“اے قائد اعظم ذرا خواب میں آ”

دھڑکنوں کی زبان

محمد جاوید حیات

آج 25 دسمبر کا تاریخ ساز دن ہے عیسایوں کے لیے بھی ہمارے لیے بھی۔ آج کے دن محمد علی جناح نے پونجا جناح کے ہاں جنم لی ۔باپ تاجر تھا لیکن علم سے محبت تھی بیٹے کو پڑھانا چاہتا تھا خود ایک آزمودہ تاجر وقت کا پابند اپنے کام کا خاص خیال رکھنے والا منتظم اور کامیاب بندہ تھا ۔ ان کا بیٹا بھی نمایان صلاحیتیں لے کے دنیا میں آیے تھے پڑھ لکھ کر نام کمایا اور ایک قوم اور بے دست وپا قوم کو ساتھ لےکر دنیا کے نقشے کو ہی بدل دیا ۔قاید اعظم کہلایا اور ان کے کاروان میں جو لوگ شامل تھے ان کے گرو بن گئے ان لوگوں نے ان کے حکم پر لبیک کہا اور ناممکن کو ممکن بنا کر تاریخ رقم کی۔۔

قاید اعظم ایک پاکیزہ صفت انسان تھے اور اپنے وژن پہ یقین رکھتے تھے اس نوزایدہ پاکستان کو اپنی سوچ کی طرح پاک صاف ستھرا اور ہر کوتاہی سے پاک رکھنا چاہتے تھے ۔ان کا وژن یقین تنظیم اتحاد اور عمل پیہم تھا لیکن بدقسمتی تھی ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے اس قوم کے ساتھ رہے پھر دنیا نے وہ وژن اور ترتیب نہیں دیکھی جو اس کے پاس تھا اور اس ملک کے لیے تھا اب ملک خداداد کی حالت دیکھ کر قاید اعظم رہ رہ کے یاد آتا ہے جی چاہتا ہے کہ کہیں خواب میں آجائے تو اس کو سب بتا دیا جائے ۔کہ بابا ہم نے آپ کے حاصل کردہ وطن کے بڑے ٹکڑے کو گنوا دیا اچھا کیا کہ وہ اب وہ ٹکڑا مستحکم ہے برابر ترقی کر رہا ہے ۔ہم آبادی کے لحاظ سے بڑھتے بڑھتے بیس کروڑ تک پہنچ گئےہیں لیکن ہماری تربیت کی جگہ بے تربیتی ترقی کر رہی ہے

ہمارے ادارے ہمارے قوانین ہمارے اصول ہمارے کردار ہمارا دستور ہمارا آئین ہمارا پارلیمنٹ ہمارا ایمان ہماری غیرت سب بچوں جیسی ہیں ان کا کوئی اعتبار نہیں نہ ان پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔۔تو نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ملک کو کھوکھلا کرنے والی ناسور کرپشن ہے اس”ناسور ” میں خیر سے ہم دنیا کے ٹاپ ممالک میں شامل ہوگئے ہیں تو نے خود انحصاری اور خود اعتمادی کا درس دیا تھا ہم نے “خود” کو کاٹ کر “انحصار ” پر اتنا بھر پور عمل کیا کہ قرضوں تلے دب گئےہیں اب ہم اپنی مرضی سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کر سکتے دوسروں کے پیسے کیسے خرچ کریں ۔تو نے ہنر سیکھنے کی تعلیم حاصل کرنے کا سبق پڑھایا تھا ہم ستر سالوں میں بھی ایک ڈھنگ کا تعلیمی ادارہ نہیں بنا سکے ۔تو نے راہنمائی کے گر سیکھائے تھے کہ راہنما امین صادق پرخلوص اہل اور بد عنوانی سے پاک ہوتا ہے۔

یہاں ایسا نہیں ہے لیڈر دوسروں کو یہ سبق پڑھاتا ہے لیکن خود اس کو ان اوصاف سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ۔ان کا کام وفاداریاں بھیجنا پارٹیاں تبدیل کرنا اور جائیدادیں بنانا یے ۔ہم ابھی تک دوسروں کی جنگ لڑ رہے ہیں ہمارے محافظ اپنے گھر آنگن میں کٹ مر رہے ہیں ۔ ہم نے 22 سال پہلے اٹیمی طاقت بنے مگر اس طاقت نے ہمیں کوئی فایدہ نہیں دیا۔۔ہم اسی طرح دوسروں سے خوفزدہ ہیں ہم نے اپنے محسن “ایٹم بم بنانے والے ” کو گھر کے اندر قید کیا وہ تمہاری طرف آگئے ہیں تم نے کہا تھا “ہم نے ایک آزاد ،خود مختار اور الگ ملک حاصل کیا”۔ یہ الگ سہی لیکن آزاد اور خود مختار کے خواب ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوئے ۔تمہارے انگریز جنرل نے تمہیں کشمیر کے بارے میں رپورٹ دی کہ ہندوستان نے کشمیر میں اپنی فوج اتاری ہے تو نے فورا کہا تھا جاو لڑو ان کو نکال دو۔

وہ زمانہ بے سرو سامانی کا تھا لیکن ہم اب تک ان کو نہیں نکال سکے بلکہ وہ مذید مستحکم ہوگئے ۔ہم دہشت گردی کے شکار رہے ہماری فوج 15 سالوں سے مسلسل لڑ رہی ہے لیکن اغیار ہم سے ناراض ہی ہیں جنگ ان کی ہے تباہ ہم ہو رہے ہیں پھر شک ہم پر ہے الزام ہم پر ہے ۔سر ہمارے وزراء نغوذو بااللہ چوری کر رہے ہیں ۔۔ہماری پالیسیاں ناقص ہیں ناکام ہیں ۔ہماری عدالتیں ہم پر سوالیہ نشان ہیں ۔ہماری پولیس کی کارکردگی پر دنیا کو شک ہے ہمارے اساتذہ قوم کے نونہالوں کو خاک بازی کا درس دے رہے ہیں ۔ہماری قومی شناخت مٹ رہی ہے ۔قومی کھیل ہاکی کا کباڑہ ہوا ہے۔قومی زبان اردو اپنی موت مر رہی ہے ۔قومی پھول چنبیلی گلشنوں سے ناپید ہے قومی پرندہ چوکور جنگل چھوڑ رہا ہے اس لیے کہ شکاریوں نے اس کا جینا حرام کر دیا ہے ۔قومی لباس شلوار قمیص مردوں کے بدن سے غائب تھا اب خواتین کے ہاں سے بھی غائب ہو رہا ہے ۔کردار مٹ رہے ہیں آئے روز ایسے واقعات سننے کو ملیں کہ انسان لرزہ براندام ہو جائے ۔آے قاید اعظم خواب میں آ ۔۔یہ سب کچھ آپ کو بتا کر دل کا بوجھ ہلکا کریں ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.