چنرل وارڈ کے ایک مریض کی گذارشات

جنرل وارڈ کے ایک مریض کی گذارشات

محکم الدین ایونی

چترال کا ڈی ایچ کیو ہسپتال مادر ہسپتال کا درجہ رکھتی ہے۔ اپر اور لوئر چترال کی 447800آبادی کا زیادہ تر انحصار اس ہسپتال پر ہے جس کی وجہ سے یہاں پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں پر سب سے بڑا بوجھ ہے۔ کیونکہ سپشلسٹ سمیت دیگر ڈاکٹروں کی دو درجن سے زیادہ آسامیان اب بھی خالی ہیں۔ ایسے میں جو سپشلسٹس و ڈاکٹرز چترال بھر کا بوجھ برداشت کر کے خدمات سر انجام دے رہے ہیں یقینا لائق تحسین و آفرین ہیں۔

ہو سکتا ہے بہت سارے قارئین میرے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن مجھے سات روز تک ہسپتال میں اپنے داخلے کے دوران نہایت باریک بینی سے جائزہ لینے کا موقع ملا۔ اس دوران حکومت اور ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے کئی اچھے اقدامات کا مشاہدہ اور ناقص کارکردگی سے واسطہ پڑا جنہیں میں کسی کی بے جا خوشنودی حاصل کرنے یا بلا وجہ کمزوریاں تھوپنے کی غرض سے ضبط تحریر میں نہیں لا رہا بلکہ میرا بنیادی مقصد اصلاح احوال ہے۔

ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں میرے داخلے کی کہانی 4جنوری سے شروع ہوتی ہے جب مجھے شدید سانس کی تکلیف بخار اور کمزوری کی شکایت پیدا ہوئی۔ بدقسمتی سے اس روز فائر ووڈ الاونس کے سلسلے میں ہسپتال کے لوئر سٹاف احتجاج پر تھے اور او پی ڈی بند تھا۔ تاہم صحت کارڈ کا آفس کھلا تھا۔ ڈاکٹر نے ایمرجنسی میں چٹ لینے کی رہنمائی کی اور مختلف ٹسٹ کے ریزلٹ دیکھنے کے بعد فوری داخلہ کا مشورہ دیا جس کے بعد صحت کارڈ کا مرحلہ طے ہوا اور جب ادویات متعلقہ سٹور سے لے کر وارڈ میں داخلے کیلئے پہنچا تو کوئی بیڈ خالی نہیں تھا۔ داخلہ رجسٹر کو اپڈیٹ کرنے والے ایک اسٹاف نے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مجھے یہ ادویات لے کر گھر جاکر استعمال کرنے کی ہدایت کی۔ یہ بات میرے بھی دل کو لگی کہ جب ہسپتال میں بیڈ خالی نہیں ہے تو گھر میں علاج کے علاوہ میرے پاس اور کوئی اپشن نہیں ہے۔ اس لئے مجھے گھر ہی جانا چاہئیے۔ دل میں اس فیصلے کے بعد مجھے صحت کارڈ اہلکار کے پاس دوبارہ اس غرض سے جانا پڑا۔ تاکہ دو دنوں کیلئے مجھے مزید ادویات مل جائیں۔ صحت کارڈ ڈیل کرنے والے نوجوان نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا کہ ایک تو ہم صرف داخل مریض کیلئے ڈاکٹر کے لکھے ہوئے ایک دن کی دوائی کے نسخے پر مہر لگاتے ہیں۔ دوسرا صحت کارڈ کے حامل مریض کو ہسپتال کے بیڈ پر موجود ہوئے بغیر علاج کی سہولت نہیں دی جاتی۔ اس لئے آپ کا ہسپتال میں ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کو مزید چیک کرنے اور ادویات کی ضرورت ہو۔ پھر انہوں نے انکشاف کیا کہ ہسپتال میں صحت کارڈ پر داخل مریضوں کی فزیکل بیڈ چیکنگ نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے بعض صحت یاب شدہ مریض مختلف طریقوں سے ڈاکٹروں سے رعایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ضرورت مند مریض بیڈ سے محروم رہتے ہیں۔

