بجٹ شفافیت پر دوسری سالانہ رپورٹ جاری

بجٹ شفافیت پر دوسری سالانہ رپورٹ جاری

چترال(بشیرحسین آزاد) سی پی ڈی آئی کی جانب سے پاکستان میں بجٹ شفافیت کی صورتحال پر مبنی دوسری سالانہ رپورٹ جاری کر دی گئی۔

رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی سطح پربجٹ سازی کے عمل میں پائی جانیوالی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بجٹ تجاویز کو  وسیع پیمانے پر شہری گروپوں، سرکاری اداروں اور اہم شراکت داروں کیساتھ زیربحث لایا جائے بجٹ اخراجات سے متعلق سہ ماہی،ششماہی یا سالانہ رپورٹس کے باقاعدہ اجرا سمیت سالانہ آڈٹ رپورٹس آڈیٹر جنرل کی ویب سائٹس پر باقاعدگی سے اپ لوڈ کی جائیں۔

اس سلسلہ میں سیٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ اکاونٹیبیلٹی (سی این بی اے) کی ممبر تنظیم آرسی ڈی پی چترال کے زیر اہتمام  چترال پریس کلب میں منعقدہ میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قائمقام چیرمین حسنین علی شاہ، کوارڈینیٹر ارباز علی شاہ اور ممبر بورڈ قادر امان نے کہا کہ گذشتہ ایک دہائی سے سی پی ڈی آئی پاکستان میں ضلعی سطح سے وفاقی سطح تک بجٹ سازی کے عمل کو بہتر بنانے اور اس میں شفافیت کے فروغ کیلئے کوشاں رہی ہے۔

ا نہوں نے کہاکہ گذشتہ سال کی طرح رواں سال بھی وفاقی اورصوبائی سطح پر اس عمل کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں ”پاکستان میں بجٹ شفافیت کی صورتحال2021“پر مبنی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس میں اس  رپورٹ میں نہ صرف پاکستان میں بجٹ شفافیت کو جانچا گیا ہے بلکہ اس سے یہ اندازہ لگانے میں بھی مد دملی ہے کہ پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قوانین بجٹ سے متعلق معلومات کے حصول میں کس حد تک موثر ہیں۔ 

یہ رپورٹ دو حصوں پر مشتمل ہے پہلا حصہ مختلف وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کو معلومات کے حصول کے لئے ارسال کردہ درخواستوں سے متعلق ہے جن میں بجٹ سازی کے عمل کے دوران مختلف مراحل  کے بارے میں معلومات طلب کی گئیں۔اس سلسلہ میں بجٹ سازی کے عمل میں شفافیت کو جانچنے کیلئے منتخب وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کو معلومات کے حصول کی 152درخواستیں بھجوائی گئیں جن میں وفاق کو 38،بلوچستان کو28،خیبر پختونخواہ کو29،پنجاب کو28 اور سندھ کو29 درخواستیں ارسال کی گئیں۔

انہوں ں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان تمام درخواستوں میں سے کسی ایک کا جواب بھی مقررہ وقت کے دوران موصول نہیں ہوا جو کہ انتہائی مایوس کن ہے۔ رپورٹ کے دوسرے حصہ کے بارے میں انہوں نے بتایاکہ  بجٹ دستاویزات کی جامعیت اور بجٹ سازی میں شہریوں کی شرکت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہاں وفاقی حکومت کل87 پوائنٹس میں سے 62 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست،خیبر پختونخواہ دوسرے، پنجاب تیسرے جبکہ سندھ اوبلوچستان بالترتیب چوتھی اورپانچویں پوزیشن پر رہے یاد رہے کہ اس حصہ میں وفاقی حکومت نے سابقہ سال کی نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ بلوچستان کا سکور پچھلے سال کی نسبت 5پوائنٹس کم ہو کر48رہ گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رپورٹ کے مطابق بجٹ سازی میں شہریوں کی شمولیت،مقننہ کی نگرانی،پارلیمنٹ میں بحث کا دورانیہ اورمساوی بجٹ سمیت دیگر اہم ترین اقدامات توجہ طلب ہیں اور اس سلسلہ میں حکومت کو فوری اور دوررس اقدامات کرنا ہوں گے۔ علاوہ ازیں کسی بھی حکومت کی جانب سے سہ ماہی،ششماہی یا سالانہ رپورٹس کے اجراء کا کوئی طریقہ کار رائج نہیں ہے جبکہ آڈٹ رپورٹس بھی آڈیٹر جنرل کی ویب سائٹس پر باقاعدگی سے اپ لوڈ نہیں کی جاتیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حکومتیں نظر ثانی شدہ تخمینہ جات کے اعدادوشمار بروقت فرام نہیں کرتیں بلکہ بجٹ کی منظوری کے دوران ہی پیش کردیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں معلومات تک رسائی کے قوانین پرعملدرآمد کو یقینی بنائیں اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ بجٹ شفافیت کو فروغ حاصل ہو علاوہ ازیں بجٹ پر بحث اور منظوری کے دورانیہ کو بڑھا یا جائے تاکہ اس پر سیر حاصل بحث کی جاسکے۔اسکے ساتھ ساتھ متعلقہ سٹیک ہولڈرز خصوصاً شہریوں سے مشاورت کو قانونی تحفظ دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ معلومات کی فراہمی پر مبنی ایک شفاف اور اوپن بجٹ پالیسی وضع کی جانی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.