لاحقہ کی پیدوار اور کھیپ

پس وپیش

 
اے۔ ایم۔ خان
 
ہمارے زبان کے آخر میں جو لاحقہ ہے، جو ہماری اپنی علمی تخلیق ہے یا فرنگی دور کا انعام ، اُس میں وہ طاقت ہے جو ہمیں ہر وقت اور ہر چیز کے ساتھ سُر لانے اور  پیدا کرنے کا جلا بخشتی ہے۔ مجھے بعض دفعہ ایسا بھی لگتا ہے کہ ہم بات بھی اگر سُر میں ہی کرتے کتنا مزہ ہوتا کیونکہ ساتھ اُس لاحقے کا حق بھی ادا ہو جاتا اور بات بھی۔
 
 سچ تو یہ ہے  کہ ہم صوتی اُتارچھڑاو میں سُر کو سر پہ چڑھا رکھا ہے اور یہی ہماری موجودہ پیدوار کا راز ہے۔
 
میں نہ صرف اُس پیدوار سے جو ہم قدیم دور سے بو کر آرہے ہیں بلکہ جو کھیپ اب آرہی ہے  پر لکھ رہا ہوں کیونکہ چترال اور ہمارے شمالی پڑوس میں موسیقی اور میوزک کی جو پرورش کئی سالوں سے جو اب تک جس شوق سے جاری ہے اس کا جو پیدوار اور تازہ کھیپ مارکیٹ میں آچکی ہے اور مزید آجائے گی تو ہم کیا نہیں کرسکتے۔ اس پیدوار سے فائدہ اور کھیپ کو بیچنے کیلئے ہمیں صرف دو کام کرنا ہونگے:
 
 پہلا کام ہمیں اپنے زبان میں گانے اور انسٹرومنٹل میوزک کیلئے اپنی زبان کو سمجھنے اور سننے والے لوگ پیدا کرنا ہونگے تب ہالی ووڈ، بالی ووڈ اور لالی ووڈ سمیت دوسرے فلم انڈسٹریز میں ہماری ڈیمانڈ ،  ہمارا  نام، کام اور چرچا ہوسکتا ہے، کیونکہ ہم اب تک  نثر نگاری ، فلم ، ڈرامہ اور تنقید نگاری وغیرہ پر کام شروع نہیں کئے ہیں اسی لئے اس میدان میں ہم اپنا مارکیٹ نہیں بنا سکتے۔ 
 
 دوسرا، ہمیں اپنے موسیقی اور زبان کو اتنا پھیلانا ہوگا کہ یہ پہاڑوں کی موجودہ  قید سے نکل کر اسطرح آزاد ہو جائے جسطرح اُفق میں سورج نکلتے ہی اسکی کرنیں  پھیل جاتی ہیں۔  جیسے ہی ہماری موسیقی اور زبان پھیل جاتی ہے ہماری پیدوار اور کھیپ جوکہ اب تیار ہے بہتریں ڈیمانڈ پہ بک سکتی ہے۔
 
اور جو اساتذہ اپنے اپنے تعلیمی ادارون میں بچوں کو  اس نالج اکانومی کیلئے تیار کئے ہیں وہ بھی داد تحسین کے مستحق ہیں۔
 
ہماری  یہ سفر جاری ہے جسمیں اور جہاں( یعنی چترال میں ) موسیقی ہے وہاں لطف، مزہ، روح کی غذا، مستی، روحانیت، دُنیا ومافیہا سے دور کی دُنیا، خیالوں کی دلکش وادی، محبت اور محبت کی باتیں، لیلی اور مجنون کے بدلتے قصے اور رُت، اور دُنیا کی لالچ سے باہر وہ دلکش منظر جسمیں انسان محو طاری ہے اپنے موسیقی اور محبوب کی یاد میں۔
 
 چترال اب تو سارا سریلا ہے  یعنی چترال میں ہر چیز  اور ہر فرد شاعر اور موسیقی ہے۔ اور یہ ہماری پیداوار ہے جس پر ہمیں فخر کرنا چاہیے کہ کوئی  لا اور دیکھا سکتا ہے کہ دُنیا کے کسی علاقے میں اتنے گائیک، انسٹرومنٹلسٹس، موسیقی کے دلدادہ، شاعر اور ادیب موجود ہیں ۔
 
بس ہماری صرف ایک بدقسمتی اور ایک خوش قسمتی ہے کہ ہماری زبان بہت چھوٹی زبان ہے یہ ہماری بدقسمتی ہے  اور ہمارے زبان کا لاحقہ بہت طاقتور ہے یہ ہماری خوش قسمتی ہے۔
 
