برف باری کے بعد کالاش وادی میں روایتی کھیل عروج پر

برف باری کے بعد کالاش وادی میں روایتی کھیل عروج پر

چترال (محکم الدین) کالاش وادیوں میں برفباری نے جہاں اس کے حسن میں اضافہ کیا ہے وہاں برف پر کھیلے جانے والے معروف روایتی کھیل کریک گاڑ (سنو گالف) کیلئے برف کا انتظار کرنے والے وادی کے نوجوانوں میں نئی روح پھونک دی ہے اور مختلف گاوں کے نوجوانوں کی ٹیمیں دوسرے گاوں کی ٹیموں کا مقابلہ کرنے کیلئے میدان میں اترآئی ہیں۔

گذشتہ روز کالاش ویلی بمبوریت کے دو دیہات انیژ اور برون کا آپس میں زبردست مقابلہ ہوا۔ اس موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں مقامی لوگ اور سیاحوں نے اس کھیل کا نظارہ کیا اور محظوظ ہوئے۔ دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد انیژ گاوں کی ٹیم نے برون ٹیم کو پانچ کے مقابلے میں سات پوائنٹ سے شکست دے کر کامیابی اپنے نام کر لی۔ کھیل کے اختتام پر دونوں ٹیموں نے کلچرل شو کا اہتمام کیا جس میں کھلاڑیوں نے جی بھر کر رقص کیا۔ کالاش کمیونٹی سے تعلق کھنے والے نوجوان سوشل ورکر لوک رحمت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وادی کے طول و عرض میں کریک گاڑ کے مقابلے شروع ہو چکے ہیں اور ایک جشن کا سماں ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کے مختلف شہروں سے سیاح برفباری اور روایتی کھیلوں اور کلچر کو سردیوں میں انجوائے کر رہےہیں جبکہ پچھلے کئی سالوں سے کالاش ویلیز میں سرمائی سیاحت متروک ہو چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جن سیاحوں نے برفباری کے دوران کالاش وادیوں کی وزٹ کی۔ وہ مقامی مہمان نوازی اور محبت و احترام سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب بھی سیاحوں کی آمد جاری ہے ۔ انہوں نے ملک کے کونے کونے سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کو دعوت دیتےہوئے کہا کہ چترال کی کالاش وادیاں ہزاروں سال قدیم کلچر، تہذیب و ثقافت، محبت و روایتی مہمان نوازی کے ساتھ ہوس زر کے اندھے پن سے پاک ہیں۔ اس لئے سیاح خودکو مری جیسے مقامات میں ہوٹل مالکان سے لوٹنے اور موت کی آغوش میں جانے کا موقع فراہم کرنے کی بجائے چترال کی کالاش وادیوں کا رخ کریں اور زندگی بھر کیلئے سیاحت کا لطف اور مہمان نوازی کی یادگاریں سمیٹ کر اپنے ساتھ لے جائیں۔
کالاش وادیوں کا کریک گاڑ (سنو گالف) ہزاروں سال قدیم کھیل ہے جو وادیوں میں ڈیڑھ سے دو فٹ برف پڑنے پر کھیلا جاتا ہے جب وادی کے تمام کھیت برف کی موٹی تہہ والی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ یہ ایسا کھیل ہے جس کیلئے گراونڈ کی کوئی قید نہیں ہوتی اور بعض اوقات ڈیڑ ھ سے دو کلومیٹر طویل گراونڈ میں یہ کھیل کھیلا جاتاہے ۔ مقابلے کی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کیلئے مرد و خواتین سب میدان میں اتر آتے ہیں اور سیٹیاں بجاتے تعریفی کلمات کہتے وادی گونج اٹھتی ہے۔

کامیابی کیلئے شرط لازمی ہے ۔ پہلے بکروں کی شرط لگائی جاتی ہے۔ اس کے بعد گائے اور بیل کی شرط لگتی ہے ۔ لیکن اچھی بات یہ ہے ۔ کہ دونوں گاوں کے لوگ مل کر ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کرتےہیں اورکھلاڑیوں و مہمانوں کی خد مت میں پیش کرتےہیں۔ اب تک سینکڑوں بیل اور دیگر مویشی اس کھیل کی بھینٹ چڑھ چکےہیں ۔چترال کی کالاش وادیوں میں امسال برفباری کے دوران بھی ہوٹل کھلے ہیں اور مہمانوں کی آمد جاری ہے۔ اس سے اس وقت کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ جب آج سے پینتیس، چالیس سال پہلے دہشت گردی کے نام سے کوئی واقف نہیں تھا اور غیر ملکی سیاح سردیوں میں چترال کی کالاش وادیوں میں لوگوں کے ساتھ مہینوں گھروں میں رہتےتھے اور گھر کے فرد کی حیثیت سے گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ اور پیئنگ گیسٹ کی حیثیت سے گھر کےمالکان کی مدد بھی کرتے تھے لیکن بعدکے حالات نے اسے قصہ پارینہ بنا دیا۔

اس وقت کالاش وادیوں میں معیاری گیسٹ ہاوئسز اور ہوٹل موجود ہیں جن میں مناسب دام پر مہمان سیاحوں کو سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ اگر ملک کے تناظر میں دیکھا جائے۔ تو چترال اور کالاش وادیوں میں ہوٹلوں کے ریٹ اور کھانے پینے کے اخراجات شہروں کی نسبت بہت مناسب ہیں جن سے سیاح فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.