انقلاب کی دستک

0

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

پڑوسی ملک میں غریبوں کی سیا سی جماعت عام آدمی پارٹی نے تیسری بار دارلحکومت میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے دہلی کی حکومت کے بعد اب پنجاب میں بھی 117نشستوں میں سے 92نشستیں حاصل کرکے دو تہائی اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے

غریبوں کی جماعت کو پہلے دہلی اور اب پنجاب میں حکومت ملنا جنوبی ایشاء میں بالعموم اور بھارت میں با لخصوص انقلاب کی دستک ہے عام آدمی پارٹی کے سر براہ اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ ہم نے دہلی ما ڈل کی کامیاب مثال کو سامنے رکھ کر پنجاب کے انتخا بات میں میدان ما ر لیا اب یہ ماڈل پورے ملک میں ازما یا جا ئے گا اور عوام کی خو شحا لی کا ضا من ہو گا یہ تین جملے اپنے اندر معا نی کا سمندر پو شیدہ رکھتے ہیں

ماضی قریب میں تر کی کے مو جو دہ صدر رجب طیب اردگان کی پارٹی ملا ئشیا کے سابق وزیر اعظم مر حوم مہا تیر محمد کی جما عت اور سنگاپور میں سابق وزیر اعظم لی کوان یونے میو نسپل کمیٹی کی سطح پر کا میا بی کے بعد بہترین نظم و نسق اور خد مت کی مثال قائم کی اس کے بعد ملکی سطح پر اس ما ڈل کے ذریعے حکومت کر کے عوام کی خوشحا لی اور ملکی ترقی کی بنیا دوں کو مستحکم کیا ان کی مثا لیں دی جا تی ہیں بھارت ایک ارب 38کروڑ کی آبادی کا ملک ہے اس کا دارلحکو مت دہلی بہت پیچیدہ شہر ہے جہاں کچی بستیوں کے گھمبیر مسا ئل ہیں، نسلی اور مذہبی تعصبات پر مبنی فسادات کی لمبی تاریخ ہے، غر بت کی لکیر سے نیچے زند گی گذار نے والے غریبوں کے گوناگوں مسا ئل ہیں عام آدمی پارٹی نے نومبر 2012سے مارچ 2022تک ساڑھے 9سالوں میں کس طرح دہلی سرکار کو پنجاب کے لئے مثا ل بنایا اس کی کوئی طویل پر اگرس رپورٹ نہیں، تین جملوں پر مشتمل پروگرام ہے مفت بجلی دیدی، مفت پانی دیدی سرکا ری اخراجا ت میں کمی کر کے کچی بستیوں کو سہو لتیں دیدیں

یہ تین جملے عام آدمی پارٹی کی حکومتی پا لیسی اور کار کر دگی کا خلا صہ ہیں اس اجما ل کی تفصیل بتا نے والے لکھتے ہیں کہ حاکم اور محکمو م کا فر ق ختم کیا اروند کچریوال ہر جگہ دستیاب ہوا، ہر کوئی اس سے مل سکتا تھا وہ ہر ایک سے بات کرتا، ہر ایک کی بات سنتا تھا اس کے ارد گرد خو شا مد کر نے والوں کا حصار نہیں تھا ہٹو بچو اور ظل الٰہی والا پروٹو کول نہیں تھا اگر کسی محلے میں فسا دات ہو ئے تو کیچریوال خود وہاں پہنچا اس نے لو گوں کے زخموں پر مر ہم رکھ دیا اس نے ایک نیا حکومتی نمو نہ پیش کیا جس میں غریب اور امیر کا فرق مٹا دیا گیا انصاف کو عام کیا گیا، ہر ایک کو انصاف ملنے لگا سب سے عجیب اور انو کھی بات ہے کہ دہلی میں اقتدار کے دوران عام آدمی پارٹی نے 8سالوں میں نیا ٹیکس نہیں لگا یا پرانے ٹیکسوں میں 60فیصد کٹو تی کی 12روپے کا ٹیکس 5روپے اور 18روپے کا ٹیکس 7روپے کر دیا ، اخرا جا ت کیسے پورے کئے اس کا سیدھا سادہ اور آسان فارمو لہ دیا گیا کا بینہ میں غریبوں کو جگہ دو ، کا بینہ کا خر چ بہت کم ہو گا کوئی پر وٹو کول نہیں کوئی جا پا نی گا ڑی نہیں کوئی جہا ز نہیں جس طرح یہ لو گ حکومت میں آنے سے پہلے رہتے تھے حکومت میں آکر بھی اُسی طرح رہنے لگے ہمارے مغربی پڑوس میں افغا نستا ن کے اندر 1994سے 2001تک ایسی کا میا ب حکمرا نی کا تجربہ ہوا تھا غیر ملکی مداخلت نے اس حکومت کو گھر بھیجدیا اب اگست 2021 میں ایک بار پھر وہاں غریبوں کی حکومت آگئی ہے پوری دنیا اس حکومت کو نہیں مانتی غریبوں کے ذریعے آنے والے انقلاب کو نہیں ما نتی ان کے اثا ثے منجمد کئے گئے ہیں کسی اسلا می ملک نے بھی اس حکومت کو تسلیم کر نے کی ہمت نہیں کی عام آدمی پارٹی کا ماڈل اگر دہلی سے پنجاب آنے کے بعد پنجاب سے پورے بھارت میں پھیل گیا تو اس کو پورے جنوبی ایشیا میں غریبوں کے اقتدار کا ماڈل قرار دیا جا ئے گا

جس طرح عالمی بینک ، ایشیا ئی ترقیا تی بینک اور دیگر ما لیاتی اداروں نے بنگلہ دیش کے گرا مین بینک اور پا کستان کے اخوت فاونڈیشن کو غریبوں کے لئے بہترین ما ڈل قرار دیا اس طرح عام آدمی پارٹی کے ما ڈل کو بھی مثا لی ماڈل کے طور پر پیش کرینگے بی جے پی اور کانگریس کی اجا رہ داری ختم ہو جائیگی یہ کا میا بی پورے جنو بی ایشیا کے لئے انقلا ب کی دستک ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!