کیلاش قبیلے کا سالانہ تہوار پھولڑ

وادی بریر میں کیلاش قبیلے کا سالانہ تہوار پھولڑ اختتام پذیر

چترال(گل حماد فاروقی) کیلاش قبیلے کا سالانہ تہوار پھولڑ  وادی بریر میں نہایت جوش و جذبے سے منایا گیا۔ یہ تہوار صرف وادی بریر میں ہر سال منایا جاتا ہے جس میں اخروٹ اتار کر اور سٹور سے انگور نکال کر مہمانوں کو پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس میں برکت  ہو اور اگلے سال خوب فصل اگے۔
اس تہوار میں ان بچیوں کے سروں پر پھولوں سے بنی ہوئی ایک حاص ٹوپی رکھا جاتا ہے جن کی عمریں دس سال تک پہنچ جائے اسی طرح دس سال کے بچوں کو بھی کیلاش لباس پہناکر ان کو باقاعدہ طور پر اس قبیلے میں شامل کیا جاتا ہے۔
پھولڑ تہوار میں کیلاش خواتین  گیت گاتی ہوئی رقص کرتی ہیں جبکہ مرد خضرات ڈھولک بجاتے ہیں۔ اس موقع پر کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء جن کو قاضی کہا جاتا ہے وہ مذہبی گیت گاتے ہیں اور آنے والے سال میں اپنے لوگوں کیلئے دعائیں بھی مانگتے ہیں۔ اس تہوار میں وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ کے معاون حصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کیلاش نے حصوصی طور پر شرکت کی جبکہ ریجنل پولیس آفیسر غفور آفریدی اور دیگر اراکین اسمبلی بھی اس تہوار سے لطف اندوز ہوئے۔ اس موقع پر وزیر اعلےٰ کے معاون حصوصی وزیر زادہ کیلاش نے کیلاش کے مذہبی رہنماء قاضی صاحبان میں ان کی اعزازئے کی چیک بھی تقسیم کئے۔ 
ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے وزیر زادہ نے کہا کہ  موجودہ حکومت کھیل کود اور سیاحت کو فروغ دینے کیلئے  ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور پہلی بار کیلاش قاضی جن میں خواتین اور حضرات دونوں شامل ہیں ان کو ماہوار اعزائے کے چیک بھی دئے گئے۔ ڈی آئی جی ملاکنڈ غفور افریدی نے کہا کہ پولیس کیلاش قبیلے کے لوگوں کو ہر قسم کی تحفظ دینے کیلئے ہر وقت چوکس رہتی ہے تاکہ یہ لوگ نہایت تسلی کے ساتھ اپنے مذہبی رسومات اداکرے اور پولیس ہر آنے والے مہمان اور سیاح پر بھی نظر رکھتی ہے تاکہ یہاں کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ اس تہوار کو دیکھنے کیلئے آنے والے چند ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے کیلاش کی خوبصورتی اور ان رنگا رنگ تقریبات کی تعریف کے ساتھ ساتھ حکومت سے مطالبہ بھی کیا کہ کیلاش وادی جو جانے والی سڑکوں کی حالت زار بہتر  بنائے تاکہ سیاحوں کو یہاں آنے میں دقت کا سامنا نہ ہو۔  اس تہوار میں  کثیر تعداد میں سیاحوں نے شرکت کی جو دوپہر کے بعد اونچے والے جگہہ میں جاکر چرسو میں رقص پیش کرکے گیت گاتی ہیں اور شام کے بعد یہ تہوار احتتام پذیر ہواتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.