Broghil National Park benefits not given to locals

بروغیل نیشنل پارک کو تباھی سے بچایا جاے: شھزادہ سکندر

چترال(بشیر حسین آزاد) بروغل ویلیج کنزرویشن کمیٹی کے صدر سابق تحصیل ناظم مستوج اور پولو کے مایہ نازپلیئر شہزادہ سکندر الملک نے وی سی سی بروغل کے دیگر ممبران اکرام علی شاہ، تاج علی بیگ قدم علی،دولت بیگ، گل نادر اورشفیق احمد جنرل سیکرٹری کے ہمراہ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے اپیل کی ہے کہ انتہائی اہمیت کے حامل بروغل نیشنل پارک کو تباہی سے بچا کر اسے فائلوں سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں لایا جائے انہوں نے کہا کہ2010 میں بروغل نیشنل پارک کا قیام عمل میں لایا گیامقامی کمونٹی کو وی سی سی بنانے کی تجویز دی گئی مگر وی سی سی سے مشاورت اوران کو اعتماد میں لئے بغیر 12 دیہات پرمشتمل علاقہ اور مقامی آبادی کے شاملات کو بروغل نیشنل پارک کے کور زون میں شامل کیا گیا ہے۔

نیشنل پارک کا درجہ ملنے کے بعد اب تک عوام کو اس نیشنل پارک سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اب اہلیان علاقہ پر اس علاقے میں حیوانات چرانے اور گاس کاٹنے پر پابندی لگائی گئی ہے جو کہ عوام کو قبول نہیں۔جبکہ کور زون میں ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس بھی جاری نہیں ہوگا جو مقامی کمیونٹی کا حق بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بروغل نیشنل پارک کا منجمنٹ پلان اسلام آباد میں بیٹھ کر زمینی حقائق سے ناواقف لوگوں نے بنایا ہے جو بروغل جیسے حساس علاقے سے مطابقت نہیں رکھتااور مقامی کمیونٹی 11 سال گزرنے کے باوجود بھی فوائد سے محروم رہا۔اور علاقہ میں ابھی کوئی بھی واچر نہیں کیونکہ علاقے میں 6 ماہ تک کمیونٹی واچروں کو تنخواہ دی گئی اور اس کے بعد اُن کی تنخواہ بند ہوئی جس کی وجہ سے قیمتی جانوروں کی نسل کوخطرات لاحق ہے۔اُنہوں نے نیشنل پارک بروغل میں کم از کم 20 مقامی لوگوں کو واچر بھرتی کرنے کا مطالبہ کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم نے طویل عرصے تک ان مذکورہ مسائل کے حل کے لئے جدوجہد کی اور متعلقہ ادارے کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا مگرابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔انہوں نے دھمکی دی کہ ہمارے شرائط اور ضوابط پر عمل درآمد نہ ہوا تو ہم بروغل نیشنل پارک میں موجود وائلڈ لائف اور قیمتی آئی بیکس کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے اور نہ اس قسم کے پارک کو ہم ماننے کے لئے تیار ہیں۔

شہزادہ سکندر الملک نے علاقے کی پسماندگی کے بارے میں مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ بروغل اپر چترال کا ایک پسماندہ اور دور آفتادہ علاقہ ہے 200 آبادی پر مشتمل علاقہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے علاقے میں ایک پرائمری سکول، ایک ڈسپنسری موجود ہے جسمیں کوئی ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک چوکیدار موجود ہے جہاں زیادہ تر ادویات بھی موجود نہیں تھوڑی بہت ادوایات جو میسر ہے وہ بھی فروخت کی جارہی ہے اُنہوں نے کہا کہ علاقے کے گودام میں ناقص گندم لائی جاتی ہے جوکہ وزن میں کم ہوتی ہے اور وہاں ناپ تول کا کوئی بندوبست نہیں 70 کلو گندم کا بوری 100 کلو کے حساب سے فروخت کی جاتی ہے جوکہ غریب عوام پر ظلم ہے۔اُنہوں نے کہا کہ مستوج سے بروغل کا فاصلہ100کلومیٹر بنتا ہے لیکن 2021میں بھی 100کلومیٹر کا فاصلہ 12گھنٹوں میں طے کیا جاتا ہے لہذا حکومت اس کا نوٹس لیکر عوام کو بنیادی سہولیات پہنچانے کی بندوبست کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.