بھنگ کی کاشت اور چترال

شیر ولی خان اسیر

موقر قومی اخبار دی نیشن کی 23 دسمبر کی خبر کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر شبلی فراز صاحب نے بھنگ کی سرکاری کاشت کی تیار فصل کی کٹائی کا افتتاح کیا۔
انہوں نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سطح پر کاشت کی ہوئی بھنگ کی کامیاب فصل ساڑھے تین مہینے میں تیار ہوئی۔ انہوں نے اس پودے کے فوائد اور ادوایات کی صنعت میں اس کی اہمیت بھی کا بھی ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ بھنگ کی فصل دوسری نشہ آور چیزوں سے دس گنا زیادہ فائدہ مند ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کا بیج مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے۔ اس نے بھنگ کو کپاس کا متبادل بھی قرار دیا۔
یہ بھی خبر ہے کہ ایوان بالا میں بھنگ کے بارے قانون سازی کی کاروائی جاری ہے۔ اس کی حیثیت کا تعین کرکے اس کے کاروبار، نقل و حمل اور استعمال سے متعلق قانون سازی کی جائے گی۔
دسمبر 2021 کی 16 تاریخ کو معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کے خصوصی بینچ کی بھنگ سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے معزز جج صاحباں نے بھنگ کو ہیروئین کے مقابلے میں کم نقصان دہ نشہ قرار دیا ہے نیز اسے کئی بیماریوں کے لیے علاج بھی قرار دیا۔ معزز ججوں کے ریمارکس انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
میڈیکل سائنس نے اس پودے کو کئی مہلک بیماریوں کے خلاف موثر دوا ثابت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی 18 ریاستوں، دو زیر انتظام علاقوں اور ضلع کولمبیا۔ میکسیکو،کینیڈا، اسٹریلیا، جارجیا، مالٹا، جنوبی افریقہ اور یوروگوئے میں بھنگ کو تفریحی نشہ کے طور پر استعمال کی اجازت ہے جب کہ کینیڈا، یوروگوئے اور نیدر لینڈز میں کاروباری حیثیت میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ اب تک دنیا کے چھیالیس ممالک میں اسے بطور دوا استعمال کرنے کی قانونی اجازت ہے۔

سن 1940 اور 1970 کے درمیانی عرصے میں ہمارے ملک میں چترال کی بھنگ کی پیداوار کو بہترین کوالٹی کی حیثیت حاصل تھی اور اس کی بڑی مانگ تھی۔ یہاں اس پودے کی کاشت کا آغاز غالباََ 1937 یا 1938میں ہوا تھا جب ریاست کے سب سے زیادہ عالم و فاضل حکمران سر محمد ناصر الملک نے علاقے کی معاشی حالت میں بہتری لانے کے بارے سنجیدگی سے سوچا۔

اس وقت کے وزیر صنعت و حرفت کے مشورے پر افغانستان سے بھنگ کے بیچ منگوا کر پہلے پہل وادی یارخون میں اس کی کاشت کروائی گئی تھی۔ اس کے بعد یہ فصل کم و بیش پورے چترال بالا میں پھیل گئی تھی۔ اس کی سب سے زیادہ فصل وادی مستوج، یارخون اور لاسپور میں ہوتی تھی۔چرس کے کاروبار کو قانونی حیثیت ملنے کے بعد علاقے کے عوام کی مالی حالت بہتر ہونے لگی تھی۔ چھوٹے بڑے زمیندار اپنی زرعی زمینوں کا ایک مناسب حصہ بھنگ کی فصل کے لیے مختص کیا کرتے تھے کیونکہ یہ ایک کیش کراپ کی حیثیت سے ان کے جملہ ضروریات پوری کرتی تھی۔

اس پودے کے کثیر الجہت فائدے تھے۔ اس کا سفوف کیش رقم لاتا تھا۔ اس کا بیج مرغیوں کی بہترین خوراک اور علاج تھا۔ اسے کھا کر مرغیاں بیماریوں سے محفوظ رہتی تھیں اور سال بھر انڈے دیا کرتی تھیں۔ سردی کے موسم میں اسے گندم کے ساتھ بھن کر شکاری لوگ استعما کیا کرتے تھے کیونکہ یہ گرم حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا بوسہ بھیڑوں اور بیل گائیوں کو سرما کی شدید سردی سے بچاتا تھا۔ اس کا ریشہ رسیاں، چارپائیوں کے بان اور ٹاٹ بنانے کے کام آتا تھا جو انتہائی پائیدار اور مضبوط ہوتا تھا۔ موسم بہار میں عام طور پر پالتو جانور رشقہ اور شفتال زیادہ مقدار میں کھا کر پیٹ پھولنے کی وجہ سے مرتے تھے۔ ان کا واحد علاج بھنگ کا پودا تھا۔
دیکھا جائے تو سن چالیس اور پچاس کی دھائیوں میں چترال کے دور دراز علاقوں کے بچوں نے چترال میں دست یاب تعلیم پائی۔ بہت سی غیر آباد زمینوں کے لیے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت نہریں کھودیں اور زرعی زمینوں میں اضافہ ہوا۔ صرف یارخون کے اندر پانج نہریں تعمیر کی گئیں۔ یہ سارا کچھ خالصتاً چرس کی کاشت اور کاروبار کی بدولت ہوا تھا۔ قلیل مقدار کی زمین پر سب سے زیادہ فائدہ دینے والی واحد فصل بھنگ کی تھی۔ عوام کی مالی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ریاست کو بھی اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی۔ فی سیر چرس پر سرکار مبلع 30 روپے ٹیکس لیا کرتی تھی۔
اگر غیر جانبدارانہ طور پر غور کیا جائے تو آج ہمارے ملک کے دور افتادہ پسماندہ علاقوں کی معاشی ترقی اور پاکستان پر آئی ایم ایف اور دوسرے ممالک کا ناقابل ادائیگی بھاری قرضہ اتارنے کا واحد ذریعہ بھنگ کی کاشت کو قانونی حیثیت دینا ہے۔ اگر حکومت چرس کی پیداوار کو سرکاری کنٹرول میں از سر نو شروع کروالے تو محض چترال کی پیداوار ہی کھربوں ڈالر کا زر مبادلہ کما سکتی ہے۔ چترال میں زرعی زمین کی شدید کمی ہے۔ لوگوں کے پاس جو قلیل زمین ہے اس میں بھنگ اگائی جائے تو فی گھرانہ اوسط آمدنی دس لاکھ تک ہو سکتی ہے جو ایک گھرانے کو سال بھر کے لیے ضروریات زندگی خرید کے قابل بنا سکتی ہے۔ چترال میں بھنگ کی کاشت کا اجراء یہاں کے عوام کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
بھنگ کی کاشت سے متعلق وزیراعظم عمران خان صاحب کا جرآت مندانہ اقدام نہ صرف ملک کا مستقبل سنوار سکتا ہے بلکہ اگلے انتخابات میں انہیں دوبارہ وزیراعظم کی کرسی پر بھی براجمان کر سکتا ہے۔

2 Replies to “بھنگ کی کاشت اور چترال”

  1. سر، آپ نے صرف معاشی پہلو کو پیش نظر رکھا ہے۔ اس کے اخلاقی تباہ کاریوں پر کوئی بحث نہیں کیا ہے۔ معاشرے پپر اس کے استعمال سے ہونے والے برے اثرات کو بھی ریر بحث لانا ضروری تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.