مفت تعلیم

پہاڑی لوگوں کا ایک منفرد میلہ

پس و پیش

اے۔ایم۔ خان
گزشتہ کئی سالوں سے ہر سال شندور کے مقام پر بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر ایک روایتی کھیل کھیلا جاتا ہے جسمیں لاسپور اور غذر اور بعد میں  چترال اور گلگت سے پولو ٹیمز حصہ لیتے آرہے ہیں۔ اس سطح مرتفع میں ہونے والی کھیل  جسے بعد میں ‘بادشاہوں کا کھیل اور کھیلوں کا بادشاہ’  نام دی گئی۔  یہ روایت نہایت قدیم ہے جو بعد میں اس نام سے مشہور ہوگئی ہے۔ اس روایت کی تاریخ اس سے بڑھ کر ہے، یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ سب سے پہلے لاسپور اور غذر کے لوگ اپنے اپنے علاقے کے گرمائی سے ہوکر شندور گراونڈ میں  ایک خاص سیزن میں اپنے پالتو جانور چرانے کے ساتھ ایک  تماشہ یا کھیل کے طور پر پہاڑی پولو کی بنیاد  رکھ دی۔ 
گو کہ اب یہ وثوق سے کہا نہیں جاسکتا کہ شندور کے مقام پر یہ کھیل کب اور کسطرح شروع ہوا لیکن عین ممکن ہے کہ شندور میں روایتی پولو لاسپور اور غذر کے اُن باسیوں نے  شروع کئے ہونگے  اور اسے ایک نام دی جو کہ اب فری اسٹائل پولو کے نام سے مشہور ہے۔
  شندور سطح مرتفع میں گرمیوں کے مہینے میں [ پہلے جون اور اب جولائی ] یہ کھیل اب بھی ایک تہوار  کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 
معلوم تاریخ کے مطابق چھ صدی قبل مسیح کو پولو کا کھیل  ایران میں جنم لی جو کہ اب مختلف شکل میں دُنیا میں موجود ہے۔ اس بات میں قوی امکان ہے کہ ایران سے ہوتے ہوئے یہ کھیل  وسطی ایشیاء اور افعانستان سے اس ریجن میں پہنچ چُکی ہے۔
چترال کی تاریخ میں انیسویں صدی کے آخری پندرہ سال اہم رہے ہیں جسمیں برطانوی سامراج “گریٹ گیم” کے دوران  روس اور افعانستان سے خطرات  کے پیش نظر گلگت اور چترال میں دلچسپی لینا شروع کی۔ جس کا  ایک یہ نتیجہ یہ ہوا کہ برطانوی حکومت کے فوجی اہلکار بالاخر لوکھرٹ مشن میں چترال کے اسوقت کے حکمران سے ایک معاہدے میں شامل ہوگئے جس سے دفاعی اور خارجی امور اُن کے ہاتھ میں چلی گئی ۔
 برطانوی اخبار ‘گارڈین’ اپنے ایک فیچرڈ رپورٹ میں  لکھا ہے کہ  جنرل کوب نے پولو  کو رسمی شکل دی اور ایک دوسری روایت کے مطابق  یہ برطانوی اہلکار  “مس جُنالی” میں رات کے وقت چاند کی روشنی میں پولو کھیلنے کی روایت رکھ دی؟  مس جُنالی  میں پولو سے شعف رکھنے والے یہ پہلے  انگریز ہو سکتا ہے جسے پہاڑی پولو کھیلنے کا موقع ملا ہوا ہوگا لیکن یہ انہی رپورٹس سے واضح ہوجاتی ہے کہ 1930 سے پہلے  اس گراونڈ میں مقامی لوگ چاند کی روشنی میں پولو کھیلا کرتے تھے اور اسی مناسبت سے یہ گراونڈ مس جُنالی نام سے پہلے ہی سے جانا جاتا تھا۔ 
چترالی چترال میں بولی جانے والی زبان کھوار میں ‘مس’ کے معنی چاند اور ‘جُنالی’ کے معنی کھیل کا میدان ہے۔ 
لاسپور اور غذر کے لوگوں سے ہوتا ہوا یہ تہوار ایک قومی میلہ کی شکل اُسوقت اختیار کی جب یہ ایک کیلینڈرڈ تہوار قرار دی گئی۔  ہر سال ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں اس کا انعقاد ہونے  لگا۔ شندور میں روایتی پولو  ایک باقاعدہ تہوار کی حیثیت لینے کے بعد  کھیل کا مرکز  چترال اور گلگت کے پولو ٹیموں  کے درمیان مقابلے سے مقبول ہونے لگا، جو کہ اب بھی ہے۔
 گزشتہ دو سال پہلے اس تہوار کے انعقاد میں تعطل شندور گراونڈ اور اس سے متصل زمیں کے حوالے سے صوبائی حکومتوں میں تنازغہ  ،اور چترال میں مسائل ضلعی انتظامیہ اور چترال پولو ایسوسی ایشن کے درمیان کھیل کا انتظام اور کھلاڑیوں کے سلیکشن کے حوالے سے سامنے آئے، اور بعد میں، باوجود اسکے گزشتہ سال کی طرح  اس سال بھی شندور کا میلہ نہ ہونے کا بنیادی وجہ کورونا کی وباء تھی۔
