والنٹیر اور کاروباری قرضہ

مہاجر کیمپ

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

سرکاری حلقوں کے ساتھ ساتھ عوامی حلقوں میں بھی یہ بات تسلسل کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ افغانستان سے مہا جرین کا نیا ریلا پاکستان میں پنا ہ لینے کے لئے آنے والا ہے سوشل میڈیا پر یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ امریکہ اور نیٹو ممالک کے جو شہری جہا زوں میں پا کستان کے راستے اپنے ملکوں کو جا نے کے لئے آئے تھے ان میں سے لگ بھگ 4ہزار مسافر اپنے ملکوں کو نہیں گئے وہ اسلام اباد میں ٹھہرگئے حکومت ان مسا فروں کی نگرانی کررہی ہے مگر کب تک نگرا نی کریگی 

یہ لوگ اگر ملک کے اندر پھیل گئے تو مستقبل میں کئی مسا ئل جنم لے سکتے ہیں اس طرح چمن، غلام خا ن، طورخم اراندو اور نوا پا س کے راستے پا کستان آنے والے پناہ گزینوں کی صورت حال بھی کسی وقت سنگین رُخ اختیار کر سکتی ہے سو شل میڈیا پر یہ فضول بحث چل رہی ہے کہ ان کو پنا ہ دینی چا ہئیے یا نہیں یہ بحث اس بناء پر فضول ہے کہ پنا ہ دینے سے انکار کی کوئی صورت نہیں ہے یقینا پنا ہ دینی ہے اور لا زما ً پنا ہ دینی ہے اس کی ثقا فتی اور تاریخی و جو ہات بھی ہیں جعرا فیائی محل وقوع کا بھی یہی تقا ضا ہے نیز اقوام متحدہ کے ممبر کی حیثیت سے عالمی دباءو کا بھی سامنا ہے اس لئے ہ میں مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے ایسی حکمت عملی اپنا نی ہو گی کہ نئے پنا ہ گزینوں کی طرف سے مستقبل میں پا کستان کو اندرونی سلا متی کے خطرات درپیش نہ ہو ں

ہمارے سامنے ایران کی اچھی مثال مو جود ہے 1980ء میں ایرانی انقلا ب کو بمشکل ایک سال کا عرصہ گذرا تھا کہ افغا ن پنا ہ گزینوں کا مسئلہ سامنے آگیا ایرا نی حکومت مشکل حا لا ت سے گذر رہی تھی لیکن اس کے باو جود ایران کی حکومت نے افغا ن مہا جرین کے لئے خار دار تاروں کی چار دیواریوں میں ایسے کیمپ قائم کیے جیسے کیمپ جنگی قیدیوں کے لئے بنا ئے جا تے ہیں کسی مہا جر کو کیمپ سے با ہر جا نے کی اجازت نہیں تھی جب روس نے افغا نستا ن سے فو جوں کا انخلا کیا تو افغا ن مہا جرین کو ان کیمپوں سے اٹھا کر سرحد پر افغا ن حکا م کے حوالے کیا گیا ایک بھی افغا ن مہا جر تہران ، شیراز ، مشہد اور اصفہان کی گلیوں میں گُم نہیں ہوا یہ مو ثر اور کا میاب حکمت عملی تھی

اگر 1980ء میں پا کستا ن اس طرح کی حکمت عملی بنا لیتا تو پا کستا ن کی حکومت اندرونی سلا متی کے خطرات سے دو چار نہ ہو تی اور افغا ن پنا ہ گزین روسی فو ج کے انخلا کے بعد اپنے وطن اور گھروں میں جا کر آباد ہو جا تے پا کستانی عوام اور افغا ن پنا ہ گزینوں کے درمیاں غلط فہمیاں بھی پیدا نہ ہو تیں اور آج ایک طبقہ پنا ہ گزینوں کو پنا ہ دینے کی مخا لفت نہ کرتا مختلف ذراءع سے جو خبریں اب تک آئی ہیں ان خبروں کے مطا بق 2021 میں جو افغا ن شہری بے گھر ہو کر دوسرے ملکوں میں پنا ہ لینے پر مجبور ہو نے والے ہیں یہ 1980کی دہا ئی میں آنے والوں سے یکسر مختلف ہیں وہ لوگ علماء کے زیر اثر تھے ان میں جید علماء بھی تھے مد رسوں اور مسجدوں میں رہنے والے لو گ تھے اب جو لوگ آرہے ہیں یہ انگریزی سکولوں میں پڑھے ہوئے لو گ ہیں ان لو گوں کو انگریزی آتی ہے اس لئے ان افغا ن شہریوں نے امریکہ اور نیٹو مما لک کے لئے تر جمہ کار، سہولت کار اور مقا می مخبر کا کردار ادا کیا تھا انخلا کا فیصلہ کر نے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی تقریر وں میں تکرار کے ساتھ یہ بات کہی تھی کہ ہم اپنے سہولت کاروں اور ترجمہ کاروں کو بے اسرا نہیں چھوڑ ینگے ان کے لئے اپنے ملکوں کی سرحدیں کھول دینگے اور ہنگا می بنیا دوں پرامیگریشن کے مراحل طے کر کے ان کو اپنے مُلکوں میں بسا ئینگے

اگرچہ امارت اسلا می نے ان کے لئے عام معا فی کا اعلا ن کیا ہے مگر یہ لو گ انجا نے خو ف کا شکار ہیں ان کی دشمنیاں بھی جنم لے چکی ہیں اس وجہ سے یہ لو گ خود کو محفوظ نہیں سمجھتے اقوام متحدہ نے اس سال کے آخر تک 5لا کھ افغا نوں کے پنا ہ گزین ہو نے کا اندا زہ لگا یا ہے اگلے سال اس تعداد میں اضا فہ ہو سکتا ہے اس بنا ء پر محب وطن حلقوں کی یہ رائے بہت وز نی ہے کہ آنے والے افغا ن پنا ہ گزینوں کے لئے منا سب جگہوں میں خار دار تاروں کی مضبوط چار دیواری کے اندر کیمپ بنا ئے جا ئیں ان کو کیمپ سے با ہر جا نے، کاروبار کرنے اور لوگوں میں گھل مل جا نے کی اجا زت نہ دی جا ئے عالمی ادارے کیمپوں کے اندر خوراک ، علا ج ، تعلیم اور دیگر سہو لیات فرا ہم کرینگے افغا نستا ن میں حا لات بہتر ہو نے اور خوف کے خد شات ختم ہو نے کے بعد ان کو کیمپوں سے اٹھا کر افغا نستا ن کی سر حد پر اس طرح مقا می حکام کے حوالے کیا جا ئے گا جس طرح ایران نے کیا تھا ملک کے بہترین مفاد میں یہ معتدل رویہ اور محفوظ راستہ ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.