Dr Inayatullah Faizi

مہنگائی کا پیمانہ

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
وزیر اعظم عمران خا ن نے سرکاری حکا م پر زور دیا ہے کہ مہنگائی کو ختم کرنے پر توجہ دی جا ئے کیونکہ حکومت کی پہلی ترجیح مہنگا ئی کا خا تمہ ہے عید الفطر کے 10روز گذرنے کے بعد مہنگائی کے دیسی اعداد شمار ہمارے سامنے آگئے ہیں یہ اعداد و شمار محکمہ شما ریات کے پا س نہیں قیمتوں کا جو حساس انڈکس تیار کیا جاتا ہے اس میں بھی ان اعداد شمار کی جھلک ہ میں نہیں ملتی یہ وہ اعداد و شما ر ہیں جنکو مہنگائی معلوم کرنے کا پیمانہ کہا جاتا ہے

شہروں سے دیہات تک، میدا نی علا قوں سے پہا ڑی اضلا ع تک ہر جگہ عید الفطر پر کو رونا ایس او پیز کے با و جود زبردست خریداری ہوئی چا ند رات پر بازار ساری رات کھلے رہے دکا نوں پر خریداروں کا ہجوم امڈ آیا گلی محلوں میں جن گھرا نوں کو صدقہ فطر، زکواۃ اور خیرات کی مد میں مدد پہنچا ئی جا تی تھی ان گھر انوں کی خواتین اور بچوں نے چار چار جوڑے نئے سوٹ بنائے ان گھروں میں عید پر چھوٹے گوشت اور مر غیوں کے سالن سے مہما نوں کی تو ضع کی گئی، عید پر بیکریاں خالی ہو گئیں، پھل اور سبزیوں کی دکا نیں دن رات کاروبار میں مصروف رہیں بازارکی یہ حا لت دیکھ کر سب نے اندازہ لگا لیا کہ مہنگا ئی نے لو گوں کا کچھ نہیں بگا ڑا لوگوں کی قوت خرید پہلے سے زیا دہ ہو گئی ہے اور مہنگائی کو ناپنے کا یہ درست پیما نہ ہے

اگر بازار آباد ہے خریداری زورون پر ہے، لو گ دھڑا دھڑ سودا لیکر گھروں کو لوٹ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مہنگا ئی بہت کم ہے یا با لکل نہیں ہے اس کے مقا بلے میں اگر بازار سنساں ہے قصا ئی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں پھل اور سبزیوں کے بیو پار گا ہکوں کی راہ دیکھ رہے ہیں انا ج کی دکا نوں پر سودا نہیں ہو رہا، بزاز اور جو توں والے اپنی قسمت کو رورہے ہیں تو سمجھو کہ مہنگائی نے لو گوں کی قوت خرید کو شکست دی ہے

اخبارات میں ہر روز جو پرائز انڈکس آتا ہے اس میں آلو، پیاز اور ٹما ٹر کے نر خ دئیے جا تے ہیں دال، چاول، گھی اور دیگر اشیائے صرف کی قیمتیں دی جا تی ہیں یہ نہیں بتا یا جا تا کہ بازار میں خریداری ہو رہی ہے یا نہیں خریداروں کا ہجوم ہے یا نہیں سرد جنگ کے زما نے میں یورپ کے اندر مشرقی جر منی، پولینڈ اور دیگر کمیو نسٹ ممالک میں بازار سنسان ہوتے تھے کوئی خریداری نہیں ہوتا تھا مغربی جر منی سے مشرقی جرمنی میں داخل ہونے والے بازار کو دیکھ کر اندازہ لگا تے تھے کہ ہم کمیونسٹ ملک میں آچکے ہیں جہاں لوگوں میں قوت خرید نہیں ہے بازار میں کوئی خریدار نہیں کاروبار نہیں مہنگائی کونا پنے کا یہ فطری پیما نہ ہے لوگوں کی قوت خرید جواب دیدے تو اندازہ لگا یا جاتا ہے کہ مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے

اس لئے بازار سنساں رہ گئے ہیں اس کے مقا بلے میں جہاں سر ما یہ دارانہ نظام تھا وہاں کے بازار آباد تھے خریدار وں کا ہجوم تھا کاروبار زوروں پر تھا کیونکہ لو گوں کی قوت خرید بہت زیا دہ تھی اس پیما نے کو اگر سال 2021کے عید الفطر پر مہنگا ئی کا اندازہ لگا نے کے لئے سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ مہنگا ئی کی شرح جو بھی ہو، پرائس انڈکس کا جو بھی تخمینہ ہو لو گوں کی قوت خرید کے مقا بلے میں مہنگا ئی زیادہ نہیں اس کا علا ج یہ ہے کہ عوام اپنی ضروریات کو محدود رکھیں، خوراک اور پوشاک سمیت ہر کام میں قنا عت گذاری اور کفا یت شعاری کو اپنا ئیں ہمارے ہاں گذشتہ ایک سال سے اس کا تجربہ ہو رہا ہے ٹما ٹر کا بائیکا ٹ، سیب کا بائیکاٹ، پیاز کا بائیکاٹ ہوا تو نر خ کم ہو گئے

اس طرح کپڑوں اور جو توں کا بائیکاٹ ہو گا تو نرخ کم ہو جائینگے ہر دعوت میں شرکت کے لئے نیا سوٹ لینا بند کرینگے تو بازار میں سوٹ مہنگا نہیں ہوگا، مہنگائی کو کم کرنے کے لئے عوام کو اپنا رہن سہن بدلنا ہوگا لاءف سٹا ئل بدلنا ہوگا اگر فطرانے کا حقدار 4جوڑے کپڑے بنا ئے گا تو مہنگا ئی کبھی ختم نہیں ہوگی فطرانے کا حقدار اپنے گھر میں چھوٹا گوشت اور مر غ مسلم پگا ئے گا تو مہنگا ئی کا جن بے قابو ہی رہے گا مہنگا ئی ختم کرنا صرف حکومت کا کام نہیں اس کا م میں عوام کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *