آج کا دن

پس و پیش

اے.ایم.خان

گزشتہ دو دن سے  فاطمہ اپنے ماں کو نہیں دیکھی ہے۔ اُس کو یہ نہیں معلوم کہ کیا ماجرا ہے۔ اور وہ یہ سمجھ بھی نہیں سکتی اگر اُس کو بتایا بھی جائے۔ اُس کو یہ معلوم تھی کہ گھر کے ایک کمرے میں اُس کی ماں ہے جہاں سے اُس کی درد بھری آواز  کبھی کبھار آجاتی ہے لیکن وہ اُسے دیکھ نہیں سکتی تھی۔

 فاطمہ کی یہ تیسری سال  چل رہی ہے اس لئے اب تک وہ اپنے ماں کے بہت قریب اور اُس کے ساتھ زندگی گزار چُکی ہے۔ یہ پہلا موقع تھی کہ وہ دو دن سے ماں سے دور تھی۔  

گھر میں سارے بچے حیران تھے کہ یہ پہلی دفعہ اُنہیں اُس چھوٹے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ، اور پوچھتے ہیں تو بھی اُن کو کہا جاتا ہے کہ فاطمہ کی ماں بیمار ہے۔

فاطمہ سے بڑے تین  اور بہن  ہیں ۔ گھر میں دوسرے بچوں کو بھی معلوم ہے کہ گھر میں بیماری ہے لیکن فاطمہ کی تین سالہ زندگی میں یہ پہلا واقعہ تھی کہ وہ دو دن سے اپنے ماں کو نہیں دیکھی تھی ۔ بس کبھی وہ زیادہ روتی تو اُسے باہر لے جایا جاتا تو ساتھ والے کمرے میں کبھی ماں کی درد بھری آواز آجاتی تھی  تو ایسا لگتا تھا کہ فاطمہ بھی پریشان ، خوف زدہ اور تجسس میں ہے کہ کچھ تو ہے  شاید اسی لئے  وہاں جانے کی ضد بھی نہیں کررہی تھی۔

دو دن سے فاطمہ اپنے باپ کے پاس ہے اور اُسے اپنی بات بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ اُس کی ماں کو لایا جائے۔ ہر چند منٹ بعد  ماں کے پاس جانے کیلئے کہتی ہے۔ والد اُسے دلاسہ دے کر کہتا ہے کہ آپ کی ماں آجائے گی، اور کبھی کہتا ہے ٹھیک ہے میں آپ کو لے جاتا ہوں، اور اسے باہر لے کر ماں کے پاس لے جانے کے بغیر واپس گھر لے آتا ہے۔

یہاں نومبر کے مہینے میں اکثر برفباری ہوتی ہے۔گزشتہ رات  بارش ہوئی تھی لیکن برف نہ پڑی مگر ٹھند مزید زیادہ ہوچُکی ہے۔

 گزشتہ دو دن سے گھر میں کھانے کا بھی کوئی خاص بندوبست بھی نہیں۔  شام کے وقت چاول بنایا گیا تو بچے وہ کھائے جوکہ اُن کا پسندیدہ خوراک ہے ۔ رات دیر تک جب اُن کو بھوک لگی تو  اُنہیں خشک میوہ جات دیا گیا  تو اُنہیں کھاکر وہ سوگئے۔

 صبح سارے بچے سویرے اُٹھ گئے۔ شام کا چاول گرم کرکے اُس کے ساتھ چند انڈے تیل میں پکاکر اُن کو دیا گیا تو وہ  شوق سے کھاکر گھر ہی میں کھیل میں مشغول رہے۔  چند گھنٹے بعد پھر کھانے کی فرمائش آئی تو اُنہیں مکئ کے دانے پکا کرکے  الگ الگ برتن میں ڈال دئیے تو وہ خوشی سے کھائے  اور پھر کھیل رہے ہیں۔

فاطمہ کی پوری توجہ اگر چند منٹ کیلئے کہیں جاتی بھی ہے تو فوراً اُسے ماں کی یاد آجاتی ہے،  اور ماں کے پاس لے جانے کیلئے رونا شروع کر دیتی ہے۔

فاطمہ سے بڑے تین اور بچیاں ہیں، اور اس خاندان میں ابھی تک بیٹا نہیں ہوا ہے۔ اُن میں ایک بچی جس کی شادی ہوئی ہے، جب  اُس کی عمر  پندرہ سال تھی۔ گزشہ چند دن سے وہ بھی اپنے والد کے گھر میں ہیں لیکن گزشتہ دو دن سے یہ اپنے والدہ کے ساتھ اُس چھوٹے کمرے میں ہیں۔ دوپہر کا وقت ہوا تھا  کہ اتنے میں یہ بیٹی دوڑ  کر گھر کے دروازے پہ آکر  اپنے والد کی طرف متوجہ ہوکر  بولی۔۔ مبارک ہو ۔ والد خوشی سے امین کہہ دی ۔جیسے ہی والد نے امین کہنے کے بعد مزید پوچھنے والا تھا کہ بیٹا یا بیٹی ہوئی ہے اتنے میں وہ واپس چلی گئِ۔

فاطمہ والد کے چہرے میں خوشی کی عکس دیکھ لی اور جب دوسرے بچے بھی خوشی کا اظہار کئے تو اُس کو ایسا لگا کہ خوشی کا معاملہ ہے اور اُس کی ماں شاید اب آجائے گی۔  والد کو  اتنا معلوم ہوا تھا کہ  بچہ ہوا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ  بیٹا ہوا ہے یا بیٹی۔  دل ہی دل میں یہ بات تھی کہ بیٹا ہوتا تو اچھا ہوتا۔

جب بیٹی واپس ماں کے پاس چلی گئی تو اُس نے مشکل سے پوچھی۔ اپنے والد کو بتا دی ۔  جواب  دیا ، ہاں بتائی۔ ماں نے سر ہلا دی۔ چند لمحے بعد اُس نے دوبارہ درد بھری آواز میں پوچھی ، آپ کا والد خوش ہوا؟  بیٹی نے جواب دی، ہاں، وہ خوش ہوگئی۔

گھر میں یہ بات عام تھی اور اُسے بھی احساس تھی کہ اُس کا شوہر بھی چاہتا ہے کہ بیٹا ہو ۔ اب تو گھر والے اور اُس کا شوہر سب خوش ہونگے ، یہ سوچ کر وہ سکھ کی سانس لی، اور آنکھیں بند کی تاکہ کچھ  آرام کرسکیں۔

گھر میں بچوں کا شور زیادہ ہونے لگا  اور  والد  تذبذب میں  تھا کیونکہ اُس کو یہ نہیں معلوم کہ اُس کا بیٹا ہوا ہے یا بیٹی۔ دس منٹ بعد بیٹی واپس گھر آئی تو والد نے پوچھا کہ آپ کے ماں کی طبیعت کیسی ہے ؟ بیٹی نے جواب دیا اب کچھ بہتر ہے۔ والد نے دوبارہ پوچھا ، وہ ٹھیک ہے؟ بیٹی نے جواب دی وہ کون؟ والد نے کہا  کہ آپ نے صرف مبارک باد دے کر چلا گئی، یہ نہیں بتایا کہ بیٹا ہوا ہے یا بیٹی۔

 بیٹی کو بھی اس بات کا احساس ہو چُکی تھی کہ اُس کا والد پہلے بیٹے کا نام لیتا ہے اور بیٹے کا کتنا آرزومند ہے۔ بیٹی نے مسکرا کر کہا ، والد جڑواں بچے ہیں۔ ایک بیٹا اور  ایک بیٹی،  اور دونوں صحت مند ہیں۔ جیسے ہی بیٹی نے یہ بات کہہ دی ، والد کے آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ فاطمہ اُس کے گود میں تھی وہ پریشان ہوگئی تو اُس نے جلدی سے آنسو پوچھ کر فاطمہ کی طرف مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کے بھائی اور بہن کی پیدائش ہوئی ہے۔

 خیر فاطمہ کو  یہ سمجھ نہیں آئی لیکن اُس کے لئے ایک خوشی اور تسلی کا اظہار تھی  کہ شاید اب اُس کی ماں آجائے گی۔

اسی اثنا میں والد نے بیٹی سے کہا کہ اگر آپ مصروف نہیں ہیں تو فاطمہ کو چند منٹ سنبھال لیں میں گاوں والوں کو خوشخبری دے کر آجاتا ہوں۔  بیٹی نے کہا کیسے وہ تو زیادہ وقت لگے گا ۔ والد نے کہا ، بس چند منٹ میں آجاتا ہوں۔  ٹھیک ہے جلدی آجائیں، بیٹی نے جواب دی۔

