Women and children hospital Chitral

زچہ و بچہ ہسپتال چترال کی خستہ حالی

تحریر: کریم اللہ

گزشتہ ہفتے مجھے کم و بیش پانچ دن زچہ و بچہ ہسپتال چترال میں رہنے کا موقع ملا وجہ میری اہلیہ کی ڈیلیوری اور اس کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیاں تھی جس میں وہ مرتے مرتے بچ گئی۔ اس کی وجوہات میں سب سے اہم وجہ ڈاکٹروں، نرسز اور دوسرے عملے کا نامناسب و غیر پیشہ وارانہ رویہ تھا۔ اس پر تفصیلات بعد میں۔ فی الحال اس ہسپتال میں ناقص انتظامات، گندگی و بدبو اور شور شرابے پر بات کرتے ہیں۔

زچہ و بچہ ہسپتال چترال اپر و لوئر کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے بلکہ یہ واحد ہسپتال بھی ہے۔ یہاں چترال کے کونے کونے سے روزانہ درجنوں خواتین اپنا چیک اپ کرانے، بچوں و بچیوں کے معائینے اور ڈیلیوری کیسز کے حوالے سے آتے ہیں۔ ہسپتال کی بہتری کسی دور میں بھی حکمرانوں اور منتخب نمائندوں کی ترجیح نہیں رہی اور نہ ہی موجودہ دور میں اس ہسپتال کو بہتر بنانے اور اس میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے کوئی کوشش ہورہی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ ہسپتال کتوں و بلیوں کی آماجگاہ، بھیکاریوں کا مسکن اور ہسپتال کے اندر و باہر گندگی سے پر، واش رومز کی تعداد انتہائی کم، وارڈ سے بہت دور اور گندگی و غلاظت کا ڈھیر ہے۔
زچگی کے دوران عورت جسمانی و نفسیاتی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ھے ایسے میں اپریشن شدہ خواتین کا وارڈ سے نکل کر دور جاکے گندے واش رومز کا استعمال ان کے لئے نہ صرف اذیت کا باعث بن جاتی ھے بلکہ اکثر حاملہ خواتین ان واش رومز کی وجہ سے بیمار پڑ جاتی ہیں۔

ہسپتال کے اندر انتظامیہ موجود نہیں جو کہ مسائل کو سن سکے اور مریضوں یا ان کے لواحقین کی رہنمائی کرے اس لحاظ سے ہسپتال مکمل طور پر لاوارث ہے۔ شاید یہ ڈی ایچ کیو کی ایک ذیلی شاخ ہے اگر ایسا بھی ہے تو کم از کم اس ہسپتال میں بھی انتظامی عہدیدار تو موجود ہونا چاہئے جو مریضوں اور ان کے ساتھ آنے والوں کی رہنمائی کرسکیں اور کہیں جاکے کسی مسئلے کی شکایت ہو۔ مگر یہ ہسپتال عملا شہر نا پرسان کا منظر پیش کررہے ہیں۔

ہسپتال کے اندر وارڈ ز وغیرہ میں بھی صفائی ستھرائی کا کوئی انتظام نہیں اور نہ ہی وارڈ میں شور شرابہ کم کرنے کے لئے کوئی عملہ آپ کو دکھائی دے گا۔ میری والدہ نے پشاور کے ایک بس اسٹیشن کو دیکھ کر کہا کہ چترال کے ہسپتال سے یہ اڈہ زیادہ صاف اور پرسکون ہے۔ ہسپتال کے زنانہ وارڈ ز میں جا کر ایسا لگتا ہے کہ آپ مچھلی منڈی میں موجود ہے یا پیر ودھائی کے بس اڈے میں۔ ایک مریض کے ساتھ پانچ سے چھ مردو خواتین بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں ان کے ساتھ آنے والے بچوں اور بچیوں کا شور شرابے الگ سے۔
وارڈ اردلی صرف ڈاکٹر کے معائینے کے وقت وارڈ میں آکر چیخ و پکار سے وہاں موجود لوگوں کو باہر نکالتے ہیں اور جونہی معائنہ ختم، وارڈ اردلی و نرسز بھی غائب ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد وارڈز میں مرد و خواتین کا تانتا بندھا رہتا ہے اور یہ شور شرابہ دن رات جاری رہتی ھے جس کی وجہ سے اکثر خواتین ڈپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں۔ جن خواتین کو انتہائی نگہداشت و سکون کی ضرورت ہوتی ہے انہیں صحیح نیند کا موقع بھی ہسپتال میں میسر نہیں۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published.