بھکاریوں کا قبیلہ‎‎

بھکاریوں کا قبیلہ‎‎

محمد الیاس خواجہ
گولدور، چترال
چترال میں سال کے مختلف مہینوں خصوصاً گرمیوں میں نیچے کے علاقوں سے گداگر سینکروڑوں کی تعداد میں میں آ جاتے ہیں۔ یہ گداگر ایک طرف گرمیاں یہاں گزارتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنی کمائی بھی خوب کرتے ہیں۔
ان دنوں  پنجابی بھکاریوں کا ایک پورا قبیلہ چترال آ دھمکا ہے۔ چھوٹے بچے سے لے کر کر ان کے بوڑھے دادا دادی تک بازاروں اور چترال شہر کے محلوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ بڑے منظم طریقے سے بھیک مانگتے ہیں۔ بچہ ایک گھر میں گھستا ہے تو باپ دوسرے گھر میں ماں تیسرے گھر میں اور دادا چوتھے گھر میں اور بہن اس کی پانچویں گھر میں گھس جاتی ہے 
یہ ایسے وقت لوگوں کے گھروں میں گھس جاتے ہیںبھکاریوں کا قبیلہ‎‎ جب کہ مرد حضرات باہر کام کو نکلے ہوتے ہیں۔ یہ بڑے بے شرم لوگ ہیں،  مکینوں کو بہت تنگ کرتے ہیں۔ بازاروں میں ان کی عورتیں مردوں کو پکڑ پکڑ کر ان سے پیسے مانگتی ہیں۔ انتظامیہ اس بات کا بلکل نوٹس نہیں لیتی۔
اس کے علاوہ موسم بہار سے لے کر خزاں کے موسم تک نیچے کے مختلف علاقوں سے سے اکثر نقلی ملّا اور خود ساختہ نمائندے بورے چترال بازار اور محلے کے مسجدوں میں گھوم پھر کر نیچے کے دور دراز علاقوں کی مسجدوں اور مدرسوں کے لئے چند مانتے ہیں۔ ہر ایک کے پاس اپنے   اسناد اور اور رسیدیں ہوتی ہیں جن کا کوئی وجود نہیں ہوتا اور یہ کسی تنظیم سے منسلک نہیں ہوتے، عام آدمی انکی تصدیق کرے تو امن و امان کا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔ یہ ذاتی طور پر اپنے لیے کمائی کرتے ہیں۔ ان دونوں قسم کی مصیبتوں سے عوام کو نجات دلانے کے لئے ضلعی انتظامیہ کو کوئی ٹھوس قدم اٹھانا چاہیے۔
 یہ بھکاری اور ٹھگ لوگ مجبور بالکل نہیں ہوتے۔ یہ لوگ کھانا دینے پر خوش نہیں ہوتے صرف اور صرف پیسے مانگتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.