صنم کدہ ہے جہاں

غائبانہ یا پرا کسی

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

اس وقت عرب مما لک سے لیکر افغا نستا ن تک جو جنگیں لڑی جا رہی ہیں ان جنگوں میں اصل فریق غا ئب ہے اصل فریق کی جگہ اس کے گما شتے اور کا رندے مختلف نا موں سے یہ جنگیں اصل فریق کی طرف سے لڑ رہے ہیں انگریزی میں ایسی جنگوں کو پراکسی وار کہا جا تا ہے اردو میں بھی انگریزی کی یہ تر کیب دھڑ لے سے استعمال ہو رہی ہے اگر اردو میں اس کو غا ئبا نہ لڑائی لکھا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا صحا فی، وکلا ء اور دا نشور جا نتے ہیں کہ یہ غا ئبا نہ لڑا ئیاں ہیں اصل فریق با ہر بیٹھا ہوا ہے

افغا نستان کی 40سالہ خا نہ جنگی میں روس کے 1500سپا ہی مارے گئے، امریکہ کے 2800سپا ہی قتل ہوئے 2لا کھ افغا نی شہید ہوئے 3لا کھ افغا نی عمر بھر کے لئے معذور ہوئے اس جنگ کے جو شعلے پا کستان کی طرف آئے ان شعلوں نے 88ہزار پا کستانیوں کی جا ن لے لی ان میں 7ہزار پولیس یا فو جی اور 81ہزار شہری شا مل تھے اصل فریقین کا نقصان نہ ہو نے کے برابر ہے اب جو نئی جنگ کے نقا رے بجا ئے جار ہے ہیں اس میں چین اور امریکہ جنگ کے اصل فریق ہیں لیکن میدان میں دونوں غیر حا ضر ہیں دونوں کی جگہ پا کستانی اور افغا نی تو پوں کے دہا نے پر ہیں جنگ طویل ہو جا ئے تو اصل فریق کا کچھ نہیں بگڑے گا ایسے لو گ متا ثر ہو نگے جن کا اس جنگ میں کوئی مطلب نہیں کوئی مقصد نہیں کوئی مفا د نہیں پرائی جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے جا ری اجلا س سے لو گوں کو بہت سی اُمیدیں ہیں اور سب غلط ہیں جنرل اسمبلی کے پاس جنگوں کو روکنے اور امن بحا ل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے دنیا کی تین طا قتوں کولگا م دینے کا کوئی طریقہ کا ر نہیں دنیا میں جی ایٹ، جی سیون اور جی سکس کے نا م سے ترقی یا فتہ اور صنعتی مما لک کے جو بڑے بڑے گروپ ہیں ان کے مفا دات کو عالمی امن کے لئے خطرہ بننے سے جنرل اسمبلی نہیں روک سکتی سلامتی کونسل ایران اور افغا نستا ن پر پا بندی لگا سکتی ہے عالمی طا قتوں پر پا بندی نہیں لگاسکتی

سلامتی کونسل میں عالمی طا قتوں کو ویٹو کا ہتھیار دیا گیا ہے ان میں سے کسی ایک کے مفا دات کو زک پہنچنے کا اندیشہ یا احتمال ہو تو وہ ویٹو کے ذریعے اقوام متحدہ کی کسی بھی قرار داد کو جو تے کی نو ک پر رکھ سکتے ہیں سیا ست ، جمہوریت ، سفارت کاری ،انصاف ، قانون اور دستو ر کی کسی کتاب میں ویٹو پاور کی گنجا ئش نہیں 191مما لک ایک طرف ایک ملک دوسری طرف ہو تو ویٹو کے ذریعے وہ اکیلا ملک اپنی من ما نی کر لیتا ہے 191مما لک میں جن 15مما لک کو سلا متی کونسل میں میں رکنیت حا صل ہو تی ہے ان میں 14مما لک ایک طرف ہو ں ایک ملک دوسری طرف ہو تو اکیلا ملک ویٹو کی مدد سے کا میاب ہوتا ہے شما لی کوریا ، افغا نستان ، ایران اور چین کو جمہوریت کا درس دینے والے بڑے بڑے مما لک اقوام متحدہ میں جمہوریت کو داخل ہونے نہیں دیتے اگر اقوام متحدہ میں جمہوریت آگئی تو پرا کسی وار یا غا ئبا نہ لڑا ئی کی گنجا ئش نہیں رہے گی جمہوریت کسی ملک کو اجا زت نہیں دیتی کہ دس کھرب ڈالر کما نے کے چکر میں غریبوں کو لڑا ءو ان کی لڑا ئی سے ما ل کما ءو اپنی چود ھرا ہٹ بٹھا ءو سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ میں جمہوریت کے اصو لوں کو آخر کیوں نہیں اپنا یا جا تا کب تک دنیا کے مظلوم ، غریب اور نا دار مما لک بڑی طا قتوں کی غا ئبا نہ جنگ کا ایندھن بنتے رہینگے کب تک دنیا میں بڑی طا قتوں کے ما لی مفا دات کے لئے غریبوں کا خو ن بہا یا جا تا رہے گا

اس نا انصا فی اور ظلم کے خلا ف مو ثر آواز اُٹھا نے کے لئے دنیا کے تر قی پذیر مما لک کو نیو یارک میں الگ سکر ٹریٹ قائم کر کے اقوام متحدہ کی متوا زی تنظیم بنا نی چا ہئیے جس طرح سرد جنگ کے زما نے میں تیسری دنیا کا فورم مظلوموں کے لئے آواز اٹھا تا تھا اس لئے مو جو دہ حا لا ت میں پرا کسی وار یا غا ئبا نہ لڑ ائی کو ختم کر کے مظلوم عوام کو انصاف دینے کے لئے ویٹو پاور کو ختم کرنے کی تجویز پر بھی مو ثر لا بنگ ہو نی چا ہئیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.