ہم اپنی کلچر یعنی شاعری اور موسیقی پر جتنا کام کیا ہے یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ ہم کتنے اچھے تمدن اور تہذیب کے لوگ ہیں۔ ان پہاڑون کے درمیاں موسیقی کو اب تک  زندہ رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ قدیم زمانے کے لوگ سردیوں کی لمبی راتیں، مختلف تہوار اور مواقع پر موقع پاکر موسیقی کا انتظام کرکے ان پہاڑ کے گھاٹیوں میں اپنا وقت گزارتے تھے اور موسیقی پر کچھ لمحے خوش زندگی گزارتے تھے لیکن ہم اس دور میں جہاں لوگوں کو سونے اور کام کیلئے وقت کی قلت اور قیمت  ہے کتنا زیادہ وقت شاعری اور اپنے موسیقی پر وقف کر رہے ہیں۔ اور اپنے کلچر یعنی موسیقی اور شاعری کو اسطرح محفوظ کرنے کی وجہ سے ہم  داد تحسین کے مستحق ہیں۔
 
وہ کونسی چیز ہے جسمیں ہم نے موسیقی نہیں لگائی ہے یہ ہمارا اپنے زبان اور موسیقی سے محبت اور شغف کی زندہ مثال ہے۔سال 2021کوہم ڈھول کی تھاپ میں خوش آمدید کی ہے۔ میں یہ دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ سوشل میڈیا میں اکثر چترالی صارف کا سب سے زیادہ فیڈز موسیقی اور شاعری کے ہیں یعنی سوشل میڈیا میں ہمارا میوزک کیلئے کام برابر جاری ہے۔
 
 چند دن پہلے ایک صارف نے سقراط کے فلسفے پر کہوار زبان میں (گوکہ بولنے والے کا لہجہ یا تلفظ شمالی تھا)   ایک آڈیو شئیر کی جسمیں بھی علی ظہور کا ستار تعارف تھی۔ شاید ایک مہینے پہلے یا اُس سے زیادہ وقت پہلے ، اور تو اور گلگت بلتستان کے گوجل ایریا میں مارخور ایک باغ میں اُترکر گھاس کھارہے تھے اُن کے ساتھ بھی ہم نے موسیقی لگا دی۔ ایک دوسرے ویڈیو جسمیں ایک پرندہ جو دو  چوزون کے ساتھ جاتے وقت ہماری میوزک میں رقص پا تھی۔یہ بھی ہم نے سب سے پہلے اپنے میوزک کا آہنگ لگایا گویا ہم نہ صرف اپنے لئے بلکہ چرند وپرند کو بھی چلتے پھرتے اور یہاں تک کہ کھاتے وقت بھی موسیقی میں دیکھنا  چاہتے ہیں۔
 
 ٹی، وی، ریڈیو، فیس بک اور یو ٹیوب پر ہمارا پروگرام اور چینل کا شروع اور آخر موسیقی ہے۔  اور ہم کیا کرسکتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارے صرف  جو مذہبی پروگرامز ہوتے ہیں وہاں ستار یا ڈھول نہیں لا سکتے  یہ ہماری مذہبی مجبوری ہے۔اور ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کیلاش کمیونٹی ہم پر سبقت  صرف اُس پرلے جاتی ہے جوکہ اُن کے مذہب کے  مطابق جب کوئی فوت ہوجاتی ہے وہ اُسے خوشی اور ڈھول  پہ رخصت کرتے ہیں  وگرنہ ہمارا کوئی ثانی نہیں۔
 
کہوو (لفظ کے ساتھ لوگ اکثر قوم کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں) زبان کا لاحقہ اب تک اپنے معنی کے اعتبار سے آہنگ یا دُھن کے معنی تک محدود تھی اب چترال سارا کا سارا سریلا  کر دی ہے۔  یعنی اب چترال میں ہوا، درخت، چرندوپرند، راستے، ابشار، میدان ، کھیتی ، وادی ، سایہ ، بیابان ، پہاڑ اور لوگ  موسیقی ہیں۔ ہماری تمدن شاعری اور تہذیب موسیقی ہے۔ اب ہر چترالی کے زبان میں ایک ردھم اور ٹھہراو ہے  یہی وہ لاحقہ کی پوشیدہ پیداوار ہے جسمیں بات اور کام موسیقی کی ہوتی ہے۔  یہی ہے چترال جس کی زبان (یعنی کہوو وار) کا لاحقہ اور اُس کی پیداوار اور کھیپ جوکہ مارکیٹ میں شاعری اور موسیقی کی شکل میں رچ بسی ہے۔ بس ہمیں صرف وہ دو کام کرنا ہونگے تاکہ اس سے بھرپور فائدہ اُٹھاسکیں۔ اب بھی وہ وقت ہے ہمیں دیر نہیں کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.