مفت مشورہ

معذرت 

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

نیوزی لینڈ کی کر کٹ ٹیم نے پا کستان میں اپنی سیریز عین وقت پر منسوخ کر کے واپس وطن لوٹنے کے بعد معذرت کی ہے اور اس فیصلے سے پا کستان کو جو دکھ ہوا اس پرمعا فی مانگی ہے ایک روز پہلے امریکہ نے کابل میں ڈرون حملہ کر کے بے گناہ شہریوں کو مارنے پر معذرت کی تھی اس طرح کی معذرت سے معذرت کی مٹی پلید ہوجا تی ہے معذرت کی بھی حد ہوتی ہے کوئی وقت ہوتا ہے ہر جگہ، ہر وقت، ہر بات پر معذرت نہیں ہوتی کوئی ایسی معذرت کو قبول کرے بھی تو ہم ایسی معذرت کو معذرت کرنے والے کے منہ پر دے مارتے ہیں

یہ کیا بات ہوئی تم نے دن دیہاڑے سورج کی روشنی میں ایک جرم کیا اور جرم بھی ایسا جس کی نہ معافی ہے نہ تلا فی ہے اگلے روز تم نے کہا میں اس پر معذرت خواہ ہوں نہیں عالی جاہ! ایسا نہیں ہوتا اگر نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ کے دوران امپائر یا کھلا ڑی سے بدتمیزی کرتی تو معذرت قبول ہوتی، اگر امریکی محکمہ دفاع کی گاڑی غلطی سے کسی بلی، کتے یا گیدڑ کو کچل دیتی تو معذرت قبول کی جاسکتی تھی لیکن یہاں کیا ہوا  تین ماہ پہلے پاک نیوزی لینڈ سیریز کا اعلان ہوا نیوزی لینڈ کی سیکیورٹی ٹیم پاکستان آگئی سیکیورٹی ٹیم پاکستان میں رہی روزمرہ حالات کا جائزہ لیکر اپنے ملک کو رپورٹ بھیجتی رہی تسلی بخش رپورٹوں کے بعد نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان آگئی راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں میچ کے لئے ٹکٹیں جاری کی گئی ہزاروں شائقین کرکٹ نے ٹکٹ خرید لئے میچ کے دن دور دور سے لوگ راولپنڈی پہنچ گئے میچ کے لئے گھنٹے گنے جانے لگے لیکن میچ میں دو گھنٹے رہتے تھے نیوزی لینڈ کی ٹیم نے کسی اوباش نوجوان کی طرح میچ کو منسوخ کرکے دورہ پا کستان سے ہاتھ کھینچ کر وطن واپس جا نے کا اعلا ن کیا

دوبئی سے چارٹر طیارہ منگوا یا اور وطن واپسی کے لئے ائیر پورٹ کا راستہ لے لیا حا لانکہ یہ میچ کے لئے سیٹیڈیم آنے کا وقت تھا اتنی غیر سنجیدہ حرکت کوئی بھی ملک نہیں کرتا کوئی کر کٹ بورڈ نہیں کرتا کوئی بھی کر کٹ ٹیم نہیں کر تی شائقین کر کٹ کا جو نقصان ہوا وہ ایسا نقصان ہے جس کی تلا فی نہیں ہو سکتی پا کستان نے بحیثیت ملک جو نقصان اٹھایا اُس کا حساب کوئی نہیں دے سکتا پا کستان کر کٹ بورڈ کا جو نقصان ہوا اُس کا ازالہ کوئی نہیں کر سکتاتم کہتے ہو ’’معذرت خواہ ہوں‘‘ سوری اس طرح نہیں ہوتا

امریکہ بہادر نے ایک دن اعلا ن کیا کہ داعش کابل میں امریکی شہریوں کو نشا نہ بنا نے والی ہے دوسرے دن امریکی حکام نے کا بل ائیر پورٹ کے قریب ایک گاڑی پر ڈرون حملہ کیا حملے کے بعد فخر کے ساتھ اعلا ن ہوا کہ پینٹا گان نے داعش کے خطرنا ک دہشت گرد وں کو ڈرون حملے میں مار دیا ہے ایک ہفتہ بعد تما م ذراءع سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ڈرون حملہ ایک رضا کار انجینئر کی گاڑی پر ہوا تھا حملے میں رضا کا انجینئر کے ہمراہ 8دیگر بے گنا ہ شہری عورتیں اور بچے شہید ہو گئے تھے 12دیگر لوگ زحمی ہوئے تھے رپورٹروں کی خبروں پر تحقیق اور تفتیش ہوئی روس، فرانس، چین اور بر طا نیہ کے حکا م نے اس بات کی تصدیق میں بیا نا ت دیئے کہ امریکہ بہادر نے داعش کو نشا نہ نہیں بنا یا بے گنا ہ شہریوں اور مخلوق کی خد مت کرنے والے رضا کاروں پر ڈرون حملہ کیا تھا بین الاقوامی سطح پر شر مندگی اور بے عزتی کے بعد امریکہ کی سینٹرل کما نڈ اور پنیٹاگان کے حکا م نے بیا ن جاری کیا کہ داعش کے دہشت گردوں کی مو جو د گی کی اطلا ع ملی تھی جس پر ڈرون حملہ ہوا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اطلا ع غلط تھی اس لئے ہم معذرت خواہ ہیں شاعر نے 100باتوں کی ایک بات کہی ہے

کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا

مگر یہ شعر بھی اس معذرت کے بخیے ادھیڑ نے کا کا م نہیں دیتا امریکی حکام نے جفا سے تو بہ نہیں کی صرف بے گناہ شہریوں کے ناحق قتل پر معذرت کی ہے اور معذرت کا یہ مو قع محل نہیں نا ک رگڑ نے سے شہید وں کا لہو معاف نہیں ہو تا جو دنیا سے گذر گئے وہ واپس نہیں آسکتے ’’سوری‘‘ کہنے کا یہ انداز  میں با لکل پسند نہیں کسی کی جا ن گئی تیری ادا ٹھہری نیو زی لینڈ کی کر کٹ ٹیم، ان کے کر کٹ بورڈ اور ان کی وزیر اعظم کو ہم نے لا کھ سمجھا یا کہ سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ’’بس آپ نے گھبرا نا نہیں ہے‘‘ مگر وہ گھبراہٹ کا شکار ہوئے اس گھبراہٹ کا مداوا معذرت سے نہیں ہوگا کرکٹ کے بین الاقوامی فورم پر ہرجا نہ ادا کرنا ہوگا ہرجا نہ دینے کے بعد بیشک معذرت کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.