شکر کی دولت

                    شہزادی کوثر

یہ جو گزرتے سمے تیزی کے ساتھ نامعلوم سمت کی طرف رواں دواں ہیں ہمیں کتنی نعمتوں سے نواز رہے ہیں۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ جن کی چوٹیاں نومبر کے آغاز میں ہی برف کی چادر اوڑھ لیتی ہیں۔ درختوں کے پتوں سے ٹکراتی ہوا جو گرمیوں میں راحت کا ذریعہ ہے اور خزاں میں بکھرتے پتوں سے سرگوشی کرتی ہے کہ ایک زندگی کا خاتمہ دوسری زندگی کی نوید ہے۔ کسی جھرنے کے کناروں پہ جمی برف پہ پڑنے والی دھوپ زندگی کے جمود کو توڑنے کا درس دیتی ہے۔

تیر کی طرح وجود میں گھستی ہوئی سردی کی شدید لہراعصاب کو شل کرتی ہے ایسے میں آگ کی تپش اور دھوپ کی تمازت سے کتنی راحت کا احساس ملتا ہے ۔اس موسم میں اگر کوئی بڑی نعمت ہے تو صرف دھوپ اور حرارت ہے جو یخ بستہ ہواوں اور خون جما دینے والی ٹھنڈ کا واحد علاج ہے ۔اس کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ٹھنڈ کی وجہ سے وجود میں سنسنی سی دوڑتی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے میں آتشدان میں الاو یا انگیٹھی میں دہکتے انگارے کی قربت میسر آجائے تو اپنی خوش قسمتی پہ رشک آنے لگتا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ اس زاویے سے سوچنے کی زحمت نہیں اٹھاتے ۔سال کے چار خوب صورت موسم اپنی تمام تر جمالیاتی کیف کے ساتھ آتے اور ہزاروں نعمتوں سے ہمیں سرفراز کر جاتے ہیں لیکن ہم ہیں کہ سب کچھ نذر نسیاں کر کے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ایک بیچ سے درخت بن کے پھل لگنے تک کا عرصہ کتنا لمبا اور تھکا دینے والا ہوتا ہے ،ہم چونکہ اس عمل میں شریک نہیں ہوتے سب کچھ بنا بنایا ہمیں ملتا ہے اس لئے چیزوں کی قدر اور شکر نہیں کرتے، شاید شکر کرنے کے جذبات ہم نے اوپر سے اوڑھ رکھے ہیں ان کی ہمارے دل ودماغ سے وابستگی نہیں ہے۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ کیا ہم ایسے ہی شکر کرنے کے مواقع ضائع کرتے رہیں گے،کیا اوپر والے سے ایسا کوئی تعلق نہیں بنانا  جو ہماری فلاح کا ذریعہ بنے۔اتنی ساری نعمتیں ملی ہیں جن کا حد وحساب انسان کے بس کی بات نہیں۔ ہمیں سب معلوم ہے کہ ہماری محنت اور کارکردگی ان نعمتوں کا عشرعشیر بھی پیدا نہیں کر سکتی ،اس لیے تو قرآن فرماتا ہے                          

کہ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گے۔                               

کتنا نا سمجھ ہے نا انسان کہ اتنی بڑی عقل اور شعور کی دولت ملی ہے لیکن رب کی عطا کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اصل میں ہمیں جینا ہی نہیں آتا پھر شاکی ہوتے ہیں کہ زندگی بہت مختصر ہے۔ زندگی مختصر اتنی نہیں ہوتی ہم جینا ہی دیر سے سیکھتے ہیں اور جب صحیح معنوں میں جینا آتا ہے تو واپسی کا وقت آ چکا ہوتا ہے ۔ شکر کرنے کا موقع گنوا دیتے ہیں ،خوشحالی میں ،صحت میں ،بڑے عہدے کے نشے میں اللہ سے رجوع نہیں کر پاتے، ہمارے رجوع کرنے کا زمانہ تب آتا ہے جب دنیا ہمیں رد کر دیتی ہے ،ہر در سے دھتکارے ہوئے راندہ ہو کر اللہ کے درپہ دستک دیتے ہیں۔ اگر بیماریاں گھیر لیں یا علاج کرنے کے باوجود شفایابی کی کوئی صورت نظر نہ آئے تب ہمارا دھیان اس طرف جاتا ہے۔ دنیاوی ضروریات کی عدم دستیابی ہمیں دوسروں کے در پہ لے جاتی ہے لیکن بلاواسطہ ہمارا رابطہ اوپر سے نہیں جڑ پاتا۔ دولت پاس ہو تو عیاشیوں اور شباب وکباب کی محفلیں سجتی ہیں انسان خدا بن جاتا ہے ایسا خدا جو صرف دولت مندوں کی طرف دیکھنے کا عادی ہے۔غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ جب گردش ماہ وسال کی گرفت میں آ کر سب کچھ بدل جاتا ہے تب انسان کو ہوش آتا ہے کہ یہ سب میری نا شکری کی وجہ سے مجھ سے چھن گیا۔

نعمتوں کی موجودگی میں ہی اگر خالق سے رابطہ جڑ جائے تو نعمتوں کو زوال نہیں ایا کرتا۔ ہم خود کو انسانوں کے ہجوم میں، خواہشات کے ڈھیر میں اور آرزوں کے طوفان میں کہیں کھو دیتے ہیں ہماری اولین ترجیح دنیا ہوتی ہے ہر آسائش اور نعمت کو پا لینے کے بعد بھی ہماری حرص ختم نہیں ہوتی نہ کبھی پیٹ بھرتا ہے اور انکھیں سیر چشمی کی نعمت سے محروم ہی رہتی ہیں لیکن مجال ہے کہ ہم کبھی شرمندگی محسوس کریں ،کاش ہم پلٹنے سے پہلے شعور کی اس سطح کو پالیں جو شکر سے سیراب ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ تمام تر توانائیوں اور طاقت کی موجودگی میں انسان شکر کرنا سیکھ لے، شکر انسان میں انکساری پیدا کرتا ہے اور انکساری وہ مقام عطا کرتی ہے جس کے سامنے بادشاہت بھی فقیری ہے

One Reply to “شکر کی دولت”

  1. بہترین آرٹیکل ہے۔ شکر ہی انسان کی جملہ دکھ درد کا واحد علاج ہے۔ اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے!

Leave a Reply

Your email address will not be published.