی ہوئی ۔ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اقوام متحدہ یعنی یونائیٹڈ نیشنز ارگنائزیشن بنائی گئی تاکہ تیسری جنگ عظیم کا راستہ روکا جاسکے،6سال بعد1951 میں کوریا کی جنگ چھیڑی گئی20سال بعد ویت نام کی ہولناک جنگ شروع ہوئی اقوام متحدہ کی تنظیم تماشا دیکھتی رہی۔

جنگ، بدامنی اورنسل انسانی کی بربادی جاری رہی1979ء میں اقوام متحدہ کو بنے ہوئے34سال ہوگئے تھے افغانستان میں 29ممالک پر مشتمل نیٹو اتحاد نے تیسری جنگ عظیم چھیڑدی ۔ 1990ء میں اقوام متحدہ کی عمر نصف صدی سے زیادہ یعنی 54سال ہوگئی توعراق میں چوتھی جنگ عظیم کا آغاز کیا گیا۔ اس جنگ کو نیٹواتحاد نے خود اُم اُلحرب یعنی تمام جنگوں کی ماں کانام دیا۔ مطلب یہ تھا کہ اس جنگ سے مزید جنگوں کی راہیں کھلینگی،چنانچہ راہیں کھل گئیں ،لیبیا،شام،یمن جنگ کی لپیٹ میں آگئے،الجزائر،صومالیہ اور سوڈان بدامنی سے بربادہوئے اور اب یوکرین میں نئی جنگ شروع ہوچکی ہے یہ تمام جنگیں اسلحہ کے انباراور فوجی طاقت میں اضافے کا شاخسانہ ہیں ۔ امریکہ اور بھارت کی جنگی تیاریوں پر دنیاکوبجاطورپر تشویش لاحق ہے۔ اسلحہ کی دوڑاسی طرح جارہی تو مستقبل میں بھی امن کاخواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوگا بھارت کے ہاتھوں خطے کے ممالک بدامنی کی زد میں رہینگے۔

One Reply to “اسلحہ کی دوڑ”

  1. امریکہ کی معیشت اور دنیا میں اس کی تھانیدار ی کا انحصار اسلحہ سازی، کاروبار اور استعمال پر ہے۔ اسے دنیا کی تباہی کی
    فکر ہرگز نہیں ہے۔ لہذا وہ اس صنعت کو ترقی دیتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.