Chitral Today
Latest Updates and Breaking News. Editor: Zar Alam Khan.

صدارتی نظام

پروفیسر رحمت کریم بیگ

میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے – میرے لئے مٹی کا حرم اور بنادو

مملکت خداداد پاکستان جب سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا اس وقت بھی یہ اپنے ساتھ پارلیمانی نظام کو لیکر ایا اور اس کو اگلے گیارہ سالوں میں خوب رگیدا گیا، اس سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، ہر ایک نے اس میں نقص نکالنا شروع کیا، اس پارلیمانی آئین کو سکندر مرزا نے ناقابل عمل قرار دیا۔ دوسرے اس کے ہم عصر سیاستدان بھی اس کے ساتھ کھیلتے رہے، غلام محمد نے بھی اس کے ساتھ جو چاہا کیا پھر جنرل ایوب خان کے ہاتھوں نے اس کو دفن کیا۔ پھر انہوں نے اپنی سوچ کے مطابق ایک اور ڈور ڈالا اور صدارتی نظام کے لئے اپنے چیلوں کو ہمنوا بنایا، اس سے پہلے بنیادی جمہوریت کا ایک بلدیاتی نظام رائج کیا جس کے ممبران نے صدر پاکستان کا انتخاب کیا، اس کے بعد صدارتی نظام حکومت قائم کی گئی جس میں تمام اختیارات صدر کے ہاتھ میں تھے اس نے اپنے ساتھ ٹیکنو کریٹس کی ایک ٹیم بناکر ملک کو چلنے کو کہا کہ چلو مگر اس میں چلنے کی سکت نہ تھی وہ چند سال ایک گدھا گاڑی کی رفتار سے چلتی رہی اور پھر اللہ کو پیاری ہوگئی۔
ٓ
اس آئین میں اور اس سے پہلے والے میں سیاست دانوں نے اپنے مفاد میں ایک اچھی پہلو کو شامل کرنے میں پس و پیش کیا تھا دونوں میں ملکی سطح پر ریفرنڈم کی کوئی شق نہیں تھی اور نہ یہ چیز موجودہ آئین میں شامل ہے، کسی بھی اہم قومی معاملے پر ملک میں بالغ افراد سے براہ راست رائے لینے کو ریفرینڈم کہتے ہیں اور یہ طریقہء کار دنیا کے بہت سے ملکوں میں رائج ہے اور یہ ایک اچھا متبادل طریقہ ہے اس سے عوام کو اہم ملکی ایشو پر رائے دینے کی ازادی ہوتی ہے اور یہ بھی ایک بنیادی حق ہے۔

موجودہ آئین بھی کچھ ایسا ہی کمزور دستور ہے اس کو بدل کر ریفرینڈم کی شق شامل کرکے ایک صدارتی آئین نافذ کرنے میں بعض لوگوں کی دلچسپی نظر انے لگی ہے اور میری ناقص رائے میں یہ بھی ایک اصلاحی کوشش ہے اور صدارتی نظام میں کئی کام صدر کی صوابدید پر ہوتے ہیں جبکہ پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم کے پاس اگر اکثریت ہے تو کوئی قانون پاس کراسکتا ہے ورنہ ایک مخلوط حکومت کچھ بھی انجام نہیں دے پاتی اور مخلوط حکومت کے اتحاد یوں کے ہاتھ مجبور ہوجاتا ہے، قومی اسمبلی کا ہر ازاد ممبر حکومت گرانے کے لئے بک جاتا ہے، ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے، ناراض گروپ بنتے ہیں اور حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں، قانون سازی نہیں ہوپاتی، عدم اعتماد کی تلوار وزیر اعظم کے سر پر لٹکی رہتی ہے اس لئے بہتر ہے کہ موجودہ پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام لایا جائے اور صدر کے پاس زیادہ اختیارات ہوں اور وہ دیانت دار بھی ہو ہائے افسوس ! پاکستان میں دیانتدار ملنا کتنا مشکل ہے، جب تک موجودہ سیاست دانوں اور تمام سیاسی کارکنوں اور وڈیروں اور جا گیر داروں اور مافیاز کا قلع قمع نہیں کیا جائیگا دیانت دار دوربین سے بھی نظر آئیگا۔

You might also like

Leave a Reply

error: Content is protected!!