میرے بیڈ کا مسئلہ میرے ایک محترم ڈاکٹر کے تعاون سے حل ہوا اور میں ڈاکٹروں کے بھر پور توجہ کی بدولت سات دن ان کےزیر علاج رہنے کے بعد 10 جنوری کو ہسپتال سے فارغ ہوا۔ ہسپتال میں میں نے چند چیزوں کا مشاہدہ کیا جن کا میں اس تحریر میں بطور خاص ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور یہ امید رکھتا ہوں کہ ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال شہزادہ حیدر الملک ایک دیانتدار اور فرض شناس آفیسر ہیں جن کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کی سیٹ سنبھالے تقریبا چند ہی دن ہوئے ہیں۔ میری گزارشات پر ضرور توجہہ دیں گے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ حکومت مریضوں کو جو سہولت دینا چاہتی ہے۔ اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں۔

ہسپتال میں ایک رات میرے کان میں شدید درد اٹھی۔ مجھ سے رہا نہیں جا سکا۔ میں اٹھا نرسز اور پیرامیڈیکس کاونٹر کے اندر جھانکا تو دو بینچوں پر دو افراد سو رہے تھے۔ میں نے ایک کا اور دوسرے کا چادر کھسکایا اور پوچھا کہ تم سٹاف ہو۔ دونوں نے کہا ہم اپنے مریضوں کے ساتھ ہیں۔ میں اس حالت میں کہ میرے کان کے اوپر چھرا گھونپا جا رہا تھا۔ مسیحا کی تلاش میں وارڈ سے باہر نکلا اور ڈیوٹی روم پہنچا تو وہاں پر ایک نوجوان خواب خرگوش میں مصروف تھا۔ میں نے اسے جگانے کی کوشش کی اور بمشکل اس میں کامیاب ہوا۔ میرا خیال تھا کہ یہ میرا مسئلہ حل کر جائے گا۔ لیکن اس نے موبائل اٹھاکر ایک دوسرے بندے کو کال کی۔ وہ آیا تو وہ بھی میرے کام کانہیں تھا۔ یہ تیسرے شخص کے پیچھے چلا گیا تو مجھے وہ مشہور ضرب المثل یاد آیا۔ تریاق از عراق آوردہ شود مرگزیدہ مردہ شود ۔ تقریبا بیس منٹ کے انتظار کے بعد اصل بندہ سامنے آیا تو چہرہ کافی اترا ہوا تھا۔ میں نے اپنی روداد سنائی تو انہوں نے انجکشن لکھ دی۔ میں نے پیسے دیے اور وہ نوجوان میڈیکل سٹور سے لے آیا۔ یوں مجھے انجکشن لگنے میں پونے گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا۔ اس طویل تجربے کے بعد میری ایم ایس صاحب سے گذارش ہے کہ وہ رات کے وقت وارڈ کے اندر نرسز کاونٹر کو الرٹ رکھنے کی ہداہت فرمائیں۔ پیرامیڈیکس اور نرسز کی تعداد کی تو کوئی حد نہیں لیکن ایمرجنسی میں وارڈ کے اندر کسی پیرامیڈکس کی تلاش جوئے شیرلانے کے مترادف ہے۔ ان اسٹاف کا یونیفارم میں ہونا بھی از بس ضروری ہے تاکہ اسٹاف اور عام لوگوں میں فرق واضح ہو۔

ہسپتال کے واش رومز کی حالت انتہائی طور پر مخدوش ہیں۔ کوئی ٹونٹی پورے واش روم میں موجود نہیں۔ بالٹی لوٹا کی سہولت موجود ہے اور نہ استعمال کیلئے پانی دستیاب ہے۔ چوبیس گھنٹے میں صرف ایک مرتبہ صفائی کی جاتی ہے۔ ذہن پر بڑا بوجھ برداشت کرتے ہوئے مریض یہ واش رومز استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کیلئے مکمل انتظام کیا جانا چاہئیے۔جنرل وارڈ کے علاوہ فیمل وارڈ وغیرہ تمام واش رومز کی حالت ایک جیسی ہے ۔ یہ ایسی چیزیں ہیں۔ جنہیں بار بار ٹھیک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کیلئے مریضوں کو مورد الزام ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ قرار دینا کسی صورت درست نہیں۔ ہسپتال میں میرے داخلے کے موقع پر آپ اپنی پہلی وزٹ پر وارڈ میں تو آئے تھے لیکن اسٹاف نے آپ کو ایسا الجھایا کہ پھر واش رومز وغیرہ کی چیکنک کا آپ کو موقع ہی نہیں دیا گیا۔

