Dr Inayatullah Faizi

کالم کا مزہ نہیں

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
اگرچہ قارئین کے خطوط کو کا لم میں جگہ دینے کی گنجا ئش نہیں ہو تی تا ہم خطوط جمع ہو جا ئیں تو کچھ نہ کچھ کر نا پڑتا ہے آج میں نے 10خطوط میں سے دو کا انتخا ب کیا ہے کیونکہ خطوط کے مضا مین اور متن ایک جیسے ہیں ہری پور سے عزیز الرحمن اعوان کا خط چٹخا رے پر ہے اور بہت سارے خطوط کا نما ئندہ ہے آپ لکھتے ہیں کہ کا لم کا مزہ نہیں ہے آپ چٹخا رے دار کا لم لکھتے تھے میں 1994ء سے آپ کے کا لم پڑھتا ہوں کا لم کا وہ چٹخا رہ اور مزہ اب نہیں رہا حکمرا نوں کی خبر لینے والا ایک بھی کا لم آج کل نہیں لکھتے تحریک لبیک اور یتیم خا نہ چوک کے واقعے پر زور دار کا لم بن سکتا تھا ٹی ایل پی کو کا لعدم کرنے کے بعد جیل کے اندر کا لعدم والوں سے مذاکرات پر بھی زبردست کالم کی امید تھی 3سا لوں میں چوتھے وزیر خزا نہ کی تشریف آوری پر خا مہ فرسائی کا اچھا موقع آپ نے گنوا دیا

یوں آپ کا کا لم گویا اکسیجن گیس بن چکا ہے ساتویں جما عت میں سا ئنس ٹیچر نے ہ میں رٹہ کروایا تھا کہ ’’ اکسیجن بے رنگ ، بے بو ، بے ذائقہ گیس ہے‘‘ اسی نو عیت کے خطوط میں سے دو بئی سے لکھے گئے خط میں حا جی عبد العزیز انصاری لکھتے ہیں کہ ہم کو جن مو ضو عات پر آپ کے کا لم کا انتظار ہو تا ہے ان مو ضو عات پر آپ نے قلم اٹھا نا بند کر دیا ہے عرب مما لک نے اسرائیل کو اپنے سینے پر مو نگ دلنے کا مو قع دیا آپ نے ایک آدھ کا لم لکھا مگر وہ پہلے والی گھن گرج نظر نہیں آئی امریکہ اور نا ٹو کی فو ج افغا نستا ن سے انخلا کر نا چا ہتی ہے لیکن افغان حکومت اور با غی جنگجو مل کر خا رجی فو جو ں کو نکلنے کا مو قع نہیں دے رہے دونوں کا دال دلیہ بیرنی فو جوں کی مو جود گی سے وا بستہ ہے قا بض فو جیں ڈالروں کے انبار لیکر افغا نستا ن سے نکل گئیں تو حکومت کیا کھا ئیگی با غی جنگجو کس طرح گذارہ کرینگے اگر قطر میں با غی جنگجو وں کے دفتر پر اُٹھنے والے اخرا جا ت پر آپ نے ایک کا لم لکھا تو قارئین کے ہو ش اڑ جا ئینگے میرا جواب یہ ہے کہ میں اپنے قارئین کے ہو ش اڑا دینا نہیں چا ہتا تا ہم گذارش احوال واقعی اس سے الگ ہے لکھاری کا اپنے قاری کے ساتھ ایک تعلق بھی ہو تا ہے ایک معا ہدہ بھی ہو تا ہے تعلق ہے ایک دوسرے کو سمجھنے کا اور معا ہدہ ہے ایک دوسرے کو ہر حا ل میں ساتھ رکھنے کا یہ دونوں بیحد نا زک با تیں ہو تی ہیں

یہ دور مو لا نا ظفر علی خا ن اور مو لا نا محمد علی جو ہر کے زما نے کی طرح ہے ، ہر سال اُن کے اخبار پر پا بندی لگتی تھی پریس کو تا لہ لگ جا تا تھا انگریز مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمہ چلتا تھا جیل اور جر ما نے کی سزا کے بعد اخبار کو دوبارہ شاءع کر نے کی اجا زت ملتی تھی ہم اُس زما نے کے قصے کتا بوں میں پڑھتے ہیں 5جو لائی 1977کے اخبارات کو میں نے خود دیکھا اور پڑھا ہے اگر لائبریری سے فائلیں نکا لی جائیں تو ملک کے بڑے بڑے اردو اور انگریزی اخبارات میں جگہ جگہ خا لی کا غذ نظر آئے گا یہ خا لی کا غذ پہلے صفحے پر بھی آپ کو ملے گا ادارتی صفحے پر بھی آپ کو ملے گا خا لی کا غذ کا مطلب عام قاری نہیں سمجھتا اخباری کا رکنوں کا تجربہ ہو تا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ کا غذ کا یہ ٹکڑا خا لی کیوں ہے ;238; بات یہ ہے رات 10بجے اخبار پریس میں جا نے کے لئے تیار ہوتا ہے اُس نا زک لمحے میں حکومتی نما ئیندہ آکر اخبار میں نا پسند یدہ خبریں، تصویریں اور تحریریں اُچک لے تو اخبار ی کا غذ کا وہ ٹکڑا خا لی رہ جا تا ہے ڈیسک والوں کے پا س اتنا وقت نہیں ہو تا کہ اُن کا پسند یدہ خبریں اور تحریریں لگا کر خا لی خا نے پُر کر دیں چنا نچہ سفید کا غذ رہ جا تا ہے

ریڈیو پا کستان پشاور سے وابستہ احباب آج بھی مزے لے لے کر وہ واقعہ سنا تے ہیں جب 6ستمبر 1977کا یو م دفاع آیا یو م دفاع کے پرو گرام ، فیچر ، ڈرامے اور تقریریں پہلے سے تیار کی گئی تھیں مسودے منظوری کے لئے فائل میں رکھے گئے تھے اوپر سے حکم آیا کہ کوئی ایسا پرو گرام نشر نہ ہو جس میں بھارت کو دشمن کہا گیا ہو، اپنے فو جیوں کو جا نبا ز ، غا زی اور شہید کہا گیا ہو چنا نچہ مسودوں میں سرخ قلم سے کا نٹ چھا نٹ کی گئی میں نے اپنی تقریر ریکارڈ کرائی ، پرو فیسر اشرف بخا ری نے مسودہ پھاڑ کر پھینک دیا اور بطور احتجا ج چا ئے پئیے بغیر ڈیو ٹی روم سے نکل گئے قارئین ہماری مشکلا ت کا اندازہ کریں اور 20سال یا 30سال پہلے والا چٹخا رہ ما نگ کر شر مند ہ نہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *