Site icon Chitral Today

یارخون بانگ میں کھلی کچہری

یارخون بانگ میں کھلی کچہری
 ایس شہاب الدین

بانگ پائین یارخون اپر چترال میں ڈی سی اپر چترال  محمد علی نے لائن ڈپارٹمنٹ کو ساتھ لیکر  عوامی شکایات سننے کے لئے کھلی کچہری لگائی، جس میں تقریبا یوسی یارخون کے لوئیر ایریاز کے تمام گاؤن سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

ہائیر سیکنڈری سکول بانگ کے لان میں ڈی سی اپر چترال کو پر تپاک استقبال کیا گیا۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں نے علاقے کے مسائل کا کھل اظہار کیا، جس میں سر فہرست بروغل روڈ کی مرمت و توسیع، ہائیر سکنڈری سکول بانگ میں اسٹاف کی کمی، بی ایچ یو بریپ میں ڈاکٹر کی دستیابی، گندا اور کم توازن گندم ، سڑکوں پر تجاوزات، لینڈ سیٹلمنٹ ریکارڈ کی تصحیح اور تجاوزات کی روک تھام،
نائب تحصیلدار یارخون کی بانگ میں پوسٹنگ، یارخون سے کلاس فور ملازمین کی اپنے علاقے میں زمینیات کے عوض بھرتی، پلوں کی مرمت سمیت متعدد مسائل سے ڈی سی اپر چترال محمد علی کو اگاہ کیا۔
مقررین نے سیاسی نمائندوں کو اڑے ہاتھوں لیا اور تنقید کے گولے برسائے، سابق ناظم محمد وزیر، سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل رخمت ولی، ظہیر الدیں، قاسم شاہ، عقاب خان، عبدالناصر، سید ابرار، قاری فدا اور ممتاز علی خان نے بھی علاقے کے مسائل جامع انداز میں ڈی سی کو سنایا۔
 
سماجی کارکن عزیز خان نے ڈی سی صاحب کو خوش امدید کے بعد کہا اپ مخلص تو ہے ہی آج کے بعد آپ یارخون اور بانگ کیا بیٹا ہوکر ہمارے لیے قانون کی حکومت اور ترقی کے نئے دروازے کھلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ عوام کا اجتماعی ڈیمانڈ میں وزیر اعلی کو دورہ یارخون لانے کی  بات سر فہرست تھی۔
بعد میں ڈی سی اپر چترال نے عوام کو ان کے مسائل گھر کے دہلیز پر حل کرنے کی یقین دہانی کی اور  موقع پر تمام متعلقہ محکموں کو بروقت کاروائی کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کا خادم ہے۔
وہ اپنے اسپیچ میں میراگرام اور بنگ کے درمیان پل کے لئے ایک کروڑ روپے اور سکول کے لئے ایک کلو میٹررابطہ سڑک کی بحالی، پلے گراونڈ کی منظور ی سمیت متعدد منصوبوں کو بروقت تکمیل کا حکم دیا۔ 
 پروگرام سے واپسی پر بیرزوز کے مقام پر خواتین نے ڈی سی اپر چترال کو پھول پیش کیا اور پینے کا پانی کا دیرینہ مطالبہ ان کے سامنے رکھا، جس کے لئے انہوں نے ایک ہفتے کے اندر کام شروع کرنے عزم کیا اور انجنئیر کو سروے کے لئے بھیجنے کا وعدہ کیا۔ اس موقع پر شاندار الفاظ میں ڈی سی اپر چترال اور پاکستان کے حق میں نعرے لگائے.
Exit mobile version