والد نے فاطمہ بڑے بیٹی کو تھما دی اور باہر ساتھ والے کمرے میں چلا گیا۔  صندوق کھولا اور وہاں سے صرف چار کرتوس تھے وہ  نکالے اور اُوپر لٹکے بندوق کو اُتار کر اپنے گھر کے چھت پر چلا گیا اور بے دھڑک یکے بعد دیگرے  چار دفعہ فائر کردی۔ پاس پڑا چھڑی اُٹھایا جس کے ایک سرے پر کپڑے کا ایک ٹکڑا ایک سوراخ سے لگی تھی اُس سے بندوق کے بیرل کے اندر سے وہ ضرور سے گزار کر نکال دی۔ اور بندوق دوبارہ سمیٹھ کر واپس گھر کی طرف آیا۔

فائر سے گاوں میں بھی یہ خبر پھیل گئی اور معلوم ہوا تھا  کہ اُس کا بیٹا ہوا ہے اور یہ فائر بیٹا  کا اعلان ہے۔

 جیسے ہی وہ واپس گھر میں داخل ہوئی تو اُس کی ایک بیٹی سکول سے واپس پہنچ چکُی تھی اور ساتھ والے کمرے میں اپنا بیگ رکھ کر جوتے آتا رہی تھی۔ جیسے ہی والد کے ہاتھ میں بندوق دیکھی تو وہ حیران اور پریشان  ہوگئی کیونکہ اُس کو معلوم تھی کہ اُس کی والدہ دو دن سے بیمار ہے۔ اُس نے فوراً  پریشانی میں اپنے والد سے پوچھا، کیا ہوا آپ بندوق لے کر آرہے ہیں۔ اُس نے مسکرا کر اپنے بیٹی کی طرف متوجہ ہوکر بولا، آپ کو نہیں معلوم ؟ بیٹی کو تسلی تو ہوگئی کہ معاملہ خوشی کا ہے ، اُس نے جواب دیا ، نہیں۔ آپ کو بھی مبارک ہو ، آپ کا ایک بھائی و بہن کی پیدائش ہوئی ہے۔ بیٹی خوشی سے پھولا نہیں سمائی، اور اپنے والد کے ساتھ لپٹ گئی۔ چند سیکنڈ بعد بیٹی نے کہا ، آپ کو بھی مبارک ہو۔ والد نے امین کہہ دی۔

پھر ، بیٹی نے والد سے پوچھا ،کیا آپ کو معلوم ہے  کہ آج کون سا دن ہے ؟ والد نے کہا آج تو میرے دو بچوں کی پیدائش کا دن ہے۔ بیٹی نے کہا اور کیا دن ہے؟ والد نے جواب دی سکول سے تو آپ آرہی ہیں  تعلیم یافتہ آپ ہیں مجھے بھی بتائیں آج اور کیا دن ہے، اس کی کیا تاریخی اہمیت ہے؟ بیٹی  گہری سانس لی اور جواب دی کہ آج بچوں کا عالمی دن ہے۔ والد نے بے ساختہ کہہ دی واہ ،واہ۔ بیٹی نے مزید بتا دی کے ہر سال 20 نومبر کو  دُنیا میں بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس دفعہ ہمارے سکول میں بھی  یہ عالمی دن منائی گئی۔۔۔

اپنے والد کی طرف دیکھتے ہوئےبیٹی نے کہہ دی کہ آج آپ منع  نہیں کریں گے نا۔ والد نے جواب دی، بالکل نہیں  تو۔۔۔

آج ہم گھر میں بھی آج کی مناسبت سے بچوں کا عالمی دن مناتے ہیں،  والد نے کہا، ٹھیک ہے  ، اور یہ  آج آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ کسطرح آج کا دن مناتے ہیں  باقی انتظامات  جو آپ بتا دیتے ہیں وہ میں کر دیتا ہوں۔

 دوسری بیٹی وہاں پہنچ کر یہ بات سُن رہی تھی، اتنے میں اُس نے بھی بات بڑھا دی  اور کہا کہ آج آپ لوگوں کا یعنی بچوں کا  پسندیدہ کھانا شام کو میں پکاتا ہوں۔ ویسے تو گھر میں ہر دن بچوں کا ہوتا ہے آج کا دن ہم بچوں کے نام کر دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.