DHQ hispitalہسپتال میں معذور مریضوں کیلئے واش رومز کا کوئی سسٹم موجود نہیں ہے ۔ تاکہ ٹانگوں سے معذور یا سانس کی تکلیف میں مبتلا مریضوں کو واش روم تک سہولت سے پہنچایا جا سکے ۔ جنرل وارڈ میں وہیل چیئر پر مریض کو واش رومز کے احاطے تک تو آسانی سے پہنچایا جاتا ہے لیکن وہاں سے واش روم میں داخل ہونے کےلئے چھ سیڑھیاں چڑھنے پڑتے ہیں۔ اس وقت بھاری بھر کم جسامت والے اور سانس کی تکلیف سے دوچار مریضوں اور ان کے اٹنڈنٹ پر جو گزرتی ہے وہ الگ داستان ہے۔ اسی لئے بعض مریض اس عذاب سے بچنے کیلئے کھانا پینا تک چھوڑ دیتے ہیں۔ ان معذور افراد کیلئے جدید سہولیات کے حامل واش روم کی تعمیر انتہائی ضروری ہے تاکہ وہیل چیئر پر ہی مریض واش روم میں داخل ہو سکے۔ اسے کسی بڑے سہارے کی ضرورت نہ پڑے ۔اس قسم کے واش رومز کی تعمیر کیلئے حکومت کے علاوہ مختلف این جی اوز سے بھی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

ڈی ایچ کیو ہسپتال کےجنرل وارڈ کی دیواریں انتہائی طور پر خراب ہو چکی ہیں۔ انہیں دیکھ کر صدیوں پرانی عمارت کی باقیات لگ رہی ہیں۔ اس لئے ان دیواروں کو پینٹ کرکے یا جدید پلاسٹک شیٹ دیواروں پر لگا کر انہیں خوشنما بنایا جا سکتا ہے اور دیواروں کو سیم سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔ تاکہ ہسپتال کی شان برقرار رہے۔

حکومت نے صحت کارڈ کےنام پر مریضوں کو صحت کی سہولتیں مفت فراہم کرنے کیلئے محتحسن نظام متعارف کیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر 2300 روپے فی مریض پر خرچ کی جاتی ہے۔ لیکن جن مریضوں کی ادویات کی قیمت 2300 سے زیادہ ہوتی ہے۔ ان سے اضافی قیمت اسی وقت متعلقہ میڈیکل سٹورکیش وصول کرتی ہے جبکہ دوسرے دن اگر ڈاکٹر کے لکھے ادویات کی قیمت سرکار کے متعین کردہ حساب سے کم ہوتی ہے۔ تو اس دن کی کمی کو گذشتہ روز کی زیادتی سے ایڈجسٹ نہیں کیا جاتا۔

اس سے ایک طرف سرکارکافنڈ خرچ ہوتا ہے اور دو سری طرف غریب مریض بھی اپنی جیب سے خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ ممکن ہو کہ روزانہ کے فکس سرکاری ادویاتی اخراجات کو مریض کے داخل دنوں کے حساب کے مطابق جمع کئے جائیں۔ اس کے بعد اگر مریض پر اضافی رقم چڑھے تو وہ آدا کرے گا۔ اس سلسلے میں مقامی سطح پر اگر ایڈجسمنٹ کی کوئی صورت ہو سکتی ہے تو صحت کارڈ کے فوائد سے مریض مکمل طور پر استفادہ حاصل کرسکیں گے۔

One Reply to “جنرل وارڈ کے ایک مریض کی گذارشات”

  1. شکر ہے بھائی آپ کی صحت بحال ہو گئی ہے۔ آپ کی کہانی بتاتی ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال کی حالت انتہائی مخدوش ہے۔ ہسپتال میں اولیت صفائی کی ہونی چاہیے۔ وہ نہیں یے۔ مریض کے لیے ڈاکٹر اور پیرامیڈیکس کی خدمات کی آسان دستیابی ، اس کے بارے آپ نے لکھا ہے جو افسوسناک حد تک فرض کی ادائیگی میں مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ ڈاکٹر حیدرالملک صاحب اس کی حالت بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سابق ایم ایس کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.