The rebirth of Taliban

آڈیو اور وڈیو لیکز کی حقیقت اور قانونی حیثیت کیا ہے؟

تحریر: محمد ارشاد

ہماری ملکی سیاست بھی عجیب ہے۔ کبھی وڈیو لیکز کبھی تصویر لیکز کبھی ڈکومنٹ لیکز اب آڈیو لیکز ۔اس آڈیو لیکز کی راز ایک جگہ سے ادھر اور ادھر سے ادھر پھر ٹاک شوز میں ان پر لمبی لمبی بحث اور دلائل، متعلقہ شحص کی تردید اور اسے کبھی جعلی قرار دینے کی شور، سیاست جیسے لیکز لیکز پر کھیلی جاری ہے۔ ان دنوں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو موضوع بحث بنی ہوئی ہے جو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سزا کے متعلق ہے۔ اب چیف جسٹس ثاقب نثار یہی کہ رہے ہیں کہ یہ آڈیو جعلی ہے۔ جن کے حق میں ہے وہ اسے سچا قرار دے رہے ہیں اور جن کے خلاف ہے وہ اسے جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں صحافیوں، سیاست دانوں، ججوں اور وزرا کی کئی آڈیوز اور ویڈیوز لیکز ہوتی رہی ہیں جن کا شور کچھ عرصے تک رہتا ہے پھر اسکے بعد پانی کے بلبلے کی طرح جھاگ بن کر یہ شور بیٹھ جاتا ہے۔

اب ڈی فیک سے جعلی وڈیو بن سکتے ہیں اب سوال یہ ہے کیا اس کے ذریعے جعلی آڈیو بھی بنائی جا سکتی ہے؟ بلکل بن سکتی ہے بس ایڈیٹ میں مہارت درکار ہوتی ہے۔ کس نے کس حوالے سے بات کی سب کو جمع کرکے اپنی مرضی سے وائرل کر دیں کونسا جملہ کہاں ملانا ہے اور کونسا ذکر اس سے ملا کر ان سے جوڑنا ہے یہ سب آج کے جدید سافٹ وئیر ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہے۔ ڈی فیک کی طرح آڈیو سافٹ وئیر با آسانی دستیاب ہیں ان میں امیزون پولی اور ٹی ٹی ایس سافٹ ویئر قابل ذکر ہیں جن کی مدد سے آپ کسی کی آواز کی کاپی نکال سکتے ہیں ،اس سے نہ صرف یہ ہوتاہے کہ مطلوبہ شحص کے اصلی آڈیو کو اس سافٹ ویئر میں فیڈ کریں جس کے بعد یہ انھیں لیڈ کرتا ہے اور پھر مختلف مراحل سے گزرانے کے بعد آپ کچھ بھی ٹائپ کریں وہ آپ کے مطلوبہ شحص کی آواز میں ادا کرے گا اور اس قدر مہارت کے ساتھ یہ سب کچھ ہوگا کہ کسی کو گمان بھی نہیں ہوگا یہ سافٹ ویئر سے حاصل کی گی آواز ہے۔ماضی میں ایسے آڈیوز آچکے ہیں انہیں ہمیشہ جھٹلایا گیا۔بعض دفعہ کسی ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کر کے مخالف کو بدنام کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے اس طرح کی آڈیو، ویڈیو لیکز میڈیا ٹرائل کیلئے استعمال ہو سکتے ہیں لیکن عدالت کے سامنے ان کی کوئی وقت نہیں اگر کوئی شحص یہ سمجھتا ہے اس سے کوئی جعلی آڈیو وڈیو منصوب کی جا ری ہے وہ عدالتوں کا رخ کر سکتا ہے۔
اب یہ عدالت کا اختیار ہے کہ وہ کونسی آڈیو اور وڈیو کو قانونی شہادت کے طور پر استعمال کرے۔ اس سلسلے میں جسٹس ارشد ملک کیس میں سپریم کورٹ نے 17 نکات واضح کیے ہیں آڈیو وڈیو کو شواہد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس میں سے اہم۔ نقطہ یہ تھا کہ وڈیو بنانے والا اور آڈیو ریکارڈ کرنے والا عدالت میں خود بھی پیش ہو، مزید عدالت نے یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ آڈیو اور ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کیا جائے۔

اب ویڈیوز اور آڈیوز کی فرانزک ٹیسٹ کے لئیے بے شمار لبارٹریز موجود ہیں اور ان میں سے کریٹ ڈسکوری مستند سمجھا جاتاہے جن کی رپورٹ کو امریکی اور بر طانوی عدالتوں میں بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔ عام طور پر ماہرین متعلقہ آڈیو کی لیر کا مختلف طریقوں سے جانج لیتے ہیں کہ جو آڈیو ان کے پاس ٹیسٹ کیلئے آئی ہے ۔کہین اس میں کوئی فنکاری تو نہیں دیکھائی گئ ہے۔ آڈیو میں باریک چیزوں کا با غور جا ئزہ لیا جاتا ہے اور اس کام کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا بھی لیا جاتاہے اور اسی متعلقہ شحض کے آواز کے ساتھ بیک گراونڈ کو خاص طور پر دیکھا جاتاہے، اور سب سے بڑھ کر یہ جائزہ بھی لیا جاتاہے کہ آواز متعلقہ شحض کی بھی یا نہیں اس سلسلے میں اس شخص کی مختلف گفتگو کا بھی مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ ہر کسی کی گفتگو میں ایک محصوص انداز ہوتا ہے اسے بھی فرانزک ٹیسٹ کے دوران ذہن میں رکھا جاتاہے۔
عموما اس سارے کام میں دو سے تین مہینے لگتے ہیں اور اس کے بعد با قاعدہ سرٹیفکٹ جاری کیا جاتاہے۔جس میں وڈیو یا آڈیو کی جعلی یا اصلی ہونے کی شھادت دی جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.