دُنیا میں فری پولو کیلئے مشہور اور بلند ترین پولو گراونڈ ہونے کی شہرت کو مزید تقویت اُسوقت  ملی جب باہر ملکوں سے میڈیا  اور سیاح اس تہوار میں شرکت کرنے کیلئے آئے، اور  اس ایونٹ کو قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے  کوریج دی۔ 
چترال کے مقامی زبان  کھوار  میں پولو کو  “استورغاڑ” کہا جاتا ہے، اسکا مطلب ‘گھوڑے کا کھیل’ ہے ۔ چترال کے تناظر میں پولو شروع سے اب تک “گھوڑے کا کھیل اور کھلاڑی کا کھیل” سے مستغر تھا اور یہ بعد میں، ایک دور میں، ‘بادشاہوں کا کھیل اور کھیلوں کا بادشاہ’  کہا جانے لگا ۔ لاسپور اور چترال کے پولو ٹیموں کے کھلاڑیوں کو دیکھا جائے اس میں چترال  کے مختلف وادیوں، اعتقاد اور قوم یا قبیلے  کے لوگ ہیں جسمیں ایک عام کھلاڑی کے علاوہ چترال سکاوٹس اور پولیس کے کھلاڑی بھی شامل ہوتے ہیں۔  اور یہ صورتحال گلگت میں بھی ہے۔
 زبان زد عام کھیل جسے اب فری اسٹائل پولو کہا جاتا ہے اسمیں لوگ گھوڑے اور کھلاڑی دونوں کو دیکھنے ہر سال شندور چلے جاتے ہیں کہ وہ سطح سمندر سے بارہ ہزار فٹ کی بلندی میں ہواوں کے دوش اور اکسیجن کی کمی میں  کسطرح کھیل کھیلتے ہیں۔
 چترال میں شندور کے علاوہ بالائی چترال میں مستوج، سنوغر، خاندان لشٹ [ جو اب موجود نہیں]، بونی، کوشٹ ، ریشن اور زیرین چترال میں چترال پولو گراونڈ کے علاوہ دروش اور ایون کے گراونڈ میں پولو مشہورہیں ۔ نہ صرف گلگت بلکہ چترال میں بہت سے کھلاڑی اپنے زمانے میں اپنے کھیل اور گھڑ سواری کی وجہ سے جاننے جاتے ہیں۔
 چترال میں اب پولو کھیلنے والے کھلاڑی پروفیشنل ہوگئے ہیں یعنی اُن کے کھیل میں ذور اور طاقت کے علاوہ  پھرتی ، اور کھیل کی ٹیکنیکی نوعیت پر  زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ اب کھلاڑی اپنے گھوڑے کو اس طرح ٹرین کرتی ہے  جس سے وہ تیز دوڑ کے ساتھ پھرتی سے کھیلے۔ پولو میچ کے دوران کھلاڑی اور گھوڑے کے درمیان ایک دوسرے کو سمجھنے، کھیل کو بھانپنے ،  ربط اور ہم آہنگی کلیدی حیثیت کا حامل ہے، اور پھر ٹیم کے ساتھ کھیل کھیلنا  پولو میں ناگزیر ہے۔
شندور پولو فیسٹول کو مقامی سے قومی ، اور قومی سے بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کرنے اور اسے اسطرح جاری رکھنے کا تعلق بھی کھیل ، کھلاڑی، انتظامیہ ، تماشائی، میڈیا، حکومت،  چترال اور گلگت کے لوگوں میں اس تہوار سے شعف پر منحصر رہ چُکی ہے جس میں بعض لوگوں کو کھیل پر ، بعض کو کھلاڑی ہونے پر، کسی کو انتظامیہ ، کسی کو حکومت اور انتطامیہ کا سربراہ اور نمائندہ ہونے کی بنیاد پر اس کھیل کی سرپرستی اور پروموشن پر اپنے اپنے کام اور کردار کی بنیاد پر داد تحسین کے مستحق ہیں۔
 شندور میں کاروبار اور سیاحت کی سیاست حالیہ سالوں کی پیداوار اور مظہر ہے۔ خوف صرف یہ ہے کہ جس سے اس  تاریخی کھیل اور مقام کو زد نہ پہنچے۔
دُنیا میں چترال کے پہاڑی لوگوں کا یہ منفرد کھیل ، پولو،  اب پوری دُنیا میں مشہور ہے اور  ملک میں سیاحت کے فروغ میں یہ میلہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔  یہاں کے لوگ اب بھی اُس شدت اور شوق کے ساتھ سے یہ کھیل کھیلتے ہیں ، دیکھتے اور پسند کرتے ہیں۔
 صوبائی سطح پر شندور میلہ منعقد کروانے میں  وہ عوامل اور عناصر جو خلل ڈالنے کا سبب بنے اور بن سکتے ہیں، اور وہ مسائل جو اس میلے میں تعطل کا باعث بنے اور بن سکتے ہیں اُنہیں صوبائی سطح پر حل کرکے اس تہوار کو جاری رکھنے کیلئے اقدامات حکومت، سیاحت کے فروغ اور علاقائی ترقی کے وسیع تر مفاد میں ہے۔  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *